Inquilab Logo Happiest Places to Work

خام تیل کی قیمت ایران جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچی

Updated: June 27, 2026, 11:30 AM IST | New Delhi

 برینٹ خام تیل ۸۲ء۷۲؍ ڈالر فی بیرل پر فروخت ہورہا ہے مگر ہندوستان میں صارفین کو کوئی راحت نہیں ، کمپنیوں کےخسارہ کی بھرپائی کا جواز پیش کیا گیا۔

During the war, crude oil prices reached $120 per barrel, after which the prices of petrol and diesel were increased by 7.50 Rupees per liter. Photo: INN
جنگ کے دوران خام تیل ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیاتھا جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں  ۷ء۵۰؍ روپےفی لیٹر بڑھائی گئی تھیں۔ تصویر: آئی این این

ایران -امریکہ امن معاہدہ کے بعد بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے آنے والی کمی کے بعد قیمتیں ایران تنازع سے پہلے کی سطح پر پہنچ گئی ہیں مگر ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی  جو قیمتیں   جنگ کے وقت بڑھائی گئی تھیں وہی برقرار ہیں۔  واضح رہے کہ  جنگ کے وقت خام تیل کی قیمتیں  ۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں جبکہ امن معاہدہ کے بعدمسلسل کمی کے نتیجے میں جمعہ کو خام تیل کی قیمت ۷۲ء۸۲؍  ڈالر فی بیرل   ریکارڈ کی گئی۔   اس  سے ہندوستان میں  مہنگائی میں کمی، تیل کی درآمدی لاگت گھٹنے اور سرکاری مالیاتی صورتحال بہتر ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جونپور: استاد حدیث مولانا سعادت علی قاسمی کا انتقال

خام تیل کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عوام کو نہیں

اگرچہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئی ہیں لیکن  ہندوستان میں  سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں کی۔  یاد رہے کہ ایران جنگ کے دوران خام تیل مہنگا ہونے پر دونوں ایندھن(پیٹرول اور ڈیزل) کی قیمتوں میں تقریباً ساڑھے  ۷؍روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھالیکن حالیہ کمی کا فائدہ ابھی صارفین کو نہیں ملا۔ پی ٹی آئی کے حوالے سے حکام نے بتایا کہ اس وقت سرکاری تیل کمپنیاں پٹرول کی فروخت پر اچھا منافع کما رہی ہیں جبکہ ڈیزل پر معمولی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھنے کے باوجود تقریباً ڈھائی ماہ تک مقامی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی، اور بعد میں بھی بین الاقوامی اضافے کا صرف ایک حصہ ہی صارفین پر منتقل کیا گیا۔

عوام کو فائدہ ملنے میں کچھ وقت لگ سکتاہے

ذرائع کے مطابق سرکاری تیل کمپنیاں اس وقت  پیٹرول اور ڈیزل کی فروخت پر منافع کے ذریعہ اس خسارہ کی بھرپائی کررہی ہیں جو جنگ کےد وران قیمتوں میں  اضافہ سے قبل انہیں اٹھانا پڑاتھا۔ دوسری طرف حکام  نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی نہ آنے کا یہ جواز بھی پیش کیا ہے کہ  ہندوستا ن میں ایندھن کی قیمتیں عالمی منڈی کے روزانہ اتار چڑھاؤ سے براہ راست جڑی ہوئی نہیں  ہیں  بلکہ گزشتہ۲؍ہفتوں یا ایک ماہ کی اوسط قیمت کی بنیاد پر ان کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اسی لیے اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں مسلسل کم رہیں تو اس کا فائدہ صارفین کو کچھ وقت بعد مل سکتا ہے۔ ایران تنازع کے دوران حکومت مختلف وزارتوں کے ساتھ باقاعدہ بریفنگ دے کر ایندھن کی دستیابی اور صورتحال سے آگاہ کرتی رہی، لیکن اس ہفتے پیر اور جمعرات کو ایسی کوئی بریفنگ نہیں ہوئی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ حکومت کے مطابق توانائی کی سپلائی اور تجارتی راستوں کو لاحق خطرات میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سرکاری اسپتال کے ۵؍ ڈاکٹروں کا بیک وقت استعفیٰ

اگرچہ جون کے دوران تنازع کی وجہ سے ہندوستانی خام تیل کی اوسط قیمت اب بھی۸۶ء۳۱؍ ڈالر فی بیرل رہی جو فروری۲۶ء کی اوسط۷۲ء۴۷؍ڈالر فی بیرل سے کافی زیادہ ہے لیکن قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد توقع ہے کہ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو حکومت اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر صارفین کو بھی اس کا فائدہ پہنچانے کا دباؤ بڑھے گا۔

درآمدی بل میں اربوں ڈالر کی بچت

ہندوستان اپنی خام تیل کی ضرورت کا۸۸؍فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں ہر۱۰؍  ڈالر فی بیرل کمی سے ملک کے درآمدی بل میں سالانہ اربوں  ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو سکتا ہے اور مہنگائی پر بھی قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایندھن، نقل و حمل اور پیداواری لاگت میں کمی سے حکومت پر سبسڈی کا بوجھ بھی کم ہوگا اور سرکاری مالیاتی گنجائش میں اضافہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK