Inquilab Logo Happiest Places to Work

سری لنکا میں سمندری طوفان سے تباہی، مہلوکین کی تعداد ۳۵۰؍ سے زائد

Updated: December 02, 2025, 1:08 PM IST | Agency | Colombo

کولمبو میں چینی سفارتخانے کا ہنگامی نقد امداد کے طور ایک لاکھ ڈالر فراہم کرنے کا اعلان، نیپال اور آسٹریلیا کی جانب سے فوری مالی امداد کافیصلہ،ہندوستان نے ۸۰؍ اراکین پر مشتمل ٹیمیں پڑوسی ملک میں روانہ کی ہیں۔

A man trapped in a flooded area in Sri Lanka. Photo: Agency
سری لنکا کے سیلاب زدہ علاقے میں پھنسا ایک شخص۔ تصویر: ایجنسی
سری لنکا میںبحری طوفان ’ دیتوا ‘ سے  پیدا ہونے والی شدید سیلابی صورتحال میں اب تک ۳۵۵؍ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیںجبکہ ۳۷۰؍سے زائد لاپتہ ہیں۔اس تباہی کے درمیان کئی ممالک نے سری لنکا کو امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سری لنکا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر (ڈی ایم سی)کے مطابق، اس آفت سے ملک بھر میں۳؍ لاکھ۹؍ ہزار ۶۰۷؍ خاندانوں کے۱۱؍ لاکھ ۱۸؍ ہزار۹۲۹؍افراد متاثر ہوئے ہیں۔ طوفان ’دیتوا‘ سے سمندر کی سطح تاریخی  بلندی پر پہنچی جس سے کئی شہر ڈوب گئے، بڑے پل بہہ گئے اور کئی اہم عمارتوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ 
اس درمیان سری لنکا میں چینی سفارت خانے نے ہنگامی نقد امداد کے طور ایک لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ نیپال نے بھی سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کے آپریشن کی حمایت کیلئے۲؍ لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔آسٹریلیا نے فوری ردعمل اور بحالی کی کوششوں کیلئے ایک ملین  آسٹریلیائی ڈالر کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ہندوستان نے متاثرہ افراد کی مددکیلئے ۸۰؍ اراکین  پر مشتمل ٹیمیں بھیجی ہیں۔یہ مشن اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ ہندوستان کی مضبوط وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
۱۷؍ نومبر کو شدید موسم کے بعد سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے وسیع پیمانے پر ہوئی تباہی سے متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں۔گزشتہ بدھ سے اب تک سائیکلون دیتوا نے تقریباً۱ء۱۲؍ملین افراد کو متاثر کیا ہے۔حکام نے۱۲۷۵؍ ریلیف سینٹرز قائم  کئے ہیں اور۱۸۰۴۹۹؍بے گھر افراد کو پناہ فراہم کی ہے
سری لنکائی فوج فضائی اور زمینی کارروائیاں کر رہی ہے تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو نکالا جا سکے، جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرین تک خوراک، پانی اور طبی  امداد پہنچانے میں مصروف ہیں ۔ بین ا لاقوامی ذرائع کے مطابق، سری لنکن ایئر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر اتوار کو بچاؤ کارروائی کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا البتہ  عملے کے تمام اراکین کو بچا کر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔حکومت نے تمام یونیورسٹیوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور وزارت تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تعلیمی مراکز میں سرگرمیاں۸؍دسمبر تک روک دی ہیں ۔ صدر انورا کمارا دیسانایکے نے سری لنکا میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK