Inquilab Logo Happiest Places to Work

امبرناتھ۔ بدلاپور میں اسکول بسوں کے کرایوں میں ۱۰ ؍فیصد اضافہ ہوگا

Updated: June 10, 2026, 11:14 AM IST | Ejaz Abduilghani | Badlapur

امبرناتھ اور بدلاپور شہر کے تقریباً ۱۵۰ ؍اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو لانے اور لے جانے والی امبرناتھ بدلاپور اسکول بس اسوسی ایشن نے آئندہ جولائی سے بس کرایوں میں ۱۰ ؍فیصد اضافہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

Members Of The Ambernath Badlapur School Bus Association Can Be Seen.Photo:INN
امبرناتھ بدلاپور اسکول بس اسوسی ایشن کے اراکین دیکھے جا سکتے ہیں۔تصویر:آئی این این
 امبرناتھ اور بدلاپور شہر کے تقریباً ۱۵۰ ؍اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو لانے اور لے جانے والی امبرناتھ بدلاپور اسکول بس اسوسی ایشن نے آئندہ جولائی سے بس کرایوں میں ۱۰ ؍فیصد اضافہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور دیگر اخراجات بڑھنے کی وجہ سے مجبوری میں لیا گیا ہے۔ تاہم اس فیصلے نے ان والدین کی نیندیں اڑا دی ہیں جو پہلے ہی اسکول کی فیس اور تعلیمی اشیاء کی گرانی کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
مشرقی وسطی میں جاری جنگی صورتحال کے باعث گزشتہ چند دنوں سے ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ پٹرول، ڈیزل اور سی این جی کے نرخوں میں گزشتہ ۲؍ ماہ کے دوران بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کا براہِ راست اثر مسافر اور طویل فاصلے کی گاڑیوں کے کرایوں پر پڑا ہے۔ اب ایندھن کی اس قیمت کا خمیازہ اسکول کے  طلبہ اور ان کے سرپرستوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ 
 
 
امبرناتھ۔بدلاپور اسکول بس اسوسی ایشن کے صدر لکشمی کانت نے اس اضافے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ روز بروز بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں، ٹائر اور گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس کے بڑھتے ہوئے دام،جی ایس ٹی،طلبہ کی حفاظت کیلئے لازمی قرار دئیے گئے سی سی ٹی وی کیمرے، بس ملازمین اور ریجنل ٹرانسپورٹ آفس ( آر ٹی او) کی جانب سے گاڑیوں کے فٹنیس ٹیسٹ کی بڑھی ہوئی فیس کی وجہ سے اب بسیں چلانا ناممکن ہو چکا تھا۔ہم نے والدین پر زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کی خاطر صرف ۱۰ ؍فیصد کا کم سے کم اضافہ کیا ہے۔
 
 
دوسری جانب والدین نے اس فیصلے پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر ہی اسکول فیس، کتابوں، یونیفارم اور دیگر تعلیمی اخراجات کے ساتھ بس کرایوں میں اضافہ ان کے ماہانہ بجٹ کو بری طرح متاثر کرے گا۔ خاص طور پر ایسے خاندان جن کے ۲؍ یا اس سے زیادہ بچے اسکول جاتے ہیں اس اضافی مالی بوجھ کو برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ والدین نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول بس اسوسی ایشن اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے یا پھر مقامی انتظامیہ اور ریاستی حکومت اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کوئی مناسب اور متوازن حل نکالے تاکہ والدین اور ٹرانسپورٹ آپریٹروں دونوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK