۲۰۲۲ء کے بعدپہلی مرتبہ دام ۱۲۵؍ ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچے، ہندوستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے ۹۵ء۲۱؍ کی کم ترین سطح کو عبور کر گیا
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 12:11 AM IST | New Delhi
۲۰۲۲ء کے بعدپہلی مرتبہ دام ۱۲۵؍ ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچے، ہندوستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے ۹۵ء۲۱؍ کی کم ترین سطح کو عبور کر گیا
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب دنیا بھر میں نظر آنے لگا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور مذاکرات میں تعطل کے سبب دنیا کے کئی ملکوں کی معیشت کو بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ایک طرف جہاں چار سال میں پہلی بار خام تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، وہیں ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ کی قدر میں بھی مسلسل گراوٹ جاری ہے۔ جمعرات کو خام تیل کی قیمت ۱۲۵؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔۲۰۲۲ء میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھالیکن اس کے بعد سے وہ کسی بھی وقت اتنی بلند سطح پر نہیں پہنچی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ابتدائی ٹریڈنگ میں جون کی ڈیلیوری کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت۶ء۲؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۲۵ء۳۶؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ جولائی کی ترسیل کے لیے برینٹ کروڈ۱۱۳ء۸۵؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ یاد رہے کہ فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً۷۰؍ ڈالر فی بیرل تھی۔
قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں ٹرمپ کا بیان بھی کافی اہم ہے جس میں انہوں نے اشارہ دیا کہ ایران کے خلاف امریکی ناکہ بندی جاری رہے گی جس سے اندیشہ ہے کہ اس بیان سے آبنائے ہرمز پر اثر پڑے گا، جو ممکنہ طور پر خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کا باعث بنے گا۔دوسری جانب ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کے گروپ اوپیک نے پیداوار میں کمی اور متحدہ عرب امارات کا اوپیک سے علیحدگی کا اعلان بھی قیمتوں میں اضافہ کا سبب قرار دیا جارہا ہے۔ حالات میں فوری طور پر کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔ ای وائی انڈیا نے کہا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں اوسطاً۱۲۰؍ ڈالر فی بیرل ہوتی ہیں تو رواں مالی سال کے لیے ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو تقریباً چھ فیصد تک گر سکتی ہے، جبکہ خوردہ افراط زر آر بی آئی کی طرف سے مقرر کردہ چھ فیصد کی اونچائی کو چھو سکتی ہے۔ہندوستان میں ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج (ایم سی ایکس) پر خام تیل کی قیمت۱۰؍ہزار روپے فی بیرل کے نشان کو عبور کر چکی ہے۔
دریں اثناءجمعرات کو جہاں خام تیل کے دام آسمان چھورہے تھے وہیں ہندوستانی روپیہ ریکارڈ کم ترین سطح پر آگیا تھا۔ ہندوستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میںاب تک کی کم ترین سطح پر پہنچ گیاہے۔ اس میں جمعرات کو ۰ء۵؍ فیصد کی کمی آئی ہے۔ ہندوستانی روپیہ مارچ کے آخر میں مقرر کردہ۹۵ء۲۱؍ کی اپنی سابقہ کم ترین سطح کو عبور کر گیا تھا لیکن شام کے کاروبار میں اس میں کچھ بہتری آئی اور یہ ۹۴ء۸۵؍ کی سطح تک واپس آیا لیکن دوبارہ مارکیٹ کھلنے پر اس کے پھر سے نیچے جانے کا امکان بہرحال برقرار ہے۔واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ ہو رہی ہے۔