Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیوبا ایک بار پھر اندھیرے میں ڈوب گیا، چھ ماہ میں تیسری بار قومی بجلی نظام ٹھپ

Updated: July 10, 2026, 8:01 PM IST | Havana

کیوبا ایک مرتبہ پھر ملک گیر بلیک آؤٹ کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ قومی بجلی گرڈ کے اچانک منہدم ہونے کے بعد تقریباً ایک کروڑ افراد بجلی سے محروم ہو گئے۔ یہ رواں برس چھ ماہ کے دوران تیسرا موقع ہے جب پورا ملک تاریکی میں ڈوب گیا۔ حکومت نے مرحلہ وار بجلی بحال کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم کئی علاقوں میں گھنٹوں بعد بھی بجلی بحال نہیں ہو سکی، جبکہ دارالحکومت ہوانا میں بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاج بھی ہوا۔

A street scene in Havana, the capital of Cuba. Photo: X
کیوبا کی راجدھانی ہوانا کی سڑک کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

کیوبا کے سرکاری بجلی ادارے یونین الیکٹریکا (UNE) کے مطابق پیر کی دوپہر قومی بجلی گرڈ اچانک مکمل طور پر منقطع ہو گیا، جس کے نتیجے میں پورا جزیرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ حکام نے بتایا کہ بلیک آؤٹ کی اصل وجہ کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا پورا نظام یکدم بند ہونے سے ملک بھر میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ بجلی بحال کرنے کے لیے حکومت نے مرحلہ وار منصوبہ اختیار کیا۔ پہلے اسپتالوں، پانی کی فراہمی، خوراک کی پیداوار اور دیگر ضروری تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے بعد مختلف علاقوں میں چھوٹے مائیکرو گرڈز کے ذریعے قومی نظام کو دوبارہ جوڑنے کا عمل شروع کیا گیا۔ اس کے باوجود اگلے روز بھی لاکھوں افراد بجلی سے محروم رہے، جبکہ ہوانا کے کئی علاقوں میں صرف جزوی فراہمی ممکن ہو سکی۔

یہ بھی پڑھئے: ناٹو لیڈروں کو اردگان کا انوکھا تحفہ، نام کندہ والی ریوالور اور زندہ کارتوس دیئے

یہ رواں سال کا تیسرا اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران مسلسل تیسرا ملک گیر بلیک آؤٹ ہے۔ مارچ میں بھی چند روز کے وقفے سے دو مرتبہ قومی بجلی نظام منہدم ہوا تھا۔ تازہ واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ کیوبا کا توانائی نظام معمولی خرابی برداشت کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکا ہے اور کسی ایک بڑے تعطل سے پورا ملک متاثر ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بحران کی ایک بڑی وجہ ایندھن کی شدید قلت ہے۔ کیوبا اس وقت اپنی ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ایندھن پیدا کر رہا ہے، جبکہ بیرون ملک سے تیل کی درآمد بھی نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ بوسیدہ تھرمل پاور پلانٹس اور پرانا ٹرانسمیشن نیٹ ورک اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں، جس کے باعث بجلی کی پیداوار معمولی کمی کا شکار ہوتے ہی پورا گرڈ غیر مستحکم ہو جاتا ہے۔ 
صدر میگوئل دیاث کانیل نے ایک بار پھر امریکہ کی سخت پابندیوں اور ایندھن کی سپلائی میں رکاوٹوں کو بحران کی اہم وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں برس واشنگٹن کی جانب سے تیل کی ترسیل پر دباؤ بڑھنے کے بعد کیوبا کے لیے ایندھن حاصل کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ توانائی بحران کی بنیادی وجہ کیوبا کی معاشی پالیسیوں، کم سرمایہ کاری اور برسوں سے نظر انداز کیے گئے انفراسٹرکچر میں پوشیدہ ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ہم سے غلطی ہوئی، اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالیں گے: غزہ پر لیبر کے مؤقف پر اینڈی برنہم کی معذرت

بلیک آؤٹ کے دوران ہوانا اور دیگر شہروں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ ٹریفک سگنلز بند ہونے سے آمدورفت میں مشکلات پیش آئیں، موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات بھی متاثر ہوئیں، جبکہ شدید گرمی میں بجلی نہ ہونے سے شہریوں کو پانی، خوراک محفوظ رکھنے اور روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر لوگوں نے برتن بجا کر اور گاڑیوں کے ہارن بجا کر احتجاج کیا اور حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک کیوبا بجلی گھروں کی جدید کاری، ترسیلی نظام کی مرمت اور ایندھن کی مستقل فراہمی کو یقینی نہیں بناتا، ایسے ملک گیر بلیک آؤٹس کا خطرہ برقرار رہے گا۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کسی ایک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی برسوں سے جمع ہوتے آنے والے توانائی، معاشی اور انفراسٹرکچر کے مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ 
یاد رہے کہ کیوبا کئی برسوں سے شدید معاشی اور توانائی بحران کا شکار ہے، تاہم ۲۰۲۶ء میں صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ مارچ میں دو مرتبہ قومی بجلی نظام منہدم ہوا تھا اور جولائی کا بلیک آؤٹ چھ ماہ کے دوران تیسرا ملک گیر تعطل ہے۔ حالیہ مہینوں میں ملک کے کئی صوبوں میں روزانہ ۱۲؍ سے ۲۰؍ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے، جس سے عوامی زندگی اور معیشت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK