نااہل قرار دیئے گئے اسکولوں میں ۳۲۴؍ سیکنڈری اور ۵۰۵؍ہائر سیکنڈری نیز جونیئر کالج شامل ۔تعلیمی تنظیموں کا حکومت سےفیصلہ واپس لینے کا مطالبہ۔
طلبہ کیلئے مسئلہ۔ تصویر:آئی این این
ریاستی محکمہ تعلیم کی باربار نشاندہی کے باوجود جن اسکولوں نے ضروری معلومات فراہم نہیں کی اور معیارات پر پورا نہیں اترے، ایسے ۸۲۹؍ اسکولوں اور ۷۹۴؍ جماعتوں کو نااہل قرار دے کر ان کی سبسڈی روکنے اور ان اسکولوںکو بند کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ نااہل قرار دیئے اسکولوں میں ۳۲۴؍ سیکنڈری اور ۵۰۵؍ہائر سیکنڈری اسکول اور جونیئر کالج شامل ہیں۔ حکومت نے اس سے قبل مختلف فیصلوں کے ذریعے ایسے اسکولوں کیلئے تشخیصی معیارات طے کئے تھے ۔ جو اسکول ان معیارات کے مطابق اہل تھے، انہیں مرحلہ وار تنخواہوں میں سبسڈی دی گئی لیکن حکومت نے یہ سخت قدم بعض اسکولوں کے بار بار جانچ کے باوجود نااہل ہونے کے بعد اُٹھایا ہے۔
قانون کے مطابق اگر کوئی اسکول مسلسل ۳؍ سال تک نااہل قرار دیاجائے تو اس کی منظوری منسوخ کر دی جاتی ہے لیکن کچھ اسکول بار بار کی جانچ کے باوجود نااہل قرار دیئے ہیں ۔اس طرح کے ۸۲۹؍ اسکول ہیں جو بغیر گرانٹ کے مستقل بنیادوں پر تسلیم کئے گئے تھے اور بار بار تشخیص میں نااہل پائے گئے تھے، انہیں تنخواہ کی گرانٹ کیلئے مستقل طور پر نااہل قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں ممبئی میٹروپولیٹن علاقے کے ۵۴ ، تھانے ضلع کے ۶۸؍ اور پال گھر کے ۴۶؍ اسکول بھی شامل ہیں ۔ اس کا مطلب ان تینوں اضلاع کے ۱۶۸؍ اداروں کی سرکاری گرانٹ روک دی جائے گی۔ پونے، رائے گڑھ اور ناسک اضلاع کے اسکول بھی اس فیصلے سے متاثر ہوں گے ۔ کچھ دیہی اضلاع میں بھی ایسی ہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔
اکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثارنے اس تعلق سےبتایا کہ ’’ حکومت نے ریاست کی سیکڑوں اسکولوں اور جماعتوں کو مستقل طور پر نااہل قرار دے کر بند کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ غلط اور ناانصافی پر مبنی ہے ۔ اس فیصلے سے طلبہ کی تعلیم، اساتذہ کا مستقبل اور دیہی و پسماندہ علاقوں کا تعلیمی نظام شدید متاثر ہوگا ۔ جن اسکولوں نے ۴۰؍ اور ۶۰؍فیصد سبسڈی کی کارروائی مکمل کرلی ہے، ایسے اسکولوں کو بند کرنا سراسر غلط ہے ۔صرف تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر اسکولوں کو مستقل طور پر نااہل قرار دینا مناسب نہیں ہے ۔ان اسکولوں کے بارے میں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ معیار پورا کرنے والے اسکولوں کو تحفظ دیا جائے، اسکول بند کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، طلبہ اور اساتذہ کے مفاد کا خیال رکھاجائے۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’اگر حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہیں لیا تو اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ ریاست بھر میں احتجاج شروع کرے گی ۔‘‘