ہائی کورٹ نے دونوں شہری انتظامیہ کے کمشنروں کو فضائی آلودگی پرقابو پانے میں ناکامی کی صورت میں متعلقہ محکموں کے افسران کی تنخواہیں روکنے اور سخت کارروائی کاحکم دیا۔
زیرنظرتصویر سے ممبئی میں فضائی آلودگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ تصویر:آشیش راجے
فضائی آلودگی پر قابو پانے میں مسلسل ناکامی اور بارہا ہدایات اور حکم کے باوجود مختلف شہری انتظامیہ کے ذریعہ حکم عدولی پر بامبے ہائی کورٹ برہم ہو گیا ۔ عدالت نے اس ضمن میں شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کمشنروں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ مسئلہ پر سنجیدگی اختیار نہ کرنے پرمتعلقہ افسروں کے خلاف نہ صرف سخت محکمہ جاتی کارروائی کی جائے بلکہ ان کی تنخواہیں روک دی جائیں ۔کورٹ نے اس مسئلہ پر سنجیدگی اختیار نہ کرنے پر کمشنروں کو بھی سخت رویہ کا سامنا کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔
ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر اور جسٹس گوتم اے انکھڈ نے شہر میں ہوا کے گھٹتے معیار،فضائی آلودگی ، خصوصی طو رپرشہر میں جاری تعمیراتی پروجیکٹوں کی وجہ س آلودگی سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہونے اور شہریوں کے طبی مسائل سے دو چار ہونے پر قابو نہ پانے کے علاوہ اس ضمن میں دیئے گئے بارہا حکم اور مشوروں پر عمل نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ’’کورٹ نے سبھی شہری انتظامیہ کو آلودگی پر قابو پانے کے لئے نہ صرف کئی مشورے اور ہدایات دی ہیں بلکہ اس پر عمل کرنے کے لئے بارہا موقع بھی فراہم کیا ہے لیکن کسی بھی اقدا م کو موثر طریقہ سے نافذ نہیں کیا گیا۔‘‘
چیف جسٹس شری چندر شیکھر نے خصوصی طو رپر برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کی سابقہ احکامات پر عمل نہ کرنے اور حکم عدولی پر سخت سرزنش کی۔ کورٹ نے کہا کہ اس سے قبل عدالت کے مقرر کردہ کورٹ کمشنرز کے ذریعہ شہر کے جن ۱۱؍ تعمیراتی مقامات پر فضائی آلودگی قوانین کی خلاف ورزی ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی ، ان مقامات کا نہ تو دورہ کیا گیا اور نہ ہی جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی گئی ۔کورٹ نے مزید کہا کہ حتیٰ کہ عدالت کے حکم کے باوجود شہری انتظامیہ کے کسی بھی افسر نے اس تعلق سے کورٹ کو آگاہ کرنا ضروری نہیںسمجھا ۔ چیف جسٹس نے خبردار کیا اورکہا کہ شہری انتظامیہ کی یہ لا تعلقی ان کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگی ۔
دوران سماعت ون شکتی نامی تنظیم کی پیروی کرنے والے وکیل جنک دوارکاداس اور کورٹ کے مدد گار وکیل ڈائیورس کھمباٹا نےبتایا کہ عدالت کے حکم کے باوجود شہر اور اطراف میں ۵؍ سو سے زائد تعمیراتی جگہوںپر اب بھی ہوا کے معیار اور آلودگی کی جانچ کرنے والے مانیٹرنگ ڈش بورڈ نہیں لگائے گئے ہیں۔
اس اطلاع پر چیف جسٹس نے مزید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ ’’ فضائی آلودگی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر شہری انتظامیہ کے متعلقہ محکموں کی ان افسران کی تنخواہیں روک دی جائیں جو خلاف ورزی کرنے والوں پر کارروائی نہیں کرتے ہیں یا عدالت کی حکم عدولی کرتے ہیں ۔‘‘ یہی نہیں عدالت ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے ۔ اس کے علاوہ کورٹ نے شہری انتظامیہ کے کمشنروں کو بھی وارننگ دی کہ اگر اس سلسلہ میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن اور نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن کے کمشنروں نے فضائی آلودگی کے مسئلہ پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیںکیا تو ان کے خلاف بھی سخت احکامات جاری کئے جاسکتے ہیں ۔
عدالت نے شہری انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ جواز پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آلودگی پر قابو پانے کے لئے اب تک کوئی مخلصانہ اورحقیقی کوشش نہیں کی گئی ہے ۔چیف جسٹس نےبی ایم سی اور این ایم ایم سی انتظامیہ کو تعمیراتی جگہوں پرفضائی آلودگی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ۵؍ لاکھ تا ۵؍ کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے پر غور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے ہوا کے معیار اور آلودگی کی جانچ کرنے والے مانیٹرنگ ڈش لگانے اور اس ضمن میں کی جانے والی کارروائیوں سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔