Inquilab Logo

قبرص: طلبہ کی عالمی برادری سے اپیل، ’’غزہ میں بچوں کو مرنے نہ دیں‘‘

Updated: July 11, 2024, 2:11 PM IST | New Delhi

ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) نے فلسطینی بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ٹی آر این سی اسمبلی کا دورہ کیا۔ ٹی آر این سی اسمبلی میں اجلاس میں بچوںنے عالمی برداری سے اپیل کی کہ ’’وہ غزہ میں بچوں کو مرنے نہ دیں۔‘‘

The mental health of children is also affected  in Gaza. Photo: INN
غزہ جنگ کے سبب بچوں کی ذہنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ تصویر:ـ آئی این این

ترکی کی خبر رساںایجنسی انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) نے فلسطینی بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ٹی آر این سی اسمبلی کا دورہ کیا تھا۔ ٹی آر این سی اسمبلی میں اجلاس میں بچوںنے عالمی برداری سے اپیل کی کہ ’’وہ غزہ میں بچوں کو مرنے نہ دیں۔‘‘ 
اسمبلی کے دورہ کے بعد ڈینیز اردل ، جنرل اسمبلی کی میٹنگ میں حصہ لینے والی ایک بچی، نے کہا کہ وہ اسرائیل کے غزہ کے شہریوں پر حملوں کے بارے میں جان کر افسردہ ہے۔ اردل نے مزید کہا کہ ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں شروع ہوئی اس جنگ کے نتیجے میں ۱۵؍ ہزار، ۳۵۰؍ بچے ہلاک ہو چکے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ غزہ میں بھوک اور جنگ کے سبب ہلاک ہونے والے بچوں کی موت کی مخالفت کرنے کیلئےہماری آواز دنیا تک پہنچے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ خالی کرنے کا حکم، بے گھر افراد کے خیموں اوراقوام متحدہ کی عمارت پر بمباری

طلبہ نے ٹی آر این سی جمہوری اسمبلی میں نظمیں بھی پڑھیں اور عالمی برداری سے نظموں کے ذریعے اپیل کی کہ وہ غزہ میں بچوں کوہلاک نہ ہونے دیں۔ اس ضمن میں پارلیمنٹ کے اسپیکر زورلو تورے نے طلبہ کےاسمبلی میں آنے اور فلسطینی بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہریوں پر جارحانہ طریقے سے حملے اب بھی جاری ہے اور فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کو ناکامیاب نہ بنانے پر امریکہ اور اقوام متحدہ سیکوریٹی کاؤنسل پر تنقید بھی کی۔
 انہوں نے مزید کہا کہ ۱۴۶؍ ممالک نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے لیکن اب بھی فلسطینی شہریوں اور بچوں کا قتل عام جاری ہے۔ خیال رہے کہ اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ۳۸؍ ہزار سے زائد بچے ہلاک جبکہ ۸۰؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK