کیوبا کی وزارت توانائی نے ہفتہ کی شام اعلان کیا کہ پورے جزیرے میں ایک بار پھر بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے جس سے ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئےہیں۔ یہ اطلاع سی این این نے اتوار کو فراہم کیں۔
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 12:33 PM IST | Hawana
کیوبا کی وزارت توانائی نے ہفتہ کی شام اعلان کیا کہ پورے جزیرے میں ایک بار پھر بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے جس سے ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئےہیں۔ یہ اطلاع سی این این نے اتوار کو فراہم کیں۔
کیوبا کی وزارت توانائی نے ہفتہ کی شام اعلان کیا کہ پورے جزیرے میں ایک بار پھر بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے جس سے ایک کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئےہیں۔ یہ اطلاع سی این این نے اتوار کو فراہم کیں۔وزارت نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’قومی بجلی کا نظام مکمل طور پر ٹھپ ہو گیا ہے۔ بجلی کی بحالی کے لیے پروٹوکول نافذ کیے جا رہے ہیں۔‘‘
پیر کے روز گرڈ کے ٹھپ ہونے سے کیوبا ابھی سنبھل ہی رہا تھا۔ یہ اس سال کے آغاز میں امریکہ کی جانب سے وینزویلا سے ایندھن کی فراہمی پر پابندی لگانے کے بعد پہلا واقعہ تھا۔ ہفتہ کو بجلی منقطع ہونے سے ٹھیک پہلے، ملک کی سرکاری بجلی کمپنی نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ہفتہ کی رات مصروف ترین اوقات کے دوران اسے ۱۷۰۴؍ میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے بارے میں اکثر باتیں کی ہیں اور وہاں کی حکمران کمیونسٹ حکومت کے جلد ہی گرنے کی پیش گوئی کی ہے۔ پیر کو انہوں نے کھلے عام یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا انہیں اس جزیرے پر قبضہ کرنے کا اعزاز حاصل ہوگا۔
حالانکہ جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا کیوبا کو اپنے قبضے میں لینے کی مہم میں اسی طرح کی طاقت کا استعمال کیا جائے گا جیسا کہ جنوری میں امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو پکڑنے کے دوران کیا تھا، تو انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے:کوہلی کی قیادت میں آر سی بی خطاب کے دفاع کے لیے تیار
ہفتہ کو کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے جزیرے پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے والے بین الاقوامی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کا خیال ہے کہ کیوبا پر حملہ ہو سکتا ہے اور وہ اس کے مطابق تیاری کر رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے، صدر ڈیاز کانیل نے ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیوبا ایندھن کی پابندیاں ختم کرنے کے لیے اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم، کیوبا کی حکومت نے واضح کیا کہ اس کا اپنے سیاسی نظام پر بات چیت کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
کیوبا میں فیدل کاسترو کی قیادت میں انقلابیوں کے ذریعے ۱۹۵۹ء میں فلگینسیو بتیستا کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے بعد سے، ملک امریکہ کی جانب سے لگائی گئی سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ کیوبا نے پہلے بھی شدید معاشی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کیا ہے، جیسے کہ خصوصی دور جب ۱۹۹۱ء میں سوویت یونین کا زوال ہوا تو اس کا اثر اس وقت کی کمیونسٹ حکومت کے بنیادی بیرونی امدادی ذریعے پر پڑا تھا۔
یہ تازہ بحران بھی اتنا ہی مایوس کن ہے۔ میکسیکو اور وینزویلا سے ایندھن کی کمی کے باعث جزیرے کی سیاحت تقریباً ٹھپ ہو گئی ہے، تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے، اسپتالوں میں خدمات کم ہو گئی ہیں اور کسانوں کو اپنی پیداوار مارکیٹ تک پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے۔