Inquilab Logo Happiest Places to Work

’نیٖٹ ‘سے ایک دن قبل ایچ ایس سی کے نتائج ظاہر کرنےپرتنقیدیں

Updated: May 05, 2026, 11:02 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

ماہرین تعلیم نے بورڈامتحانات کے نتائج کم آنے سے ’نیٹ ‘میں شریک طلبہ پر اس کا منفی اثر پڑنے کااندیشہ ظاہرکیا۔

Students appearing for NEET are seen at a centre in Mumbai. Photo: PTI
’نیٖٹ ‘میں شریک طلبہ ممبئی کے ایک سینٹر پرنظر آرہے ہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی
 نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی طرف سے اتوار کو منعقدکئے گئے ’نیشنل ایلی جبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ(نیٖٹ) ‘ کا پرچہ گزشتہ سال کے مقابلے آسان ہونے سےایک طرف میڈیکل میں داخلے کیلئے کٹ آف میں اضافہ ہونے کا امکان ہے تو دوسری جانب  ’نیٖٹ ‘سے ایک دن قبل  ایچ ایس سی کے نتائج ظاہر کئے جانے پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ بورڈ امتحانات کے نتائج کم آنے سے ’نیٖٹ ‘ میں شریک طلبہ پر اس کا منفی اثر پڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ امسال تقریباً ۲۲؍لاکھ ۷۹؍ہزار طلبہ نے ’نیٹ ‘ کیلئے رجسٹریشن کرایا تھا  جن میں ۱۳؍لاکھ ۳۲؍ہزار ۹۲۸؍ طالبات اور ۹؍لاکھ ۴۶؍ہزار ۸۱۵؍ طلباء تھے ۔اس امتحان میں کامیاب ہونے والے طلبہ کو ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، آیوش کورسیز، بی اے ایم ایس، بی ایچ ایم ایس اور نرسنگ کورسیز میں داخلہ ملتا ہے ۔
مہاراشٹر میں میڈیکل کالجوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے تقریباً ایک ہزار نشستیں بڑھی ہیں جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ طلبہ کو داخلہ ملنے کا امکان ہے ۔ 
  ماہرتعلیم ہریش بٹلے نے اس بارے میں کہا کہ ’’امسال ’نیٖٹ ‘ کا پرچہ آسان تھا ۔ طلبہ کو امسال اچھے نمبر ملیں گے۔ بہت سے طلبہ ۷۱۵؍ سے زیادہ نمبر حاصل کرسکتےہیں۔ چونکہ پیپر آسان تھا اس لئے کٹ آف میں اضافہ دکھائی دے گا۔ اس کی وجہ سے داخلہ کے عمل میں مقابلہ بڑھے گا۔ ‘‘ماہرین تعلیم کے بقول ’نیٖٹ ‘سے صرف ایک دن پہلے بارہویں کے نتائج کے اعلان سے طلبہ کے ذہنوں پر برا اثر پڑا ہے  جس کی وجہ سے تعلیمی حلقوں میں یہ چرچا ہے کہ ریاستی بورڈ نے نتائج کی تاریخ متعین کرنے میں غلطی کی ہے ۔
اسٹیٹ بورڈ نے سنیچر کو ایچ ایس سی کا رزلٹ آن لائن جاری کیا۔ گزشتہ سال کے مقابلے امسال نتائج میں ۲ء۰۹؍ فیصد کمی آئی ہے ۔یہاں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ لاتور کےطلبہ سب سے زیادہ میڈیکل فیلڈ میں داخلہ لیتے ہیں لیکن امسال لاتور ڈویژن کا نتیجہ سب سے کم رہا ہے۔ ایسے میں بورڈ کی جانب سے ’نیٖٹ ‘ سے ایک دن پہلے نتائج کا اعلان کرنے سے طلبہ کے اعتماد اور ذہنیت پر برا اثر پڑ نے کاامکان ظاہر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ریاستی بورڈ کے نتائج کے اعلان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 
 
 
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کو اس بارے میں سوچنا چاہئے تھا ۔نیٹ امتحان سے ایک دن پہلے نتائج کا اعلان کرنا مناسب نہیں تھا۔ حکومت کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہئے تھا۔  جن طلبہ کم نمبرات ملے ہیں ، وہ مایوسی کے عالم میں ’نیٖٹ ‘اچھے طور پر کیسے دے سکےہوںگے ، بورڈ کو اس بات پر غورکرناچاہئے۔
 
 
ماہرتعلیم درگیش منگیشکر نے کہا کہ’’ گزشتہ سال کےمقابلے اس سال یقینی طورپر نیٹ کاپرچہ آسان تھا ۔ ۲۰۲۳ء میںتقریباً ایک لاکھ طلبہ نے ۵۰۰؍ سے زیادہ مارکس حاصل کئے تھے جبکہ ۲۰۲۴ء میں تقریباً ۲؍لاکھ طلبہ نےیہ ہدف حاصل کیاتھا، ۲۰۲۵ء میں صرف ۴۰؍ہزار طلبہ کو ۵۰۰؍ مارکس ملے تھے لیکن امسال پیپر   آسان ہونے سے ۵۰؍ سے ۶۰؍ہزار طلبہ کو ۵۰۰؍ کے قریب مارکس ملنے کی اُمیدہے جس کی وجہ سے کٹ آف کے بڑھنے کےساتھ داخلے کے حصول میں مسابقت کا پورا امکان ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK