شہرمیں مقیم بہار کے بیوروکریٹس اس کے ذریعےاپنی ریاست کی تہذیب کوفروغ دینےکے خواہشمند۔ شیوسینااور ایم این ایس نے مخالفت کی۔
ممبئی میں رہائش پزیربہار کے باشندوں کو’بہاربھون‘ بننے سے کافی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ تصویر: آئی این این
ایک طرف شیو سینا (یو بی ٹی) اور مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) نے ممبئی پورٹ اتھاریٹی کی ملکیت والے پلاٹ پر ۳۰؍منزلہ بہار بھون بنانے کے بہار حکومت کے منصوبے کی سخت مخالفت کی ہےتو دوسری طرف ممبئی میں مقیم بہار کے بیوروکریٹس اور ممتاز شخصیات نے بہار بھون کی تعمیر کاخیرمقدم کیا ہے ۔ اس سے جہاں ممبئی میں بہارکی نمائندگی ہوگی وہیں پڑھائی اور علاج کیلئے آنےوالوں کی رہائش کا مسئلہ بھی حل ہوسکےگا۔
اس ضمن میں شیو سینا(یوبی ٹی ) اور ایم این ایس کاکہنا ہے کہ خالی زمین کو شہر کے مکینوں کی سہولیات کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے۔شیو سینا کے سینئر لیڈر ونائک رائوت نے کہاہےکہ ’’ممبئی میں منظم طریقے سے زمینوں پر قبضہ بلدیاتی انتخابات کے فوراً بعد شروع ہو گیا ہے۔ ہمیں حیرت نہیں ہوگی اگر کل گجرات بھون باندرہ کرلا کمپلیکس (بی کے سی ) میں بنایا جاتا ہے، یہ قابل قبول نہیں ہوگا۔‘‘
بہاربھون کی تعمیر کےتعلق سے ممبئی میں مقیم پٹنہ کےروی شنکر سری واستو جوکہ ممبئی محکمہ انکم ٹیکس میں پرنسپل کمشنر کےعہدے پر فائز ہیں ،نے اس نمائندہ سےگفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’ ویسے تو ممبئی میں بہار بھون بنانےکی کوشش کئی برس قبل شروع کی گئی تھی لیکن متعدد تکنیکی دشواریوںکی وجہ سے یہ کام نہیں ہوپایاتھا۔ بہارکےسابق وزیر اعلیٰ سشیل مودی اور لالوپرساد یادوکےعلاوہ دیگر اعلیٰ لیڈران نے بھی ممبئی میں بہاربھون بنانےکی جدوجہد کی تھی مگر اصل کامیابی ۲۰۰۸ء کےبعدملی ۔ گزشتہ ۱۸، ۲۰؍ سال کی محنت کےبعد موجودہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ممبئی میں بہار بھون تعمیر کرنےکے فیصلہ کو ہری جھنڈی دکھائی اوراس کیلئے ۱۳؍جنوری ۲۰۲۶ء کو بہارکی کابینہ میں ۳۱۴؍کروڑ روپے کافنڈ مختص کیا جس سے یہ اُمید بن گئی ہےکہ اپریل ۲۰۲۶ءمیں اس کے تعمیراتی کام کا ٹینڈر وغیرہ جاری کیاجائے گا۔‘‘ انہوں نےیہ بھی کہاکہ ’’ اس بھون کی تعمیر کے ذریعے ہم بہار کی تہذیب وثقافت کو فروغ دیناچاہتےہیں ۔ اس معاملہ میں ناگپاڑہ اور دھاراوی میں مقیم بہار کے باشندوں نے اہم کردار نبھایاہے ،ان کی انتھک محنت اور کوششوں کی وجہ سے بہار بھون بنانےکی مہم کامیاب ہوئی ہے۔‘‘
بہار فائونڈیشن ممبئی کے سابق چیئرمین اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایکسپورٹ پرموشن منسٹری آف فائنانس ابھے کمار کےمطابق ’’ممبئی میں دیگر صوبو ں کے بھون پہلے سے موجود ہیں لیکن بہار بھون نہ ہونے سےوہاں کے باشندوں کی بھی خواہش تھی کہ ممبئی میں بہار بھون بنایاجائے تاکہ بہار کی نمائندگی ہوسکے۔ اسی جذبہ کےتحت ہم سب نے مل کر ممبئی میں بہار بھون کیلئے جگہ حاصل کرنے کی تگ ودو کی جس میں ہمیں کامیابی ملی۔ بہار بھون بن جانے سے ممبئی میں بہار کےکلچر کو فروغ دینے میں مددملےگی۔ ‘‘
ضلع مدھوبنی کے پروفیسر فیروزاحمد شیخ جو محمدعلی روڈ پرمقیم ہیں، کےبقول’’ بہار بھون کی تعمیر حکومت بہار کا بہت ہی اچھا اوربر وقت اقدام ہے۔ ممبئی میں بہار بھون کی ضرورت کو پوراکرنے کابیڑہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار نےاُٹھایا ہے۔اہل بہار روزگار اور کینسر جیسے مہلک مرض کےعلاج کیلئے بڑی تعداد میں ممبئی آتے ہیںجنہیںقیام اوررہائش کی دشواری پیش آتی تھی ،جو بہاربھون بن جانے سے نہیں ہوگی ۔مزید بہار کے تہذیبی و ثقافتی پروگرام بھی بہار بھون کے تحت بخوبی انجام دئیے جاسکیں گے۔‘‘
ممبئی میں مقیم ارریاضلع کے اسلم حسن جو محکمہ کسٹم (زون ایک )میں کمشنرکےعہدہ پر خدمات انجام دےرہےہیں، نے بہار بھون کےقیام کے تعلق سے اس نمائندہ سےکہاکہ ’’ بڑی خوشی کی بات ہےکہ ممبئی میں بہار بھون بنانےکامنصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اس سے جہاں ممبئی میں بہارکے باشندوں کی نمائندگی ہوگی وہیں پڑھائی اور علاج کیلئے ممبئی آنے والے لوگوںکو رہائش کی آسانی ہوجائے گی۔ علاوہ ازیں دیگر سرگرمیاں بھی انجام دی جاسکیں گی۔ ‘‘