اسپیس ایجنسی ناسا کے منتظم نے جمعرات کو کہا ہے کہ ناسا کے خلابازوں کو چاند کی مہمات پر اسمارٹ فون لے جانے کی اجازت ہوگی۔ مزید کہا کہ ہم خلابازوں کو ان کے اہل خانہ کیلئے یاد گار لمحات کی تصاویر بنانے کیلئے ٹولز دے رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 08, 2026, 3:02 PM IST | Washington
اسپیس ایجنسی ناسا کے منتظم نے جمعرات کو کہا ہے کہ ناسا کے خلابازوں کو چاند کی مہمات پر اسمارٹ فون لے جانے کی اجازت ہوگی۔ مزید کہا کہ ہم خلابازوں کو ان کے اہل خانہ کیلئے یاد گار لمحات کی تصاویر بنانے کیلئے ٹولز دے رہے ہیں۔
اسپیس ایجنسی ناسا کے منتظم جارید آئزک مین (Jared Isaacman) نے جمعرات کو کہا کہ ناسا کے خلابازوں کو آئندہ چاند کے مہمات پر جدید ترین اسمارٹ فون لے جانے کی اجازت ہوگی۔ آئزک مین کے مطابق، خلاباز فروری میں شروع ہونے ولے کریو-۱۲ مشن اور مارچ میں آرٹیمس ۲؍ میں اسمارٹ فونز کے ساتھ پرواز کریں گے۔ انہوں نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر لکھا، ’’ہم اپنے عملے کو ان کے اہل خانہ کیلئے خصوصی لمحات کی تصویر کشی کرنے اور دنیا کے ساتھ متاثر کن تصاویر اور ویڈیو شیئر کرنے کیلئے ٹولز دے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ناسا کی ٹیموں نے ’’طویل مدتی عمل‘‘ کو چیلنج کیا اور ’’تیز ٹائم لائن‘‘ پر خلائی پرواز کیلئے جدید ہارڈ ویئر کو اہل بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ عملی عجلت ناسا کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگی کیونکہ ہم مدار میں اور چاند کی سطح پر اعلیٰ ترین قدر کی حامل سائنسی تحقیق اور ریسرچ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ درست سمت میں ایک چھوٹا سا قدم ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پیرس میں فلسطین، کانگو اور سوڈان کے حق میں یکجہتی ریلی
یہ اعلان ناسا کی خلائی پروازوں میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے بدلتے ہوئے رجحان کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں ماضی میں خلابازوں کو سختی سے منظور شدہ، مخصوص آلات تک محدود رکھا جاتا تھا۔ ابتدائی خلائی مشنز میں کیمرے اور کمیونیکیشن ڈیوائسز خصوصی طور پر خلائی ماحول کے مطابق تیار کی جاتی تھیں، کیونکہ عام الیکٹرانکس کو مائیکرو گریویٹی، تابکاری اور درجۂ حرارت کی شدید تبدیلیوں کا سامنا نہیں ہوتا۔ تاہم حالیہ برسوں میں کمرشل اسپیس پروگرامز، نجی خلائی کمپنیوں کی شمولیت اور صارفین کی جدید ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے ناسا کے طریقۂ کار کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسمارٹ فونز اب طاقتور کیمرہ، ویڈیو، نیویگیشن اور ڈیٹا پروسیسنگ صلاحیتوں کے حامل ہیں، جس سے وہ نہ صرف عوامی رابطے اور سائنسی دستاویزات کے لیے مفید بن سکتے ہیں بلکہ خلابازوں اور زمین کے درمیان انسانی ربط کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ناسا کا جدید ہارڈویئر کو تیزی سے خلائی معیار کے مطابق ڈھالنا ادارے کی اس حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد مستقبل کی چاند اور مریخ مہمات کو زیادہ لچکدار، مؤثر اور عوام کے لیے قابلِ فہم بنانا ہے۔
ۨ