زراعت ، کسان کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے پیر کو پرالی اور زرعی باقیات سے ڈامر بنانے کی تکنیک کی منتقلی کو ہندوستان کے مستقبل کے لیے ایک تاریخی اور شاندار کامیابی قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 30, 2026, 10:12 PM IST | New Delhi
زراعت ، کسان کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے پیر کو پرالی اور زرعی باقیات سے ڈامر بنانے کی تکنیک کی منتقلی کو ہندوستان کے مستقبل کے لیے ایک تاریخی اور شاندار کامیابی قرار دیا ہے۔
زراعت ، کسان کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے پیر کو پرالی اور زرعی باقیات سے ڈامر بنانے کی تکنیک کی منتقلی کو ہندوستان کے مستقبل کے لیے ایک تاریخی اور شاندار کامیابی قرار دیا ہے۔انہوں نے یہ بات یہاں کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کے ہیڈ کوارٹر میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب ’’فارم ریزیڈیو ٹو روڈز‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ پروگرام کھیتوں میں کٹائی کے بعد بچ جانے والی زرعی باقیات سے سڑک بنانے میں استعمال ہونے والے تارکول یا ڈامر بنانے کی تکنیک زرعی سائنسدانوں کے حوالے کرنے کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔
چوہان نے سائنسدانوں کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پرالی سے ڈامر بنا کر سڑک کی تعمیر تک کا یہ سفر نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گا بلکہ ماحولیاتی تحفظ اورآتم نربھر بھارت (خود کفیل ہندوستان) کے عزم کو بھی پورا کرے گا۔ اس موقع پر مرکزی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور ملک کے معروف سائنسدان اور کسان نمائندے بھی موجود تھے۔
چوہان نے کہا کہ پرالی جلانے سے نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ مٹی میں موجود بے شمار خوردبینی جانداروں اور کیڑے مکوڑوں کی زندگی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کسانوں کی مجبوری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دھان کی کٹائی اور گندم کی بوائی کے درمیان کم وقت ہونے کی وجہ سے کسان اسے جلانے پر مجبور تھے، لیکن اب پرالی سے ڈامر بنانے کی بایو بٹومین تکنیک نے پرالی کو ایک قیمتی وسائل میں بدل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:۱۱؍دن بعد’’دُھرندھر۲‘‘ کا نیا ورژن ریلیز، آدتیہ دھر کی پیک ڈیٹیلنگ میں غلطی ہوئی تھی
انہوں نے بتایا کہ بایو بٹومین کی ملکی سطح پر تیاری سے بیرون ملک سے ڈامر منگوانے کے اخراجات میں بھاری کمی آئے گی، جس سے ملک کو تقریباً ساڑھے چار ہزار کروڑ روپے کا براہ راست معاشی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ’’محنت کے پسینے اور ٹیکنالوجی کی روشنی" کے سنگم سے اب ملک بھر میں بایو بٹومین کی سڑکوں کا جال بچھے گا اور‘‘جے جوان، جے کسان، جے وگیان، جے انوسندھان‘‘ کا نعرہ ایک طاقتور ہندوستان کی شکل میں گونجے گا۔
یہ بھی پڑھئے:انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی توجہ کاؤنٹی کرکٹ پر نہیں ہے: ڈیرن لیہمن
تقریب میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹوں کے درمیان ہندوستان کا خود کفیل بننا لازمی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ جس طرح ہندوستان نے اپنی ویکسین خود تیار کی، اسی طرح اب سڑکوں کی تعمیر میں بھی میک ان انڈیا کی شراکت بڑھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کچرے سے خوشحالی کے اس تصور سے نہ صرف سڑکوں کی نقل و حمل کے شعبے کو مضبوطی ملے گی بلکہ یہ ہندوستان کے نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کی جانب بھی ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔