• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ کے پبلک ٹرانسپورٹ میں نسلی اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ: ڈیٹا

Updated: January 05, 2026, 2:17 PM IST | London

ایک دستاویز کے مطابق برطانیہ کے پبلک ٹرانسپورٹ میں نسلی اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہوا ہے،ان جرائم میں دھمکی آمیز رویہ، زبانی زیادتی یا محض مذہب کی بنیاد پر جسمانی حملہ شامل ہیں۔ برطانوی مسلم ٹرسٹ کی سربراہ کے مطابق ’’بالخصوص نمایاں طور پر مسلمان ہونے کی صورت میں بس کے اوپری ڈیک یا نیم خالی ٹرین کے ڈبے میں سفرکے دوران دھمکی آمیز رویہ، زبانی زیادتی یا محض مذہب کی بنیاد پر جسمانی حملہ کا تجربہ عمومی طور پر دیکھا جارہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایک دستاویز کے مطابق برطانیہ کے پبلک ٹرانسپورٹ میں نسلی اور مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ ہوا ہے،ان جرائم میں دھمکی آمیز رویہ، زبانی زیادتی یا محض مذہب کی بنیاد پر جسمانی حملہ شامل ہیں۔ برطانوی مسلم ٹرسٹ کی سربراہ کے مطابق ’’بالخصوص نمایاں طور پر مسلمان ہونے کی صورت میں بس کے اوپری ڈیک یا نیم خالی ٹرین کے ڈبے میں سفرکے دوران دھمکی آمیز رویہ، زبانی زیادتی یا محض مذہب کی بنیاد پر جسمانی حملہ کا تجربہ عمومی طور پر دیکھا جارہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: اسلام آباد عدالت نے ۲۰۲۳ء فسادات کے ۷؍ ملزمین کو سزائے موت سنائی

پولیس اعدادوشمار کے مطابق برطانیہ میں عوامی نقل و حمل کے دوران نسل اور مذہب کی بنیاد پر ہونے والے نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جمعے کے روز جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق۲۰۲۴-۲۵ء کے دوران۳۲۰۰؍ سے زائد نسل پرستانہ جرائم درج کیے گئے ہیں۔برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ انگلینڈ، ویلز اورا سکاٹ لینڈ میں ریل اور بس نیٹ ورکس پر نسل پرستانہ جرائم کی تعداد۲۰۱۹-۲۰ء میں ۲۸۲۷؍ سے بڑھ کر۲۰۲۴-۲۵ء میں ۳۲۵۸؍ ہوگئی ہے جو ایک مستقل اضافے کا رحجان ظاہر کرتا ہے۔پولیس فورسیزنے مذہبی بنیاد پر ہونے والے جرائم میں بھی اضافے کی اطلاع دی ہے، جو خاص طور پر انگلینڈ اور ویلز میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ اسی دوران سکاٹ لینڈ میں نسل پرستانہ جرائم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گارجین کے حاصل کردہ اعداد وشمار کے مطابق، برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے ریکارڈ کردہ مذہبی نفرت انگیز جرائم کی تعداد۲۰۱۹ء-۲۰ء میں۳۴۳؍ سے بڑھ کر۲۰۲۳-۲۴ء میں ۴۱۹؍ ہوگئی تھی، جس کے بعد۲۰۲۴-۲۵ء میں یہ تعداد تھوڑی کم ہو کر۳۷۲؍ رہ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: انجلینا جولی کا رفح بارڈر (مصر) دورہ، زخمی فلسطینیوں سے ملاقات

برٹش مسلم ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو عقیلہ احمد نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ان رپورٹس کی عکاسی کرتے ہیں جو ان کی تنظیم کو پورے ملک سے موصول ہو رہی ہیں اور انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ ’’فوری اور معنی خیز اقدامات‘‘ کریں۔ عقیلہ احمدنے کہا کہ ’’بالخصوص نمایاں طور پر مسلمان ہونے کی صورت میں بس کے اوپری ڈیک یا نیم خالی ٹرین کے ڈبے میں سفر کا مطلب ہو سکتا ہے دھمکی آمیز رویہ، زبانی زیادتی یا محض مذہب کی بنیاد پر جسمانی حملہ۔‘‘انہوں نے کہا کہ عوامی نقل و حمل کے دوران درج ہونے والے واقعات ان کی تنظیم کے حل کیے جانے والے انتہائی پیچیدہ اور پریشان کن معاملات میں سے ہیں۔احمد نے مزید کہا کہ یہ پریشان کن امر ہے کہ رپورٹ ہونے والے اکثر زبانی اور جسمانی حملوں میں اسکول جانے والے بچے ملوث ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ بسوں اور اسٹاپوں پر سی سی ٹی وی کا محدود احاطہ مجرموں کو جوابدہی سے بچنے کا موقع دیتا ہے۔گارجین کے حوالے سے برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ  ’’بے حرمتی، دھمکیاں اور تشدد خاص طور پر وہ جو نفرت کی بنیاد پر ہو کبھی برداشت نہیں کی جائے گی، اور ہم ریل نیٹ ورک پر نفرت انگیز جرائم کی رپورٹ ملتے ہی فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK