گڈچرولی میں نئے تعمیر کردہ اسپتال کے شروع ہونے سے پہلے ہی تنازع۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 9:51 AM IST | Gadchiroli
گڈچرولی میں نئے تعمیر کردہ اسپتال کے شروع ہونے سے پہلے ہی تنازع۔
طبی شعبے میں ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے۔ گڈچرولی ضلع کے اہیری علاقے میں نئے کھلے سرکاری اسپتال کے ۵؍ ڈاکٹروں نے ایک ہی وقت میں اچانک استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کی وجہ تاحال واضح نہیں ہے لیکن اس سے مقامی باشندوں میں غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اطلاع کے مطابق مطابق،نکسل زدہ ضلع گڈ چرولی کے اہیری علاقے میں خواتین اور بچوں کیلئے جدید ترین سہولیات کے ساتھ ایک اسپتال شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد خواتین اور بچوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ تاہم اسپتال کے مکمل طور پر شروع ہونے سے پہلے ہی وہاں مامور ۵؍ ڈاکٹروں نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیدیا۔ اس کی وجہ سے انتظامیہ پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ ڈاکٹروں نے یہ فیصلہ انتظامی دباؤ، ناکافی سہولیات، افرادی قوت کی کمی یا دیگر اندرونی وجوہات کی بنا پر کیا ہے۔ یہ اسپتال اہیری کے علاوہ بھامرا گڑھ، ایٹا پلی اور سرونچہ کے دور دراز علاقوں میں ہزاروں خواتین اور بچوں کیلئے اہم ثابت ہونے والا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یوم عاشورہ ملک بھر میں منایا گیا، ماتمی جلوس نکالے گئے
تاہم ڈاکٹروں کے استعفوں سے یہ امکان پیدا ہوگیا ہے کہ شہریوں کو دوبارہ علاج کیلئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر یا نجی اسپتالوں کا سہارا لینا پڑے گا۔اب شہریوں کی طرف سے یہ مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے کہ استعفوں کی وجوہات کی مکمل چھان بین کی جائے اور خالی عہدوں پر فوری طور پر تقرریاں کی جائیں۔ دریں اثنا، اگر کوئی طبی دشواری پیدا ہوتی ہے تو مریض کہاں جائیں؟ یہ بڑاا سوال اب شہریوں کے سامنے کھڑا ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ گڈ چرولی مہاراشٹر کے سب سے پسماندہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ اس جنگلاتی خطے میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ اس پر سے یہاں مائو وادیوں کا دبدبہ ہے۔ حال ہی میں حکومت نے یہاں کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا اعلان کیا ہے اور مائو وادیوں کیلئے خود سپردگی کی اسکیم شروع کی ہے۔ اس کی وجہ سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب گڈچرولی میں حالات بدل رہے ہیں لیکن سرکاری اسپتال کے ڈاکٹروں کے یوں کنارے ہو جانے پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔