جمعہ کی شب میں وصی آباد الٰہ آباد کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 10:50 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
جمعہ کی شب میں وصی آباد الٰہ آباد کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
اترپردیش کی مشہور دینی درسگاہ مدرسہ ریاض العلوم گورینی ،جون پور (یوپی) استاد حدیث مولاناسعادت علی قاسمی کاطویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا۔ مولانانے اپنے وطن وصی آباد الٰہ آباد میں جمعہ ۱۰؍محرم الحرام کی صبح ۱۱؍بجے آخری سانس لی۔اس وقت ان کی عمر ۷۷؍سال تھی۔ جمعہ کی ہی شب میں وصی آباد الہٰ آباد کے مقامی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی ۔تجہیز وتکفین میں بڑی تعداد میں علماء، اساتذہ ، طلبہ،شاگردوں اورمتعلقین نے شرکت کی۔مولانا کے پسماندگان میں ایک بیٹا اوردو بیٹیاں شامل ہیںجبکہ ایک بیٹے اوراہلیہ کاکئی برس قبل انتقال ہوچکا ہے ۔ دوسال قبل مولانا پر فالج کا شدید حملہ ہوا ، اسی اثناء میں ان پر دل کا شدید دورہ بھی پڑا۔ مذکورہ امراض کا علاج جاری رہا، طبیعت میںاتار چڑھاؤ کی کیفیت رہا کرتی تھی ۔ بالآخر وقت موعود آن پہنچا اور جمعہ کو ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔
یہ بھی پڑھئے: ’’نیٹ پیپر لیک کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں‘‘
مولاناسعادت علی قاسمی نے ریاض العلوم میں تقریباً ۵۰؍ سال تدریسی خدمات انجام دیں، مختلف کتب کے ساتھ بخاری شریف جلد ثانی کے اسباق آپ سے متعلق تھے اورآپ شیخ الحدیث ثانی کے علاوہ صدرس المدرسین بھی رہے ۔ مولانا مختلف اوصاف اورکمالات کے حامل تھے ۔طلبہ سے حددرجہ شفقت فرمانے کے ساتھ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ان کاہر شاگرد بہترین صلاحیت کا حامل بنے، اس کے لئے وہ ہر ممکن سعی کرتے تھے۔ ممبئی اوروطن عزیز ہی نہیں بیرون ممالک بڑی تعداد میں آپ کےشاگردتدریسی خدمات انجام دے رہےہیں۔ریاض العلوم کے مہتمم مولاناعبدالرحیم مظاہری نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پربتایا کہ’’ مولانا مرحوم ،ان کے درسی ساتھی تھے۔ ان کا انتقال عظیم خسارہ ہے، رب العالمین ان کےدرجات بلند فرمائے ۔ مولانا کےمحاسن کے متعلق مولاناعبدالرحیم نے کہاکہ ’’مولانا سعادت صاحب کی سب سے اہم خوبی یہ تھی کہ وہ نہ غیبت کرتے تھے اورنہ سنتے تھے۔ اسی طرح اسباق کے انتہائی پابند تھے، ایک بھی گھنٹہ ناغہ نہیں ہوتا تھا حتیٰ کہ شوال میں چھٹی کےبعد مدرسہ کھلنے کی مقررہ تاریخ سے قبل وہ آجاتے اور اہتمام سے درس کیلئے حاضر ہوتے خواہ تمام طلبہ آئے ہوں یا نہ ہوں۔‘‘