Updated: October 29, 2026, 8:09 PM IST
| New York
کیوبا پر امریکی ناکہ بندی، جو پہلی بار ۱۹۶۰ء میں فیڈل کاسترو کے انقلاب کے بعد عائد کی گئی تھی، نے طویل عرصے سے جزیرے کی معیشت کو بدحال کر رکھا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی فوجی مداخلت کا امکان ظاہر کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ جنگی جہاز ایران کی جنگ سے واپسی پر کیوبا میں رک سکتے ہیں۔ جنوری کے اواخر میں ٹرمپ نے کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے کسی بھی ملک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جنرل اسمبلی میں امریکی سفیر اور کیوبن وزیر کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ تصویر: ایکس
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بدھ کے روز بھاری اکثریت سے کیوبا پر امریکی اقتصادی ناکہ بندی کی مذمت کی، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ کے بعد متعدد ممالک نے ۳۴ سال میں پہلی بار قرارداد میں حصہ لینے سے گریز کیا (ووٹ نہیں دیا) یا قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ ووٹنگ کا تناسب ۱۷ کے مقابلے ۱۳۰ رہا، جبکہ ۲۵ ارکان غیر حاضر رہے؛ جو گزشتہ سال کے ۷ کے مقابلے ۱۶۵ ووٹوں اور ۱۲ غیر حاضریوں سے کم ہے۔ جرمنی، اٹلی اور لیٹویا نے تین دہائیوں سے زائد عرصے میں پہلی بار ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ لتھوانیا، سلووینیا اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے روایت توڑتے ہوئے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ کوسٹاریکا، کولمبیا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو، ہونڈوراس اور چلی، جو پہلے کیوبا کے حامی تھے، نے بھی اس قرارداد کی مخالفت کی یا ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں کے باعث نصف آبادی اپنی خوراک کم کرنے پر مجبور
امریکی سفیر اور کیوبن وزیر کے درمیان تلخ کلامی
منگل کے روز امریکی سفیر مائیک والٹز اور کیوبا کے وزیرِ خارجہ برونو روڈریگیز جنرل اسمبلی کے فلور پر آپس میں الجھ پڑے۔ روڈریگیز نے پوڈیم کے قریب جا کر والٹز کو جھوٹا قرار دیا، جس پر والٹز نے جواب دیا، ”اس شخص کو اس پوڈیم سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے۔ وہ مجھے ڈرا دھمکا نہیں سکتا... تم سمجھتے ہو تمہارا واسطہ کس سے ہے؟ یہ امریکہ ہے۔ پیچھے ہٹو۔“ بعد میں روڈریگیز نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ”کیوبا کے خلاف اپنی معاشی جارحیت کو جائز قرار دینے کی ایک اور مایوس کن کوشش کر رہا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ورلڈ بینک کا خوراک کے بحران کا انتباہ، موسمی تبدیلی کے سبب سپلائی متاثر
کیوبا پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ
کیوبا پر امریکی ناکہ بندی، جو پہلی بار ۱۹۶۰ء میں فیڈل کاسترو کے انقلاب کے بعد عائد کی گئی تھی، نے طویل عرصے سے جزیرے کی معیشت کو بدحال کر رکھا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں امریکی فوجی مداخلت کا امکان ظاہر کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ جنگی جہاز ایران کی جنگ سے واپسی پر کیوبا میں رک سکتے ہیں۔ جنوری کے اواخر میں ٹرمپ نے کیوبا کو تیل فروخت کرنے والے کسی بھی ملک پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جس نے ایندھن کی سپلائی کو مؤثر طریقے سے منقطع کر دیا اور پورے جزیرے میں پانی، کھانا پکانے اور مواصلاتی خدمات کو متاثر کرنے والی بجلی کی وسیع پیمانے پر بندش کو جنم دیا۔