ہندوستان کی معروف آئی ٹی کمپنی انفوسس (انفوسس) نے آئندہ مالی سال ۲۰۲۷ء میں ۲۰؍ہزار کالج گریجویٹس کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سلیل پاریکھ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس سے یہ جانکاری دی۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 5:16 PM IST | davos
ہندوستان کی معروف آئی ٹی کمپنی انفوسس (انفوسس) نے آئندہ مالی سال ۲۰۲۷ء میں ۲۰؍ہزار کالج گریجویٹس کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سلیل پاریکھ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس سے یہ جانکاری دی۔
ہندوستان کی معروف آئی ٹی کمپنی انفوسس (انفوسس) نے آئندہ مالی سال ۲۰۲۷ء میں ۲۰؍ ہزار کالج گریجویٹس کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ کمپنی کے سی ای او سلیل پاریکھ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داؤس سے یہ جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی اپنے سروس پورٹ فولیو کو اُن شعبوں کی طرف موڑ رہی ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے ٹی ) کے ذریعے ترقی کے نئے مواقع سامنے آ رہے ہیں۔
سلیل پاریکھ اس وقت داؤس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف)کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔
اے آئی سے پیدا ہونے والے نئے مواقع
انفوسس کے سی ای او نے کہا کہ اگرچہ روایتی آئی ٹی سروسیز کے کچھ حصوں میں دباؤ نظر آ رہا ہے، لیکن اے آئی کی وجہ سے نئے شعبوں میں کام اور مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پاریکھ نے کہا ’’ہم کچھ جگہوں پر دباؤ دیکھتے ہیں اور کچھ جگہوں پر ترقی۔ مجموعی طور پر ہمیں دباؤ کے مقابلے میں زیادہ ترقی دکھائی دے رہی ہے۔‘‘انہوں نے بتایا کہ اے آئی سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، کسٹمر سروس اور لیگیسی ایپلیکیشنز کی ماڈرنائزیشن جیسے شعبوں میں نئی سروس ڈیمانڈ پیدا کر رہا ہے۔اے آئی ایجنٹس اور مختلف فاؤنڈیشن ماڈلز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے یہ مانگ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں مختلف فاؤنڈیشن ماڈلز پراے آئی ایجنٹس تیار ہو رہے ہیں جبکہ کسٹمر سروس اور پرانے لیگیسی سسٹمز کو ایجنٹس کے ذریعے جدید بنانے کا عمل بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان کی ’’کنگ‘‘ کرسمس ۲۰۲۶ء پر ریلیز ہوسکتی ہے، سدھارتھ نے اشارہ دیا
پی او سی سے پروڈکشن کی طرف بڑھتا اے آئی
پاریکھ نے اس بات پر زور دیا کہ کئی کلائنٹس کے یہاں اے آئی اب صرف پائلٹ یا پروف آف کنسیپٹ ( پی او سی ) تک محدود نہیں رہا، بلکہ بڑے پیمانے پر پروڈکشن میں استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فنانشل سروسز میں ہمارے ۲۵؍سب سے بڑے کلائنٹس میں سے ۱۵؍ کے لیے ہم اے آئی کے پارٹنر آف چوائس ہیں۔ یہ صرف پی او سی نہیں بلکہ بینکنگ سسٹمز میں بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے پروجیکٹس ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:انڈونیشیا: غاروں میں ۶۷؍ ہزار ۸۰۰؍ سال پرانا دنیا کا قدیم ترین راک آرٹ دریافت
اےآئی کی وجہ سے قیمتوں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے سوال پر پاریکھ نے کہا کہ اے آئی پر مبنی ڈیلیوری کے لیے پرائسنگ ماڈلز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ ایک شروعات کے دور ہے۔ ہم کچھ کاموں میں ایجنٹ بیسڈ پرائسنگ یا انسانی اور اے آئی ایجنٹس کی مشترکہ ٹیموں کی بنیاد پر قیمتیں طے کر رہے ہیں، لیکن اس کا پیمانہ ابھی چھوٹا ہے۔‘‘