Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپ پر ایران جنگ کے اثرات نظر آنے لگے، میکسیکو نے ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی پالیسی اپنائی

Updated: April 14, 2026, 10:22 PM IST | Brussels/Berlin/Madrid/Mexico City

یورپ میں توانائی کے بحران پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیر لیین نے کہا کہ محض ۴۴ دنوں میں یورپی یونین کے فوسل فیول کی درآمدات کا بل ۲۲ بلین یورو سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یورپ فوسل فیول پر انحصار کی ”بہت بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔“

Claudia Sheinbaum and Ursula von der Leyen. Photo: X
ارسلا وان ڈیر لیین اور کلاڈیا شینبام۔ تصویر: ایکس

مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے یورپ تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ سے پیدا ہونے والی مشکل صورتحال کا سامنا کررہا ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے توانائی کی طلب میں فوری کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ براعظم میں توانائی کے بحران پر گفتگو کرتے ہوئے ڈیر لیین نے کہا کہ محض ۴۴ دنوں میں یورپی یونین کے فوسل فیول کی درآمدات کا بل ۲۲ بلین یورو سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے عمارتوں کی تزئینِ نو اور صنعتی اپ گریڈیشن جیسے بچت کے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ ”سب سے سستی توانائی وہی ہے جو استعمال نہ کی جائے۔“

یورپی کمیشن کی صدر نے مزید کہا کہ یورپی یونین، منڈیوں کو مستحکم کرنے کیلئے گیس ذخیرہ کرنے کی مربوط حکمتِ عملیوں اور تیل کے مشترکہ ذخائر کے اخراج پر غور کر رہی ہے، اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ متاثر نہ ہو۔ فوسل فیول پر انحصار کے خلاف خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپ اس کی ”بہت بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔“ انہوں نے زور دیا کہ یورپ کو سستے اور قابلِ بھروسہ مقامی توانائی کے ذرائع کے استعمال کو وسعت دینی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی حکام کا ایرانیوں کے ساتھ دوسری ملاقات پر غور: سی این این کا دعویٰ

جرمنی میں ہول سیل قیمتوں میں شدید اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات یورپ بھر میں نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ جرمنی میں تھوک قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو توانائی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ ڈیسٹیٹس (Destatis) نامی تنظیم کے ذریعے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یورپی ملک میں تھوک مہنگائی مارچ میں بڑھ کر ۱ء۴ فیصد ہوگئی۔ پہلے یہ شرح ۲ء۱ فیصد تھی۔ معدنی تیل کی مصنوعات کی قیمتوں میں سال در سال ۸ء۱۷ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافہ نے فروری میں ریکارڈ کئے گئے قیمتوں میں کمی کے رجحان کو الٹ دیا ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر، ہول سیل قیمتوں میں ۷ء۲ فیصد اضافہ ہوا، جس میں صرف معدنی تیل کی مصنوعات ۸ء۱۸ فیصد بڑھیں۔

اعداد و شمار میں گزشتہ سال مارچ کے مقابلے میں غیر آہنی دھاتوں اور متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں ۴ء۴۸ فیصد کا زبردست اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ خوراک سے متعلقہ شعبوں میں بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ چینی اور کنفیکشنری کی قیمتوں میں ۱ء۶ فیصد اور تمباکو میں ۹ء۵ فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار ایران کشیدگی کے چلتے جرمنی کی معیشت پر بڑھتی ہوئی لاگت کے وسیع اثرات کو واضح کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: آٹے کا شدید بحران، اسرائیل پر فاقہ کشی کو ہوا دینے کا الزام

اسپین میں توانائی کی لاگت کے باعث مہنگائی میں اچھال

اسپین میں صارفی افراطِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں سالانہ مہنگائی کی شرح فروری میں ۳ء۲ فیصد سے بڑھ کر مارچ میں ۳ء۳ فیصد ہوگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں سال بہ سال ۳ء۳ فیصد اضافہ ہوا۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا، جو سالانہ ۳ء۵ فیصد تک پہنچ گیا۔ ماہانہ بنیادوں پر، صارفی قیمتوں میں ۲ء۱ فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعدادوشمار گھریلو اخراجات، خاص طور پر توانائی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔

میکسیکو حکومت ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے مداخلت کرے گی

میکسیکو کی وزیرِ اعظم کلاڈیا شینبام نے ملک میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور مہنگائی کو روکنے کیلئے براہِ راست حکومتی مداخلت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی مداخلت کے بغیر پیٹرول کی قیمتیں ۳۰ پیسو فی لیٹر سے تجاوز کر جاتیں، جبکہ ڈیزل ۳۲ سے ۳۳ پیسو تک پہنچ سکتا تھا۔ قیمتوں کو مستحکم کرنے کیلئے، حکومت نے ایندھن پر ٹیکس ختم کر دیا ہے اور پیٹرول کی قیمت ۲۴ پیسو فی لیٹر کی حد مقرر کردی ہے۔ اس اقدام کا مقصد محصولات کی قربانی دے کر صارفین کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوڈان : خوراک کا بحران،لاکھوں افراد کودن میں صرف ایک وقت کا کھانانصیب

شینبام نے نوٹ کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ۱۰۳ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے قیمتوں کے ناجائز استحصال کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ”کسی کو بھی ایندھن کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے۔“ انہوں نے ٹماٹر اور گوشت سمیت خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کا بھی اعتراف کیا اور قیمتوں میں مصنوعی اضافے کو روکنے کیلئے پیداوار کنندگان اور صنعتی لیڈران سے ملاقات کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر میکسیکو کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت، عدم مداخلت اور تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK