Inquilab Logo Happiest Places to Work

دادر حادثہ: نیاز احمد کی لاش ان کے آبائی وطن لے جائی گئی،بہتر معاوضے کا مطالبہ

Updated: June 10, 2026, 2:04 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

ڈرائیور نے بیان میں کہا کہ ’ہینڈ بریک‘ ہٹاتے ہی بس تیزی سے آگے بڑھ گئی۔پولیس کو یقین نہیں، آر ٹی او سےبس کی رپورٹ طلب۔

Bus Accident.Photo:INN
بس حادثہ کا شکار ہوگئی۔ تصویر:آئی این این
 دادر میں پلازہ سنیما ہال کے قریب بیسٹ بس کی ٹکر سے انتقال کرجانے والے نیاز احمد کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ایمبولنس کےذ ریعہ اس کے آبائی وطن لے جائی گئی ۔ اس دوران بس کے ڈرائیور نے تکنیکی خرابی کو حادثہ کی وجہ بتایا ہے جس پر پولیس کو یقین نہیں ہے اور اس تعلق سے مزید تفتیش جاری ہے۔
 
 
سائن اسپتال میں موجود علی اور دیگر چند رشتہ دار نیاز کی لاش ایمبولنس کے ذریعہ اترپردیش لے گئے ہیں۔ علی نے بتایا کہ نیاز کے پسماندگان میں ایک چھوٹی بہن اور والدین ہیں۔ نیاز ممبئی آنے کے بعد ابتداء میں ٹھیلے پر آلو اور پیاز وغیرہ فروخت کیا کرتا تھا لیکن بعد میں اچھی آمدنی کیلئے سویگی میں ڈیلیوری کاکام کرنے لگا۔ وہ اپنی بہن کی شادی کیلئے رقم جمع کررہا تھا اور خود اس کی بھی شادی قریب تھی جس کیلئے وہ ۱۷؍ جون کو اپنے گھر جانے کی تیاری کررہا تھا۔ اہلِ خانہ کی ضرورت کے پیش نظر زیادہ پیسے کمانے کیلئے وہ زیادہ وقت کام کیا کرتا تھا۔علی نے کہاکہ وہ سویگی اور بیسٹ سے مطالبہ کرتے ہیںکہ نیاز کے پسماندگان کو بہتر معاوضہ دیا جائے کیونکہ اس کے والد کی بینائی متاثر ہوچکی ہے اور وہ گھر کا تنہا کمانے والا تھا۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں فون پر اطلاع ملی تھی کہ نیاز حادثہ کا شکار ہوگیا ہے لیکن جب وہ سائن اسپتال پہنچے تو انہیں اس کے انتقال کی خبر دی گئی۔ ابتداء میں انہوں نے اس کے گھر والوں کو انتقال کی اطلاع نہیں دی تھی لیکن بعد میں انہیں بتانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ایسا ہی کچھ معاملہ شدید زخمی ہونے والے رشبھ گپتا کا ہے جو گرو نانک کالج میں زیر تعلیم ہونے کے ساتھ ڈیلیوری بوائے کا کام کرتا تھا اور اس کی آمدنی سے گھر کا خرچ اور چھوٹی بہن کی پڑھائی کے اخراجات پورے ہوتے تھے۔
 
 
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بس کے ڈرائیور وکاس پڈارے نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ جب بس کچھ آگے بڑھی تو اس نے ہینڈ بریک ہٹادیا جس پر بس انتہائی تیزی سے دوڑنے لگی اور بے قابو ہوگئی۔ اس نے راہگیروں اور دیگر گاڑیوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکا۔البتہ پولیس کو اس کے بیان پر یقین نہیں ہے۔ اس کی تصدیق کیلئے انہوں نے ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر کو بس کی جانچ کرکے اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ کی جانچ کرنے اور چشم دید گواہوں کے بیانات سے حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔واضح رہے کہ بیسٹ بسوں سے ہونے والے حادثات میں لگاتار اضافہ ہوتا جارہا ہے اور خاص طور پر ’ویٹ لیز‘ پر ٹھیکے پر حاصل کی گئی الیکٹرک بسوں سے زیادہ حادثات ہورہے ہیں۔ ریکارڈ کے مطابق گزشتہ ۳؍ برسوں میں بیسٹ کی بسوں سے ۹۵۰؍ سے زائد حادثات ہوچکے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK