Updated: July 10, 2026, 7:04 PM IST
| Ankara
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے ناٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر رکن ممالک کے سربراہان کو غیر معمولی سفارتی تحفہ پیش کرتے ہوئے ترکی میں تیار کردہ ۳۵۷؍ میگنم ریوالور دی جس پر ہر لیڈر کا نام کندہ تھا۔ لکڑی کے خصوصی ڈبے میں پیش کیے گئے اس تحفے کے ساتھ زندہ کارتوس، صفائی کا سامان اور یادگاری تختی بھی شامل تھی۔ اس غیر روایتی اقدام نے عالمی سفارتی حلقوں میں توجہ حاصل کر لی ہے اور اسے ترکی کی دفاعی صنعت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رجب طیب اردگان کی جانب سے یہ ریوالور اور زندہ کارتوس دیئے گئے۔ تصویر: آئی این این
ناٹو کے دو روزہ سربراہی اجلاس کے اختتام پر میزبان ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے اتحاد کے سربراہانِ مملکت اور حکومت کو ایسا تحفہ پیش کیا جس نے اجلاس کے فیصلوں سے زیادہ عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ اجلاس میں شریک ہر لیڈر کو ترکی میں تیار کردہ گُمُوشائے ۳۵۷؍ میگنم ریوالور پیش کی گئی، جس پر متعلقہ لیڈر کا نام خصوصی طور پر کندہ کیا گیا تھا۔ تحفہ ایک نفیس لکڑی کے ڈبے میں رکھا گیا تھا جس پر ترکی کا قومی پرچم، ناٹو کا نشان اور خصوصی یادگاری تختی نصب تھی۔ ریوالور کے ساتھ چھ زندہ کارتوس، صفائی کا مکمل کِٹ اور دیگر لوازمات بھی شامل کیے گئے تھے، جس سے واضح ہوا کہ یہ محض نمائشی یادگار نہیں بلکہ ایک فعال آتشیں اسلحہ تھا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق ریاستی دوروں کے دوران کتابیں، فن پارے، قالین، نوادرات یا ثقافتی اشیا تحفے میں دینا معمول کی روایت ہے، تاہم کسی فوجی اتحاد کے سربراہان کو آتشیں اسلحہ پیش کرنا نہایت غیر معمولی اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اجلاس ختم ہونے کے چند ہی گھنٹوں میں اس تحفے کی تصاویر اور ویڈیوز دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئیں۔ ذرائع کے مطابق ریوالور ترکی کی مقامی اسلحہ ساز کمپنی نے تیار کی ہے اور اسے ملک میں تیار ہونے والی نمایاں ریوالور طرز کی ہینڈگن میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہر ریوالور پر وصول کنندہ لیڈر کا نام کندہ کرنے کے باعث یہ تحفہ ذاتی نوعیت بھی اختیار کر گیا، جسے ترکی کی میزبانی کی یادگار کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ہم سے غلطی ہوئی، اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالیں گے: غزہ پر لیبر کے مؤقف پر اینڈی برنہم کی معذرت
یہ تحفہ ایسے وقت میں دیا گیا جب انقرہ میں ہونے والے ناٹو اجلاس میں یورپی سلامتی، دفاعی اخراجات، روس یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور دفاعی صنعت میں تعاون جیسے اہم موضوعات زیر بحث رہے۔ اجلاس میں رکن ممالک نے دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور عسکری پیداوار بڑھانے پر بھی زور دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ترک حکومت نے اس تحفے کو خیرسگالی اور قومی صنعت کی نمائندگی قرار دیا ہے، تاہم اس اقدام نے سفارتی تحائف کی روایت، اسلحہ سے متعلق قوانین اور دفاعی صنعت کے فروغ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ شاید حالیہ برسوں میں کسی عالمی سربراہی اجلاس کے اختتام پر دیا جانے والا سب سے غیر روایتی سرکاری تحفہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: محمود عباس نے۲۰؍ سال بعد پہلے فلسطینی قانون ساز انتخابات کی تاریخ مقرر کی
واضح رہے کہ ترکی گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈرونز، میزائل نظام، بکتر بند گاڑیوں اور ہلکے ہتھیاروں کی تیاری میں نمایاں پیش رفت کر چکا ہے۔ حکومت مسلسل اپنی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور اسلحہ برآمدات میں اضافے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ ناٹو اجلاس کی میزبانی کو بھی اسی تناظر میں اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے۔