۱۵؍افراد پر کیس درج ۔ دیگرافراد کی تلاش جاری۔ اس واقعہ سے معتقدین میں غم و غصہ۔اراکین اسمبلی امین پٹیل اور رئیس شیخ نے پولیس اسٹیشن پہنچ کر حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ معین میاں کی قیادت میں ایک وفد نے پولیس کمشنر سے ملاقات کی۔
معین میاں پولیس کمشنردیوین بھارتی کومیمورنڈم دیتے ہوئے جبکہ دیگر افراد بھی موجود ہیں- تصویر:آئی این این
اتوار کو المشائخ کونسل کے صدر ، دارالعلوم محمدیہ کے ناظم اور کچھوچھہ شریف کی قابل احترام شخصیت مولانا سیّد خالد اشرف اور ان کے ۲؍ بیٹوں پر پالا گلی ، ڈونگری کے چند غنڈوں نے معمولی بات پر سلاخوں، لاٹھیوں اور دیگر چیزوں سے حملہ کیا اور انہیں بے رحمی سے زدو کوب کیا ۔ پولیس نے اس معاملہ ۱۵؍ حملہ آوروں کے خلاف اقدام قتل اور دیگر کئی دفعات کے تحت کیس درج کرتے ہوئے چند افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ملزمین کی تلاش جاری ہے ۔ اس واردات کے بعد جہاں آل انڈیا سنی جمعیۃ علماء اور مولانا کے معتقدین میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔
ڈونگری پولیس میں مولانا خالد اشرف کی درج کردہ شکایت کے مطابق ’’گزشتہ روز جب ان کا بیٹا معیذ اسکوٹر پر جارہا تھا تو رحمت بھائی فضل بھائی اسکول کے قریب مجید لالہ کے چھوٹا بیٹے نے معیذ کی اسکوٹر کو ٹکر مار دی اور جب غلطی کرنے پر اعتراض کیا گیاتواس نے بدکلامی کی پھر اپنے باپ کو فون لگایا اور اس نے بھی معیذ کو دھمکایا ۔ اس وقت بیٹا گھر لوٹ آیا لیکن جب وہ اپنے بیٹوں معیذ اور پیرزاہد کے ساتھ اپنے بھائی سیّد نظام اشرف کے گھر قرآن خوانی میں جارہے تھے تبھی فضل بھائی اسکول کے پاس اس نوجوان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ہمیں گھیر لیا اور ان کی عمر کا خیال کئے بغیراور اپنی شناخت ظاہر کرنے کے باوجود انہوںنے ہم پر قاتلانہ حملہ کر دیا اور لاٹھی، لوہے کی سلاخ ،کرسی اور جو چیز ہاتھ میں آئی اس سے ہمیں بری طرح زد وکوب کیا ۔ اگر وہاں مقامی لوگ نہ آتے تو شاید وہ ہمیں جان سے ہی مار دیتے۔‘‘اس حملہ میں مولانا اور دونوں بیٹوں کو شدید چوٹ آئی اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔
مولانا اور ان کےبیٹوں پر ہوئے حملے کی خبر ملتے ہی اراکین اسمبلی امین پٹیل اور رئیس شیخ خود ڈونگری پولیس اسٹیشن پہنچے جہاں مولانا کے معتقدین اس حملہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کررہے تھے اورحملہ آوروں کو فوراً گرفتار کرنے کا مطالبہ کررہے ۔ دونوں لیڈروں نے مولانا پرحملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے جہاں اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے وہیں پولیس سے حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ اسی درمیان سماج وادی پارٹی لیڈر یوسف ابراہانی نے بھی ڈونگری پولیس کے سینئر افسران سے ملاقات کرکے منشیات کے کاروبار میں ملوث اورسماج دشمن عناصر کے خلاف فوراً کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پیر کو آ ل انڈیا سنی مسلم جمعیۃ علماء کے صدر سیّد معین الدین اشرف ( معین میاں )کی قیادت میں نائب صدر محمد سعید نوری اور مولانا سیّد خالد اشرف کے ہمراہ ایک وفد نے ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کرکے اس حملہ میں ملوث ڈرگ مافیا اور اس سے جڑے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اپیل کی ۔ انہوں نے پولیس کمشنر نے سےکہا کہ’’ مولانا پر حملہ کرنے والےیہ سماج دشمن عناصر نہ صرف ہمارے معاشرے بلکہ ہمارے نوجوانوں کیلئے خطر ہ ہیں اس لئے ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے ۔‘‘
ڈونگری کے سینئر پولیس انسپکٹر گونڈو رام وکیلا جی بانگر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’ کل ۱۵؍ افراد کے خلاف اقدام قتل اور دیگر دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے ۔ ان میں سے چند افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اور جلد ہی بقیہ ملزمین کو گرفتار کرلیا جائے گا ۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ۔‘‘