مغربی ایشیا کے بحران کے پیشِ نظر مختلف خدشات اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ اس بحران کے باوجود ملک میں کھادوں ، پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
EPAPER
Updated: March 30, 2026, 8:59 PM IST | New Delhi
مغربی ایشیا کے بحران کے پیشِ نظر مختلف خدشات اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ اس بحران کے باوجود ملک میں کھادوں ، پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
مغربی ایشیا کے بحران کے پیشِ نظر مختلف خدشات اور قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ اس بحران کے باوجود ملک میں کھادوں ، پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کے وافر ذخائر موجود ہیں اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
کھاد کی دستیابی، پیداوار، درآمد اور نقل و حمل کی مسلسل نگرانی کے لیے ایک ہنگامی ’وار روم‘ قائم کیا گیا ہے۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ سپلائی کو برقرار رکھا جائے گا اور کسانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مغربی ایشیا کی صورتحال پر پیر کو ہونے والی بین وزارتی بریفنگ میں متعلقہ وزارتوں کے حکام نے کہا کہ ملک میں کھادوں کا وافر ذخیرہ دستیاب ہے اور کسانوں کو پہلے کی طرح پرانی قیمتوں پر ہی سپلائی فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوریا یونٹوں کو گیس کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں اور کھادوں کی درآمد کے لیے کئی دوسرے ممالک سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی کھادوں کی غیر قانونی ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور کالابازاری پر بھی سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔ رسوئی گیس (ایل پی جی) کے محاذ پر کمپنیاں گھریلو اور تجارتی پی این جی کنکشنز کو فروغ دینے کے لیے مراعات دے رہی ہیں، جبکہ صنعتی سطح پر آن لائن ایل پی جی بکنگ میں تقریباً ۹۵؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:شمالی امریکہ میں ’’دُھرندھر ۲‘‘ نے ’’باہو بلی ۲‘‘ کا ۹؍ سالہ ریکارڈ توڑ دیا
حکام نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے میں ۵؍ کلوگرام والے ۶ء۲؍ لاکھ سے زیادہ ایف ٹی ایل سلنڈر فروخت کیے گئے ہیں، جن میں سے گزشتہ ۲؍ دنوں میں ۸۸؍ہزار سے زیادہ سلنڈر نقل مکانی کرنےوالے مزدوروں کو دیے گئے۔ گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں ۲۵۰۰؍ سے زائد چھاپے مار کر۲؍ہزار سے زائد غیر قانونی سلنڈر ضبط کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اسپنرز کے جال میں پھنسی ویسٹ انڈیز کی خاتون ٹیم کی شکست، آسٹریلیا کا سیریز پر قبضہ
مغربی ایشیائی ممالک سے پروازوں کی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے اور ۲۸؍ فروری سے اب تک تقریباً ۵۵۰۰۰۰؍ مسافر وطن لوٹ چکے ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ خلیجی خطہ کھاد کی درآمد کا ایک اہم ذریعہ ہے، جہاں سے ہندوستان اپنی ضرورت کا۲۰؍ سے ۳۰؍ فیصد یوریا اور ۳۰؍ فیصد ڈی اے پی درآمد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی ایل این جی درآمد کا تقریباً ۵۰؍ فیصد حصہ بھی اسی خطے سے آتا ہے، جو یوریا کی تیاری کے لیے ایک بنیادی خام مال ہے۔