• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۵۱؍ فیصد ہندوستانی کمپنیوں کے لیے سائبر حملہ سب سے بڑا خطرہ: رپورٹ

Updated: February 08, 2026, 5:07 PM IST | New Delhi

تقریباً ۵۱؍ فیصد ہندوستانی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ سائبر سیکوریٹی میں دراندازی (سائبر حملہ) ان کی کمپنی کی کارکردگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات اتوار کو جاری شدہ فکی اور ای وائی کی رسک سروے رپورٹ میں کہی گئی ہے۔

Cyber Fraud.Photo:INN
سائبرفریب دہی۔ تصویر:آئی این این

 تقریباً ۵۱؍ فیصد ہندوستانی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ سائبر سیکوریٹی میں دراندازی (سائبر حملہ) ان کی کمپنی کی کارکردگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات اتوار کو جاری شدہ فکی  اور ای وائی  کی رسک سروے  رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق،۴۹؍ فیصد کمپنیوں نے کہا کہ صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات اور توقعات سب سے بڑا خطرہ ہیں  جبکہ ۴۸؍ فیصد کمپنیوں نے عالمی سیاسی واقعات (جیسے جنگ یا بین الاقوامی کشیدگی) کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
 یہ رپورٹ مختلف شعبوں کے سینئر افسران کی رائے پر مبنی ہے۔ اس میں قیمتوں کے تعین، سپلائی چین، ملازمین کی حکمت عملی اور تکنیکی سرمایہ کاری پر اثر ڈالنے والے عوامل پر روشنی ڈالی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اب کمپنیوں کے لیے رسک مینجمنٹ بہت ضروری ہو گیا ہے۔
فکی  کی کارپوریٹ سیکوریٹی اور ڈیزاسٹر رسک کمیٹی کے چیئرمین راجیو شرما نے کہا کہ آج کے غیر یقینی کاروباری ماحول میں خطرات کو پہلے سمجھنا، برداشت کرنا اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنا طویل مدتی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اب کمپنیاں خطرات کو کبھی کبھار کی مسئلہ نہیں سمجھتیں بلکہ اسے اپنی حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبوں میں شامل کر رہی ہیں۔
 سروے میں ۶۱؍ فیصد لوگوں نے کہا کہ تیز تکنیکی تبدیلی اور ڈیجیٹل تبدیلی ان کی مقابلہ بازی کو متاثر کر رہی ہے، جبکہ اتنے ہی یعنی۶۱؍ فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ سائبر حملے اور ڈیٹا چوری سے کمپنیوں کو مالی نقصان اور بدنامی دونوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’میرے ڈھولنا ۳‘‘ کیلئے اداکار کی ٹیم اریجیت سنگھ کو سائن کرنا چاہتی تھی

رپورٹ کے مطابق ۵۷؍فیصد کمپنیوں کو ڈیٹا چوری اور کمپنی کے اندر سے ہونے والی دھوکہ دہی کا خوف ہے۔ ۴۷؍ فیصد کمپنیوں نے اعتراف کیا کہ بڑھتے اور پیچیدہ ہوتے سائبر خطرات سے نمٹنا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے حوالے سے بھی دو قسم کے خطرات سامنے آ رہے ہیں۔ سروے میں ۶۰؍ فیصد لوگوں نے کہا کہ اگر اے آئی  جیسی نئی ٹیکنالوجیز کو صحیح طور پر نہیں اپنایا گیا  تو کام کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے گا جبکہ ۵۴؍ فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ اے آئی  سے متعلق اخلاقی اور ضابطہ جاتی خطرات کو صحیح طریقے سے نہیں سنبھالا جا رہا۔

یہ بھی پڑھئے:ناسا کے خلا بازوں کو چاند کی مہم پر جدید ترین اسمارٹ فون لے جانے کی اجازت ہوگی

ای وائی انڈیا کے رسک کنسلٹنگ لیڈر سدھاکر راجندرن نے کہا کہ آج کمپنیاں ایسے دور سے گزر رہی ہیں جہاں مختلف قسم کے خطرات بیک وقت سامنے آ رہے ہیں، نہ کہ الگ الگ۔ انہوں نے بتایا کہ مہنگائی، سائبر خطرات، اے آئی  کے قواعد، ماحولیاتی خطرات اور حکومتی ضوابط— آل  مل کر کمپنیوں کی مضبوطی اور کارکردگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس لیے اب کمپنی کے بورڈ کو زیادہ محتاط رہنے، بہتر معلومات پر توجہ دینے اور خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملی کو مرکزی منصوبہ میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK