گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں لگی بھیانک آگ پر ۲۴؍ گھنٹہ بعد قابو پایا جاسکا۔
کراچی میں بھیانک آتشزدگی کے بعد کا منظر۔ تصویر: آئی این این
کراچی شہر کے کاروباری علاقے میں واقع کثیر منزلہ گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں بھڑکنے والی آگ پر ۲۴؍ گھنٹہ بعد کہیں جاکر پوری طرح قابو پایا جاسکا۔ گنجان آباد علاقے میں بچاؤ کام میں بھی شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بیچ پیر کی شام تک اس سانحہ میں جاں بحق ہونےوالوں کی تعداد ۲۶؍ ہوگئی جبکہ اب بھی درجنوں افراد لاپتہ ہیں۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں اس حادثے کےبعد بچاؤ کام کے دوران ایک فائر فائٹر بھی ہلاک ہوگیا ہے۔ فائر بریگیڈ عملہ نے پیر ۶۰؍سے زائد لاپتہ افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہےاس لئے مہلوکین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کا اندیشہ ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد کے مطابق آگ بجھا دی گئی ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے، مگر شدید نقصان کے باعث فائر بریگیڈ نے عمارت کے اندر کارروائی روک دی ہے اور ابھی صرف ملبہ ہٹایا جا رہا ہے۔ اتوار کی رات سے مزید ۵؍ افراد کی لاشوں کے باقیات جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، نکالے گئے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق۵۴؍ تا ۵۹؍ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ پولیس موبائل فون ڈیٹا کے ذریعے گمشدہ افراد کا سراغ لگا رہی ہے اور اہل خانہ سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔دھواں اور جھلسنے کے باعث درجنوں افراد زخمی ہوئے، جنہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے پیر کو جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسے قومی سانحہ قرار دیا۔