مرکزی حکومت کے۵۵؍ لاکھ ملازمین اور ۶۹؍ لاکھ پنشن یافتگان کو آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ۱۸؍ تا ۲۴؍ مہینوں کے بقایا جات ملیں گے، بنیادی تنخواہ ۴۵؍ ہزار تک پہنچنے کی امید۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 11:24 AM IST | New Delhi
مرکزی حکومت کے۵۵؍ لاکھ ملازمین اور ۶۹؍ لاکھ پنشن یافتگان کو آمدنی میں اضافہ کے ساتھ ۱۸؍ تا ۲۴؍ مہینوں کے بقایا جات ملیں گے، بنیادی تنخواہ ۴۵؍ ہزار تک پہنچنے کی امید۔
مرکزی حکومت نے آٹھویں پے کمیشن کی شرائط وضوابط (ٹرمز آف ریفرنس) کو منظوری دے دی ہے۔ اس سے مرکزی حکومت کے تقریباً۵۵؍ لاکھ ملازمین اور۶۹؍ لاکھ پنشن یافتگان کی تنخواہوں، پنشن اور الاؤنسز میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ کمیشن کو ۱۸؍ ماہ میں اپنی سفارشات پیش کرنا ہے۔ نئے پےکمیشن کی مدت یکم جنوری ۲۶ء سے شروع ہو چکی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اسے ۲۷ءکے آخر تک نافذ کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد ملازمین کو تقریباً۱۸؍ سے۲۴؍ماہ کے بقایاجات (ایریئر) بھی مل سکتے ہیں۔ایک طرف جہاں سرکاری ملازمین منتظر ہیں کہ آٹھویں پے کمیشن کے تحت ان کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہوگا وہیں کمیشن اپنی حتمی سفارشات مرتب کرنے سے قبل ملازمین کی یونینوں، پنشن یافتگان کی تنظیموں، مختلف وزارتوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے صلاح و مشورہ کر رہا ہے۔ اس میں سب سے اہم نکتہ ’’فٹ مینٹ فیکٹر‘‘ ہے جو یہ طے کرے گا کہ تنخواہوں اور پنشن میں کتنا اضافہ ہوگا۔
فِٹ مینٹ فیکٹر کیا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
فٹ مینٹ فیکٹر وہ ہندسہ ہے جو بنیادی تنخواہ (بیکسک سیلری) میں اضافہ کی شرح طے کرتا ہے۔ مثال کے طور پر ساتویں پے کمیشن نے فٹ مینٹ فیکٹر ۲ء۵۷؍ طے کیاتھا۔ اس کا نفاذ ۲۰۱۶ء میں ہواتھا۔ اس طرح جس کی بنیادی تنخواہ یا پنشن ۱۵؍ ہزار روپے تھی وہ(۱۵۰۰۰x۲ء۵۷؍ کے بعد ) ۳۸؍ ہزار ۵۵۰؍ روپے ہو گئی تھی۔ آٹھویں پے کمیشن کیلئے مرکزی سرکار کے ملازمین کی یونینوں اور تنظیموں نے بنیادی طور پر فٹمنٹ فیکٹر میں اضافے اور کم از کم بنیادی تنخواہ میں نمایاں بڑھوتری کا مطالبہ کیا ہے۔ بعض یونینوں نے فٹمنٹ فیکٹر کو۳؍ سے۵؍یا اس سے بھی زیادہ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم پنشن کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اتنا بڑا اضافہ مالی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ماہرین کے مطابق کمیشن کم از کم تنخواہ کے حساب کے طریقہ کار میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ اس کیلئے خاندان کی کھپت کی اکائیوں (کنزمپشن یونٹس) کی تعداد تین سے بڑھا کر پانچ کی جا سکتی ہے اور فٹ مینٹ فیکٹر کو۲ء۶۴؍ تک کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
تنخواہ کتنی بڑھ سکتی ہے؟
تنخواہ میں حتمی اضافہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کمیشن کیا سفارش کرتا ہے اور حکومت کن سفارشات کو منظوری دیتی ہے۔ فرض کریں کسی ملازم کی بنیادی تنخواہ۱۰۰؍روپے ہے۔۶۰؍ فیصد مہنگائی بھتہ(ڈی اے) شامل کرنے کے بعد اس کی کل آمدنی ۱۶۰؍روپے ہو جاتی ہے۔ اگر نئے فٹ مینٹ فیکٹر کے بعد بنیادی تنخواہ بڑھ کر۲۰۰؍روپے ہو جائے تو موجودہ۱۶۰؍ روپے کے مقابلے میں اس کی مؤثر تنخواہ میں تقریباً۲۵؍فیصد اضافہ ہوگا۔
اگر حکومت موجودہ فٹ مینٹ فیکٹر ۲ء۵۷؍ سے بڑھا کر ۳؍ کر دیتی ہے تو کم از کم بنیادی تنخواہ میں۱۵؍ سے۲۰؍ فیصد سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں۱۵؍ ہزار روپے کی بنیادی تنخواہ سیدھے۴۵؍ ہزار روپے ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: سیاسی تنازعات کا سب سے زیادہ اثر ترقی پذیر ممالک پر ہوتا ہے: نرملا سیتا رمن
پے کمیشن کا ریاستوں کا دورہ
فی الحال آٹھواں پےکمیشن مختلف ریاستوں کا دورہ کر رہا ہے۔ کمیشن کی ٹیم ملازمین کی انجمنوں اور یونینوں سے ملاقاتیں کر رہی ہے۔اس دوران ملازمین کے مطالبات اور ان کی تجاویز پر مبنی میمورنڈم جمع کئے جارہے ہیں۔ یونینوں نے بنیادی طور پر تنخواہوں میں نظرثانی اور ریٹائرمنٹ کے بعد حاصل ہونے والے فوائد میں بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔اگرچہ ۸؍ ویں پے کمیشن کو یکم جنوری۲۶ء سے نافذ تصور کیا گیا ہے لیکن اس کے کام کو مکمل ہونے میں تقریباً۱۸؍ماہ لگنے کی توقع ہے۔کمیشن نے میمورنڈم جمع کرانے کی آخری تاریخ بڑھا کر۱۵؍جون۲۶ءکر دی ہے۔ اس کے بعد تمام متعلقہ فریقوں کی تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا اور حتمی سفارشات تیار کی جائیں گی۔
حکومت پر بقایا جات کا بوجھ
ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر رپورٹ جون یا جولائی۲۰۲۷ء تک پیش کی جاتی ہے تو حکومت پر بقایاجات (ایریئر) کی ادائیگی کا بوجھ کافی بڑھ جائے گا۔ سفارشات منظور اور نافذ ہونے کے بعد حکومت درمیانی مدت کا پورا ایریئر ملازمین کو ادا کرے گی۔فی الحال ملازمین کی تنظیمیں فٹ مینٹ فیکٹر زیادہ رکھنے اورریٹائرمنٹ کے بہتر فوائد کی کوشش کررہی ہیں اور اس کیلئے دباؤ ڈال رہی ہیں، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ ملک کی مالی حالت کو مدنظر رکھ کر ہی کیا جائے گا۔ قوی امید ہے کہ ۲۰۲۷ء کے اواخر تک تنخواہوں میں اضافہ ہوجائےگا۔