• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ بینک کا خوراک کے بحران کا انتباہ، موسمی تبدیلی کے سبب سپلائی متاثر

Updated: October 29, 2026, 2:09 PM IST | New York

ورلڈ بینک نے خوراک کے بحران سے خبردار کیا کیونکہ جنگ، موسمی جھٹکے سپلائی کو متاثر کر رہے ہیں، ادارے کا اندازہ ہے کہ۲۰۲۶ء میں خوراک کی قیمتوں میں۱۰؍ فیصد اضافہ ہوگا، اگلے سال مزید اضافہ ہوگا کیونکہ جنگیں اور ال نینو پیداوار میں خلل ڈال رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ۲۰۲۶ء کے آخر تک عالمی اجناس کی قیمتوں میں۲۳ء فیصد اضافہ ہونا طے ہے، ایران پر جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر ہیں اور عالمی تنازعات اور ال نینو کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ورلڈ بینک کے نائب چیف اکانومسٹ ایہان کوس نے بدھ کو تنظیم کی کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لک رپورٹ کے اجرا کے ساتھ جاری ایک بیان میں کہا، ’’اجناس کی منڈیاں ایک ساتھ کئی بڑے جھٹکوں کی زد میں ہیں۔‘‘زیادہ توانائی کے اخراجات اور تجارتی رکاوٹیں مختلف قسم کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر رہی ہیں، جس سے افراط زر، خوراک کے عدم تحفظ اور اقتصادی ترقی کے مزید خراب ہونے کا خطرہ ہے۔‘‘ توقع ہے کہ تنازعات سے متاثرہ اناج کی سپلائی لائنوں، انتہائی ال نینو رجحان کے اثرات اور ایندھن اور کھاد کی زیادہ  قیمتوں کی وجہ سے۲۰۲۶ء میں خوراک کی قیمتوں میں۱۰؍ فیصد اور اگلے سال مزید سات فیصد اضافہ ہوگا۔
واضح رہے کہ ال نینو ایک قدرتی طور پر پایا جانے والا موسمی رجحان ہے جو اس سال سیارے کے بیشتر حصے میں زیادہ درجہ حرارت لانے کے لیے تیار ہے، اس کے اثرات انسانوں کےپیدا کردہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو مزید بڑھا رہے ہیں۔خوراک پیدا کرنے والوں کے لیے، توقع ہے کہ یہ متعدد خطوں میں مزید سیلاب، خشک سالی اور گرمی کے دباؤ کا باعث بنے گا۔ورلڈ بینک کی رپورٹ میں،  یہ فرض کرتے ہوئے کہ ایران اور یوکرین میں تنازعات میں شدت نہیں آتی، کہا گیا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں، اس سے پہلے کہ ۲۰۲۷ء حالات میں اعتدال آئے اس سال۳۲؍ فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا ڈیزل مذاکرات کے درمیان روسی انویسٹمنٹ فنڈ پر پابندی ہٹانے پرغور: رپورٹ

بعد ازاں فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے عالمی توانائی اور کھاد کی قیمتوں نےآسمان چھو لیا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ تشدد کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ایران نے خطے میں امریکہ کے اتحادیوں پر حملوں کے ساتھ جواب دیا اور آبنائے ہرمز، جو تیل، قدرتی گیس اور کھاد کی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، کا تقریباً گلا گھونٹ دیا۔تاہم ورلڈ بینک کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خاص طور پر مضبوط ال نینو، روس-یوکرین جنگ کے دوران بحیرہ اسود میں اناج کی ترسیل پر حملوں میں شدت یا ایران جنگ سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ خوراک کے بحران کا باعث بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے، ایک منفی منظر نامے میں جس میں یہ خطرات ایک ساتھ سامنے آتے ہیں، برینٹ۲۰۲۷ء میں اوسطاً۱۰۵؍ ڈالر فی بیرل ہو سکتا ہے اور خوراک کی اشیاء کی قیمتیں بنیادی پیشن گوئی میں متوقع سے۱۲؍ فیصد زیادہ ہو سکتی ہیں، جو۲۰۲۲ء میں اپنی سطح سے تجاوز کر جائیں گی۔‘‘ جبکہ ایران پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے، ورلڈ بینک نے کمزور ممالک کے لیے ہنگامی مدد کے طور پر ۸؍ اعشاریہ ۷؍بلین ڈالر فراہم کیے ہیں۔کوس نے کہا، ’’ترجیح غریب ترین لوگوں کی حفاظت اور کم آمدنی والے ممالک کی مدد کرنا ہونی چاہیے جو پہلے سے ہی بھاری قرضوں کے بوجھ سے نبرد آزما ہیں۔‘‘علاوہ ازیں مشرق وسطیٰ اور روس اور یوکرین کے درمیان جنگوں کے اثرات کی وجہ سے۲۰۲۶ء میں عالمی تیل کی سپلائی میں۵؍ اعشاریہ ۲؍ فیصد کمی کا امکان ہے، جو وبائی مرض سے باہر چار دہائیوں سے زیادہ عرصے میں سب سے بڑی کمی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سربیا کے انتخابات میں طلبہ کی حمایت یافتہ اپوزیشن کی تاریخی کامیابی، سابق صدر نے ہار تسلیم کر لی

رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ عالمی تیل کی قیمتوں کی پیشن گوئی اب بھی زیادہ ہوتی اگر اس سال تیل کی کھپت میں ۲؍ اعشاریہ ۵؍فیصد کمی کی پیشن گوئی نہ کی جاتی، جو کووڈ وبائی مرض اور۱۹۸۰؍ کے تیل کے بحران کے بعد تیسری سب سے بڑی کمی ہے۔تاہم خوراک، توانائی اور مجموعی طور پر اجناس کی قیمتوں کی پیشن گوئیاں اپریل میں بینک کی سابقہ پیشن گوئیوں سے کہیں زیادہ تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK