Updated: October 27, 2026, 7:12 PM IST
| Lisbon
بلیک آؤٹ کے دوران صرف حفاظتی روشنیاں جلتی رہتی ہیں۔ گھروں کیلئے اپنی روشنیاں بند کرنا لازمی نہیں ہے، حالانکہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ اور نوجوان رضاکار گرے ہوئے پرندوں کو تلاش کرنے اور بچانے کیلئے گاؤں میں گشت کرتے ہیں۔ بچائے گئے نوخیز پرندوں کو رات بھر گتے کے ڈبوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ بحال ہو سکیں اور اگلے دن انہیں سمندر کے قریب ایک چٹان سے چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے انہیں پانی تک پہنچنے کا دوسرا موقع ملتا ہے۔ مہم کے مطابق، ۲۰۱۵ء سے اب تک پورے ایزوریس میں ۳۰ ہزار سے زائد کوریز شیئر واٹر کے نوخیز چوزوں کو بچایا جا چکا ہے۔
ہر سال موسمِ خزاں میں، پرتگال کے ایزوریس جزائر کے سب سے چھوٹے اور انتہائی شمالی جزیرے کورفو پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ۲۰۱۹ء سے، یہاں رہنے والے تقریباً ۴۵۰ باشندے بحرِ اوقیانوس کے مقامی سمندری پرندے، کوریز شیئر واٹر (Cory`s shearwater)، کے نوخیز چوزوں کے تحفظ کی خاطر پانچ راتوں کیلئے عوامی روشنیاں بند کر دیتے ہیں۔
شیئر واٹر کے چوزے سمندر کی جانب اپنی پہلی اڑان بھرنے سے پہلے تین ماہ اپنے گھونسلوں میں گزارتے ہیں اور اڑان کے دوران ستاروں کی مدد سے اپنا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ بہت سے پرندے اسٹریٹ لائٹس کی چمک سے جان لیوا حد تک الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں اور جزیرے کے واحد گاؤں، ویلا دو کورفو، کی تنگ گلیوں میں گر کر حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کورفو کے رہائشیوں نے پہلی بار ۱۹۹۱ء میں کم سن پرندوں کی بڑی تعداد میں اموات کا مشاہدہ کیا اور رات کے وقت ان پرندوں کو بچانا شروع کیا۔ اس کوشش نے دیگر بستیوں کو بھی متاثر کیا اور ۱۹۹۵ء میں ایزوریائی حکومت نے دیگر ۸ جزائر کو شامل کرتے ہوئے ”ایس او ایس کاگارو“ (SOS Cagarro) مہم کا آغاز کیا۔ بعد میں ’پرتگیز سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف برڈز‘ (SPEA) بھی اس میں شامل ہوئی، جس سے اس منصوبے کو وسعت ملی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ کی بھوک اسرائیل میں انتخابی مہم کا ہتھیار جبکہ ۵؍لاکھ فلسطینی امداد سے محروم
ستاروں تلے ریسکیو آپریشن
بلیک آؤٹ کے دوران صرف حفاظتی روشنیاں جلتی رہتی ہیں۔ گھروں کیلئے اپنی روشنیاں بند کرنا لازمی نہیں ہے، حالانکہ بہت سے لوگ ایسا کرتے ہیں۔ گاؤں کے لوگ اور نوجوان رضاکار گرے ہوئے پرندوں کو تلاش کرنے اور بچانے کیلئے گاؤں میں گشت کرتے ہیں۔ بچائے گئے نوخیز پرندوں کو رات بھر گتے کے ڈبوں میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ بحال ہو سکیں اور اگلے دن انہیں سمندر کے قریب ایک چٹان سے چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے انہیں پانی تک پہنچنے کا دوسرا موقع ملتا ہے۔ مہم کے مطابق، ۲۰۱۵ء سے اب تک پورے ایزوریس میں ۳۰ ہزار سے زائد کوریز شیئر واٹر کے نوخیز چوزوں کو بچایا جا چکا ہے، جن میں سے تقریباً ۶ ہزار صرف کورفو میں بچائے گئے۔ کورفو واحد جزیرہ ہے جو عوامی روشنیوں کا مکمل بلیک آؤٹ نافذ کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک کے پارک میں ۸۹؍ ہزار ڈالر کا اے آئی روبوٹ، انسانوں سے میل جول کی تربیت
دیگر خطرات اور امیدیں
بلیاں، شیئر واٹر کے چوزوں کی بڑے شکاریوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ ایس پی ای اے (SPEA) کی ٹیم نے حملوں کو روکنے کیلئے گھونسلوں کے ارد گرد الٹراسونک آلات نصب کئے ہیں۔ سمندری ماہرِ حیاتیات تانیہ پیپا، جو ہر سال جزیرے پر ہر مصنوعی اور قدرتی گھونسلے کا معائنہ کرتی ہیں، نے کہا کہ ”جس دن مجھے ایزوریس میں کوریز شیئر واٹرز کی آوازیں سنائی نہیں دیں گی، وہ یقیناً ایزوریس نہیں رہے گا۔“ فوٹوگرافر ماریو فرنانڈیز، جنہوں نے ۲۰۲۴ء کے دورے پر اس اقدام کے بارے میں جاننے کے بعد اسے دستاویز کیا تھا، کا کہنا تھا کہ اس کا پیغام یہ ہے کہ ہمیشہ امید باقی رہتی ہے، خاص طور پر جب آنے والی نسلوں کو خیال رکھنا سکھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ روشنی کی آلودگی (لائٹ پولوشن) کو کم کرکے کس طرح ماحولیاتی توازن بحال کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ چھوٹی تبدیلیاں حیاتیاتی تنوع پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔