باندرہ تا بوریولی پانچویں اورچھٹی لائن پرطویل مسافتی اور دیگر لائنوں پرلوکل ٹرینیں الگ الگ چلانے کی سہولت دستیاب۔ مسافروں کو راحت ملےگی ۔اضافی خدمات کیلئے راستہ ہموار ہوگا۔
ریلوے سیفٹی کمشنر اور دیگر افسران ویسٹرن ریلوے کی چھٹی لائن کا جائزہ لینے کے دوران۔ تصویر: آئی این این
چھٹی لائن کا کام پورا ہونے کے بعد ریلوے سیفٹی کمشنر اوران کی ٹیم کی جانب سےنئے ٹریک کا جائزہ لیا گیا اور ہری جھنڈی کے بعد نئی پٹری پر ٹرینوں کی آمدورفت شروع کردی گئی ۔ اس طرح اب ایک ماہ طویل بلاک کے بعد باندرہ سے بوریولی کے درمیان پانچویں اور چھٹی لائن پرطویل مسافتی ٹرینیں اور دیگر ایک تا ۴؍ لائنوں پر تیز رفتار اور دھیمی رفتار والی لوکل ٹرینیں چلانے کی سہولت دستیاب ہوگئی ہے۔ اس کا بنیادی فائدہ یہ ہوگا کہ مسافروں کو سہولت ہوگی اور ان کا وقت بچے گا۔
ایک ایک چیز کی نگرانی اوردیکھ ریکھ
سیفٹی کمشنر کی جانب سے خاص طورپر حفاظتی نقطۂ نظر سے ہرچیزکو دیکھا اورپرکھا جاتا ہے۔ اس تعلق سے ویسٹرن ریلوے کےچیف پی آر او ونیت ابھیشیک نے نمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ ’’تمام کام پورا ہوجانے کے بعد سب سے اہم مرحلہ سیفٹی کمشنر کا جائزہ اور منظوری کا ہوتا ہے۔ان کی جانب سے پٹری کاجائزہ لیا جاتا ہے اور ایک ایک پوائنٹ کودیکھا جاتا ہے کہ تمام اصول و ضوابط اورحفاظتی امور کوصد فیصد پورا کیا گیا ہے یاکہیں نقص رہ گیا ہے۔معمولی کمی پربھی ٹرینیںچلانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے کیونکہ ایسا کرنے کا مطلب مسافروں کی حفاظت سے کھلواڑ کرنا ہوگا، اس لئے پورا دن سیفٹی کمشنر اوران کی ٹیم کی جانب سے جائزہ لیا جاتا رہا پھر منظوری دی گئی ۔ ‘‘
یادرہے کہ بلاک کی وجہ سے ایک مہینے سے ویسٹرن ریلوے کے لاکھوں مسافر پریشان تھے کیونکہ روزانہ کبھی ۱۰۰؍ تو ۱۵۰؍ تو کبھی ۷۵؍ تو کبھی ۱۲۰؍ لوکل ٹرینیں منسوخ کی جاتی رہیں ۔ اس کا اندازہ اس سے بھی کیاجاسکتا ہے کہ مجموعی طور پر ۳۲۰۴؍ ٹرینیں رد کی گئیںاورتاخیر سے چلائی جانے والی سیکڑوں ٹرینیں اس کے علا وہ تھیں مگراب ٹرینیں معمو ل کے مطابق بلا کسی رکاوٹ کے چلانے کا راستہ صاف ہوگیا ہے اور مسافر آرام کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔
نئی پٹری بچھانے کے دوران کیا کا م کیا گیا
چھٹی لائن بچھانے کیلئے ۲۰؍ اور ۲۱؍دسمبر کی درمیانی شب سے شروع کئے جانے والے ایک ماہ کے بلاک کے دوران (۱) ٹریک انفراسٹرکچر (مستقل راستہ)بنایا گیا (۲) کاندیولی اور بوریولی میں متعدد کٹ اور کنکشن کئے گئے(۳) موجودہ ۵؍ ویں لائن میں بھی جو کمی تھی، اسے دور کیا گیا(۴) ۱۹؍ پوائنٹس اور کراسنگ کا اندراج کرتے ہوئے اسے درست کیا گیا (۵) مربوط کرنے کی غرض سے موجودہ ۱۸؍ الگ الگ پوائنٹس اور کراسنگ کو ختم کیا گیا (۶) ۱۳؍ سوئچ ایکسپینشن کو جوڑا گیا (۷)پٹری کے درمیان آنے والے ایک بڑے اور ۴؍ چھوٹے پل کی مرمت کی گئی (۸)اوراوورہیڈوائر سے لے کر سگنل اور دیگر برقی آلات کی تنصیب کی گئی ۔
مسافروں کوکیا فائدہ ملے گا ؟
چھٹی لائن کا کام پوراکئے جانے کےبعدویسٹرن ریلوے انتظامیہ کی جانب سےمسافروں کی راحت رسانی کے تئیں متعدد دعوے کئے گئے جو کچھ اس طرح ہیں:
(۱)چھٹی لائن کے کام کے بعد اب میل اورایکسپریس ٹرینوں کیلئے الگ الگ روٹ مہیا ہوگئے (۲) اس سے قبل تک طویل مسافتی ٹرینوں اور تیز رفتار لوکل ٹرینوں کو ایک ہی پٹری سے گزارناپڑتا تھا (۳) لوکل ٹرینیں رَد کرنی پڑتی تھیںمگر اب اس کی ضرورت نہیں ہوگی (۴) رفتار بھی متاثر ہوتی تھی، وہ اب نہیں ہوگی (۵) اس سے مسافروں کا وقت بچے گا (۶) مزید ٹرینیں چلانے کیلئے منصوبہ بندی آسان ہوگی اور ٹرینیں بڑھانے میں دشواری نہیں ہوگی (۶) لوکل اور طویل مسافتی، دونوں ٹرینوں کے مسافروں کوراحت ملے گی(۷) زائد ٹرینیں چلانے کی سہولت دستیاب ہونے سے صبح وشام کے حد درجہ بھیڑ بھاڑ کے اوقات میںاضافی خدمات چلانے کی گنجائش ممکن ہوگی جس سے بھیڑبھاڑ پرقابو پایا جاسکےگا اورممبئی والوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرنا کسی قدر آسان ہوگا (۸) نئے پروجیکٹ کےلئے راہ ہموار ہوگی۔