یہاں رشید کمپائونڈ کے ۲۵؍سالہ میکینک محمد آصف صدیقی نے الائٹ آکٹین انک کی جانب سےپونےمیں منعقدہ ’ڈریگ بائک ریس چمپئن شپ‘ میں عمدہ کارکردگی کامظاہرہ کیا۔
محمدآصف صدیقی اپنی بائک کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این
یہاں رشید کمپائونڈ کے ۲۵؍سالہ میکینک محمد آصف صدیقی نے الائٹ آکٹین انک کی جانب سےپونےمیں منعقدہ ’ڈریگ بائک ریس چمپئن شپ‘ میں عمدہ کارکردگی کامظاہرہ کیا۔ اپنی تیارکردہ بائیک سے ڈریگ بائیک ریس مقابلہ میںحصہ لےکر انہوں نے سوم مقام حاصل کیا۔ وہ گزشتہ ۳؍سال سے اس مقابلہ میں حصہ لے رہے تھے لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے ۴۰۰؍میٹر کی ڈریگ ریس ۱۲ء۸۳۷؍ مائیکروں سیکنڈمیں مکمل کرکے تیسرا مقام حاصل کیا۔
محمد آصف کو بچپن سے میکینک بننے کا شوق تھا،اسی وجہ سے دسویں پاس کرکے ۱۶؍ سال کی عمر میںمیکینک کاکام سیکھنا شروع کیا۔ کام سیکھ کر پہلے ممبرا میں اور اب دیوا میں خود کا گیریج چلارہا ہے۔ کورونابحران کےدوران کام نہ ہونےکی وجہ سے سوشل میڈیا پر مصروف ہونے کے دوران انسٹاگرام پر ڈریگ ریس دیکھنے کاشوق پیداہوا۔ بعدازیں اس ریس میں دلچسپی پیداہونےسے انہوں نے اس میں حصہ لینے کافیصلہ کیا۔ ڈریگ ریس کی پوری معلومات حاصل کرکے مقابلہ کیلئے انہوں نے اپنی بائک میں تبدیلی کرنے اوراسے مزید فعال اور متحرک بنانےکی کوشش کی جس میں مہارت حاصل کرکے انہوں نے مذکورہ مقابلےمیں حصہ لینے کاآغازکیا۔
محمد آصف کےبقول’’ پونےمیں حال ہی میں منعقدہ ڈریگ ریس مقابلہ میں ہندوستان کے علاوہ بیرون ملک کےبائک سواروںنے بھی حصہ لیاتھا۔اس میں حصہ لینےکیلئے میںنے یاما آرایکس ۱۰۰؍ بائک جو ۱۰۰؍سی سی پر مشتمل تھی، پہلے اسے ۱۶۵؍سی سی میں تبدیل کیاتاکہ اس کےانجن کی قوت بڑھ سکے۔ اس کےعلاوہ بائک کے وزن کو ۱۰۲؍کلو سے کم کرکے ۶۸؍ کلوکیا تاکہ بائک تیز رفتاری سے چلائی جاسکے۔ اس کی اُونچائی کم کی، اس کےکچھ اسپیئر پارٹس اورٹائر تبدیل کئے۔ یہ سارے کام اپنے ہاتھوں سےکئے تاکہ میںاپنی مرضی کےمطابق تیزرفتاری سےبائک چلاسکوں۔ میری منصوبہ بندی کام آئی اور تیسری مرتبہ اس مقابلہ میںحصہ لینےپر مجھے کامیابی نصیب ہوئی ۔‘‘ ایک سوال کےجواب میں محمد آصف نے کہاکہ ’’ مقابلہ میں تقریباً ۳۰۰؍ بائک سو اروںنے حصہ لیا تھا۔‘‘