• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’بھول بھلیاں‘‘ اور ’’بھوت بنگلہ‘‘ دو علاحدہ فلمیں ہیں: پریہ درشن

Updated: February 10, 2026, 7:09 PM IST | Mumbai

ہدایتکار پریہ درشن نے انکشاف کیا ہے کہ اکشے کمار کی آنے والی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ ابتدا میں ’’بھول بھلیاں ۲‘‘ کے طور پر تیار کی جا رہی تھی، تاہم بعد میں تخلیقی اور پروڈکشن وجوہات کی بنا پر اسے ایک الگ فلم کی شکل دے دی گئی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار پریہ درشن نے اکشے کمار کی نئی ہارر کامیڈی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ سے متعلق ایک اہم اور دلچسپ انکشاف کیا ہے، جس کے بعد فلمی حلقوں اور شائقین میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ پریہ درشن کے مطابق یہ فلم ابتدا میں ’’بھول بھلیاں ۲‘‘ کے طور پر ہی تیار کی جا رہی تھی اور اس کا مرکزی کردار اکشے کمار کیلئے لکھا گیا تھا۔ ہدایتکار نے بتایا کہ جب اس کہانی پر کام شروع کیا گیا تو منصوبہ یہی تھا کہ ۲۰۰۷ء میں ریلیز ہونے والی کامیاب ہارر کامیڈی فلم ’’بھول بھلیاں‘‘ کا براہِ راست سیکوئل بنایا جائے، جس میں ایک بار پھر اکشے کمار مرکزی کردار میں نظر آئیں۔ اس وقت فلم کی سمت، مزاح اور ہارر کے عناصر بھی اسی فرنچائز کے مطابق ترتیب دیے جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: مموٹی اور موہن لال کی ’’پیٹریوٹ‘‘ میں فہد فاصل ویلن ہیں

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ پروجیکٹ کی نوعیت بدلتی چلی گئی۔ پریہ درشن کے مطابق اس دوران فلم انڈسٹری میں کئی تبدیلیاں آئیں، پروڈکشن سے جڑے معاملات آگے بڑھے اور ’’بھول بھلیاں‘‘ فرنچائز کے حقوق اور مستقبل کے حوالے سے بھی مختلف فیصلے سامنے آئے۔ انہی وجوہات کی بنا پر یہ طے کیا گیا کہ اس کہانی کو ’’بھول بھلیاں ۲‘‘ کے بجائے ایک نئی اور آزاد فلم کے طور پر پیش کیا جائے، جس کے بعد اس کا نام ’’بھوت بنگلہ‘‘ رکھا گیا۔ پریہ درشن نے واضح کیا کہ اگرچہ کہانی کا ابتدائی خیال ’’بھول بھلیاں ۲‘ ‘سے جڑا ہوا تھا، لیکن موجودہ شکل میں ’’بھوت بنگلہ‘‘ کا اس فرنچائز سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ ان کے مطابق فلم کو مکمل طور پر نئے کرداروں، نئے پس منظر اور آزاد شناخت کے ساتھ ڈھالا گیا ہے تاکہ ناظرین اسے کسی پرانی فلم کے سائے میں دیکھنے کے بجائے ایک تازہ تجربے کے طور پر قبول کریں۔ یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اکشے کمار اور پریہ درشن کی جوڑی ایک بار پھر شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں ماضی میں کئی کامیاب فلمیں دے چکے ہیں اور ’’بھوت بنگلہ‘ ‘کو بھی ایک خالص ہارر کامیڈی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں مزاح اور خوف کا امتزاج مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فلم ’’او رومیو‘‘ کے لیے وِکرانت میسی اور تمنا بھاٹیہ نے ایک روپیہ بھی فیس نہیں لی

سوشل میڈیا پر اس خبر کے سامنے آتے ہی صارفین میں جوش و خروش بھر گیا۔ کچھ شائقین نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر یہ فلم ’’بھول بھلیاں ۲‘‘ کے طور پر آتی تو اکشے کمار کو ایک بار پھر اسی مشہور کردار میں دیکھنا دلچسپ ہوتا، جبکہ دیگر صارفین کا کہنا ہے کہ ایک نئی اور آزاد فلم ہونا ہی ’’بھوت بنگلہ‘‘ کے لیے بہتر فیصلہ ہے، کیونکہ اس سے فلم کو اپنی الگ شناخت بنانے کا موقع ملے گا۔ فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ انکشاف اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ بالی ووڈ میں کئی بڑے پروجیکٹس وقت کے ساتھ کس طرح اپنی شکل بدلتے ہیں اور تخلیقی فیصلے اکثر مارکیٹ، حقوق اور فرنچائز پالیسیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ’’بھوت بنگلہ‘‘ اب ایک آزاد فلم کے طور پر سامنے آ رہی ہے اور شائقین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ فلم اپنے مواد اور پیشکش سے توقعات پر پورا اتر پائے گی یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK