Updated: October 26, 2026, 8:08 PM IST
| Jerusalem
اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے پہلے فلسطینیوں کے خلاف سخت گیر بیانات اور غزہ کی تباہی کو انتخابی تشہیر میں استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ جنگ بندی کے باوجود غذائی امداد میں کمی، اسپتالوں کے لیے ایندھن کی قلت، اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں توسیع اور فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
غزہ میں بھوک، طبی سہولتوں کی تباہی اور مسلسل بے دخلی کے درمیان اسرائیل کی انتخابی سیاست میں فلسطینیوں کی مشکلات کو بھی سیاسی تشہیر کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامر بن گویر نے گزشتہ ہفتے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ویڈیو جاری کی، جس میں غزہ کو ۲۰۳۰ء تک مکمل طور پر تباہ شدہ دکھایا گیا۔ یہ ویڈیو ان کی سخت گیر جماعت ’’جیوِش پاور‘‘ کی انتخابی مہم کا حصہ تھی۔ دوسری جانب، ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے پہلے غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں اور فلسطینی حکام کے مطابق غذائی امداد میں کٹوتی، اسپتالوں کے جنریٹروں کے لیے ایندھن کی کمی اور اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں توسیع نے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ۱۹؍ اکتوبر کو بتایا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث غزہ میں غذائی امداد تقریباً ایک تہائی کم کی جا رہی ہے۔ اس فیصلے سے تقریباً ۵؍ لاکھ فلسطینی امداد سے محروم ہوگئے ہیں، جبکہ امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد ستمبر کے ۱۶؍ لاکھ سے کم ہوکر اکتوبر میں تقریباً ۱۱؍ لاکھ رہ گئی ہے۔ خاندانوں کو دیے جانے والے غذائی پیکٹ بھی کم کیے گئے ہیں؛ پہلے دو پیکٹ ملتے تھے، اب ایک دیا جا رہا ہے، جبکہ گندم کے آٹے کی مقدار بھی گھٹائی گئی ہے۔ روزانہ فراہم کیے جانے والے تیار کھانوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کردی گئی ہے۔ مشکل رسائی والے علاقوں، بالخصوص زرد لکیر کے قریب رہنے والے خاندانوں کو اب روزانہ کے بجائے ایک دن چھوڑ کر کھانا مل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابات سے قبل ایران کے خلاف کارروائی پر نیتن یاہو اور فوجی سربراہ میں اختلاف
ڈبلیو ایف پی کے مطابق فلسطینی علاقوں میں ۲۰۲۶ء کے دوران اس کے کام کے لیے دستیاب مالی وسائل گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئے ہیں۔ ادارے نے اکتوبر ۲۰۲۶ء سے مارچ ۲۰۲۷ء تک غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں امدادی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے ۴۵؍ کروڑ ڈالر کی ضرورت ظاہر کی ہے۔ ادارے کے اندازوں کے مطابق غزہ میں تقریباً ۱۴؍ لاکھ فلسطینی شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور نے بھی امدادی سامان کی ترسیل میں معائنوں کے طریقۂ کار، سرحدی گزرگاہوں کی محدود گنجائش اور نقل و حرکت کی اجازتوں سے متعلق مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔ اس طرح مالی وسائل کی کمی کے ساتھ امداد کی زمینی رسائی بھی بحران کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
غزہ کے اسپتالوں میں بھی صورتحال تشویش ناک ہے۔ فلسطینی وزارتِ صحت نے ۲۱؍ اکتوبر کو خبردار کیا کہ اسپتالوں میں بجلی پیدا کرنے والے جنریٹروں کے لیے ایندھن کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں اور باقی ماندہ ایندھن کی کمی سے اہم طبی خدمات بند ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ وزارت کے مطابق جنریٹروں کو مسلسل چلانے کے لیے اسپتالوں کو ماہانہ ۲۵۰۰؍ لیٹر سے زیادہ ایندھن درکار ہوتا ہے۔ بجلی کی فراہمی بند ہونے اور جنگ کے دوران بجلی کی لائنوں اور تقسیم کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اسپتال بڑی حد تک انہی جنریٹروں پر انحصار کر رہے ہیں۔ یہ جنریٹر آپریشن تھیٹرز، انتہائی نگہداشت کے شعبوں، نومولود بچوں کے انکیوبیٹرز، مصنوعی تنفس کے آلات اور گردوں کے مریضوں کے ڈائلیسس کے لیے ضروری ہیں۔ ان کی بندش کا مطلب صرف اسپتالوں کی معمول کی سرگرمیوں میں رکاوٹ نہیں، بلکہ ایسے مریضوں کی زندگیوں کو براہِ راست خطرہ لاحق ہونا ہے جنہیں مسلسل طبی مدد درکار ہے۔ وزارتِ صحت نے ایندھن کی محدود رسد کو بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے، تاہم دستیاب بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آخری مرتبہ ایندھن کب پہنچا تھا یا موجودہ ذخائر کتنے عرصے تک چل سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اوبامہ نے مہنگائی کیلئے ٹیرف پالیسی اور ایران جنگ کو ذمہ دار ٹھہرایا
دوسری جانب، جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقوں کے پھیلاؤ پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء سے نافذ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد ’’زرد لکیر‘‘ کو فوجی کنٹرول والے علاقے اور فلسطینیوں کی رہائش کے لیے مختص علاقوں کے درمیان حد کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ تاہم، اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور نے ۱۹؍ اکتوبر کو اطلاع دی کہ غزہ شہر کے شجاعیہ محلے کے قریب اس لکیر کی نشان دہی کرنے والے کنکریٹ کے بلاکس کو مزید مغرب کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ ۱۱؍ اکتوبر کو اسرائیلی فوج کے اس علاقے میں آگے بڑھنے کے بعد متعدد خاندانوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی فوج کے زیرِ کنٹرول علاقے میں توسیع سے فلسطینیوں کی اپنے گھروں، زرعی زمینوں اور عوامی سہولتوں تک رسائی محدود ہوتی ہے اور امدادی کارروائیاں مزید مشکل ہوجاتی ہیں۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جون میں کہا تھا کہ فوج غزہ کے تقریباً ۷۰؍ فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے۔ ستمبر میں غزہ کے دورے کے دوران بھی انہوں نے کہا کہ اسرائیل زرد لکیر سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ نیتن یاہو نے مزید انخلا کو حماس کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا ہے، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کے معاملے پر اسرائیلی انخلا کے مرحلہ وار اور منظم عمل کے ساتھ بات ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، سیکڑوں فلسطینی بے گھر
غزہ کی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں فلسطینی ہلاکتیں بھی بڑھیں۔ ۲؍ سے ۲۱؍ اکتوبر کے دوران ۹۵؍ فلسطینی ہلاک ہوئے، جبکہ ستمبر میں اسی عرصے کے دوران یہ تعداد ۶۸؍ تھی، یعنی تقریباً ۴۰؍ فیصد اضافہ۔ وزارت کے مطابق جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے ۲۱؍ اکتوبر تک غزہ میں ۱۵۳۴؍ فلسطینی ہلاک ہوچکے تھے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے مجموعی فلسطینی ہلاکتوں کی تعداد ۷۴۴۹۴؍ اور زخمیوں کی تعداد ۱۷۵۶۰۴؍ بتائی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار غزہ کی وزارتِ صحت کے ہیں۔
ان حالات میں اسرائیل کی انتخابی مہم کا ایک نمایاں پہلو فلسطینیوں کے مستقبل کے بجائے سلامتی اور حماس کے خلاف سخت گیر مؤقف پر زور ہے۔ بن گویر کی جماعت کی جانب سے غزہ کی تباہی دکھانے والی مصنوعی ذہانت کی ویڈیو اس سیاسی ماحول کی مثال ہے۔ یوں ایک طرف اسرائیل میں امیدوار فلسطینیوں کے خلاف سخت مؤقف کو انتخابی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تو دوسری طرف غزہ میں خوراک، ایندھن اور طبی سہولتوں کی کمی عام شہریوں کی زندگیوں کو مزید غیر یقینی بنا رہی ہے۔