اس پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے کہ کیوں نہ ریاستوں کو خود داخلہ امتحان منعقد کرنے کی اجازت دی جائے یا مرکزکی نگرانی میں ریاستی سطح پر مشترکہ نظام تیار کیا جائے۔
احتجاج۔ تصویر:آئی این این
انگریزی کی مشہور کہاوت ہے:’’جتنی چیزیں بدلتی ہیں، اتنی ہی ویسی کی ویسی رہتی ہیں۔‘‘ یہ بات ہندوستان کے میڈیکل داخلہ امتحانی نظام، خصوصاً ’’نیٖٹ‘‘ پر حرف بہ حرف صادق آتی ہے جس میں ہر سال بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کے الزامات سامنے آتے رہتے ہیں۔
جب مرکزی حکومت نے پورے ملک کیلئے مشترکہ میڈیکل داخلہ امتحان نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، تب کئی ریاستوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کا مؤقف تھا کہ مختلف تعلیمی بورڈ، زبانوں اور علاقائی حالات کے پیشِ نظر ایک ہی امتحانی نظام تمام طلبہ کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آنے والی بے ضابطگیوں نے ان خدشات کو تقویت فراہم کی ہے۔
پرچوں کے لیک ہونے، فروخت کئے جانے اور مالی اثر و رسوخ کے ذریعے داخلے حاصل کرنے کی خبروں نے گہرے شکوک پیدا کئے ہیں۔ اکثر یہ الزام لگتا ہےکہ سرکاری میڈیکل کالجوں میں سیٹوں کی بڑی تعداد امتحان سے پہلے ہی بااثر اور مالی طور پر مضبوط طبقات کے ذریعے’’مینیج‘‘کر لی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ طلبہ بھی شک کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے ہیں جو خالصتاً اپنی محنت اور صلاحیت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر چند باشعور اور بہادر افراد آگے نہ آتے تو شاید کئی بے ضابطگیاں کبھی منظر عام پر نہ آتیں۔ گزشتہ سال پورے ملک نے دیکھا کہ سنگین الزامات اور ٹھوس شواہد کے باوجود امتحان رد نہیں ہوا بلکہ میڈیکل داخلہ کا عمل مکمل کر لیا گیا حالانکہ امتحانی نظام کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔دوسری جانب اگر جے ای ای کے امتحانی نظام پر نظر ڈالیں تو وہ مختلف مراحل اور الگ الگ شیڈول میں منعقد کیا جاتا ہے۔