۵؍مساجد کو شہید کیا گیا ۔ نوٹس بھی جاری ۔ انہدامی کارروائی کے خلاف ۱۲؍ جون کو احتجاج کی تیاری۔
شہید کی گئی ایک مسجد کا ملبہ۔دوسری تصویر میں رضااکیڈمی کے وفد میں شامل افراد پرکاش امبیڈکر سے گفتگو کرتے ہوئے۔تصاویر:آئی این این
پونے کے ۱۸؍ سے زائدمدارس و مساجد کو شہید کرنے کا نوٹس اور۵؍ مدارس ومساجد کو شہید کرنے سے ٹرسٹیان اور مقامی مسلمانوں میں شدید بے چینی اور ناراضگی پائی جارہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ کارروائی پمپری چنچوڑمہانگر پالیکا(پونے ) کے ٹاؤن پلاننگ محکمے کی جانب سے ترقیاتی پروجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کی جارہی ہے۔ اس میں مدرسہ ومسجد کے علاوہ متعدد مندر بھی شامل ہیں جنہیںتوڑا گیا ہے۔
پونےمیں خاص طور پر یہ کارروائی کڈال واڑی اور چکھلی علاقے میںکی جارہی ہے ۔ مقامی ذمہ داران کے مطابق پیر کی رات میں شہید کی جانے والی مساجد میں کڈال واڑی کی چشتیہ مسجد ، مسجد ابو ہریرہ ، مسجد نعیم ، مسجد علی اور مسجد خدیجہ (کوہ نور کالونی ) شامل ہیں۔ واضح ہوکہ یہ مسئلہ ایک سال قبل سے چل رہا ہے۔ اس دوران مسجد اور مندر ملاکر ۳۲؍ عبادت گاہیں توڑنے کا کارپوریشن کی جانب سے یہ کہہ کرحوالہ دیا گیا تھا کہ سڑک کوکشادہ کرنا ہے اور ترقیاتی پروجیکٹ کو آگے بڑھانا ہے۔ اس پر اُس وقت برادران وطن کی جانب سے پُرزور مخالفت کی گئی تھی اور اسے بھومی پتروں پرزیادتی قرار دے کر جگہ جگہ بینر بھی آویزاں کئے گئے تھے جبکہ مسلمانوں کی جانب سے بھی شدید مخالفت اورصدائے احتجاج بلند کیا گیا تھا۔ اب بھی وہی صورتحال پیش آئی ہے۔
مساجد کو کس طرح کا نوٹس دیا گیا ہے، اس کی ایک مثال یہاں دیکھی جاسکتی ہے ۔ پمپری چنچوڑ مہانگر پالیکا کی جانب سے ملند نگر جھوپڑپٹی میں واقع جامع مسجد ،جماعت لطیفیہ کے تعلق سے ۲؍جون کو جاری کردہ نوٹس میںلکھا گیا ہےکہ مقامی لوگوں نے اس غیرقانونی مسجد کے تعلق سے شکایت کی ہے۔اس لئے ہم ریاستی حکومت اور شہری ترقیاتی محکمہ کے ایکٹ ۱۹۶۶؍ کی دفعہ ۵۳؍ (۱) کےتحت آپ کو نوٹس دیتے ہوئے آگاہ کر رہے ہیں کہ ۱۱؍جون کو۳؍ بجے شہری ترقیاتی محکمے کے انجینئر کے دفتر میں شنوائی رکھی گئی ہے ۔آپ ضروری کاغذات اوراجازت نامہ وغیرہ لے کر دوسری منزل پرمذکورہ دفتر میںوقت پرحاضر رہیں۔
عبادت گاہوں کےخلاف کارپوریشن کی جانب سے کی جارہی کارروائی کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرنے اوریہ کارروائی فوراً روکنے کےلئے ٹرسٹیان اوردیگر ذمہ داران کی جانب سے ۱۲؍ جون کوکارپوریشن کےدفتر کے سامنے پُرامن احتجاج کی تیاری کی جارہی ہے۔
اسی تعلق سےرضااکیڈمی کے سربراہ محمد سعید نوری ، دیگر علماء اورچند ٹرسٹیان پر مشتمل ایک وفدنے منگل کی سہ پہر۴؍بجے پرکاش امبیڈکر سے پونے کے شیواجی نگر علاقے میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ وفد میں رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج سعید نوری، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا عباس رضوی ، مولانا مختار مصباحی، مولانا تنویر رضا اور مولانا فضلِ رسول وغیرہ شامل تھے۔ دورانِ ملاقات تمام تفصیلات بغور سننے کے بعد پرکاش امبیڈکر نے شرکائے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اپنی بساط بھر کوشش کریں گے اور مساجد کو انہدامی کارروائی سے بچانے اور قانونی تحفظ کیلئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ماہر وکلاء کی ایک ٹیم فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ا نہوںنے مساجد کے قانونی دستاویزات کو منظم، مکمل اور مضبوط کرنے کے حوالے سے ضروری رہنمائی اور گائیڈ لائنز بھی فراہم کیں۔