عوام کو نالوں میں کچرا پھینکنے سے روکنے کیلئے بی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے کی ہدایت۔ نالوں کے اطراف کی حفاظتی دیواروں کی مرمت کا بھی فیصلہ کیا گیاہے۔ گوونڈی کا ایک رضاکار ایک سال سے جالیاں نصب کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 13, 2026, 4:57 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai
عوام کو نالوں میں کچرا پھینکنے سے روکنے کیلئے بی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے کی ہدایت۔ نالوں کے اطراف کی حفاظتی دیواروں کی مرمت کا بھی فیصلہ کیا گیاہے۔ گوونڈی کا ایک رضاکار ایک سال سے جالیاں نصب کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
شہرو مضافات میں عوام کو نالوں میں کچرا پھینکنے سے روکنے کیلئے برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی) نے تمام بڑے نالوں پر جالیاں نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ممبئی میں بڑے نالے تقریباً ۲۷۴؍ کلو میٹر پر پھیلے ہوئے ہیں جبکہ چھوٹے نالے ۶۷۳؍ کلو میٹر پر محیط ہیں اور اکثر و بیشتر نالوں کے اطراف جھوپڑ پٹیاں بسی ہوئی ہیں اور ان میں رہنے والے لوگ اپنے گھروں کا ہر چھوٹا بڑا کچرا ان نالوں میں پھینک دیتے ہیں جو نالوں میں کچرا جمع ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
یاد رہے کہ گوونڈی میں رہنے والے سماجی رضاکار فیاض عالم شیخ گزشتہ ایک برس سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ایم ایسٹ وارڈ میں نالوں پر جالیاں لگائی جائیں تاکہ لوگ ان میں کچرا نہ پھینک سکیں۔ تاہم جب بی ایم سی افسران نے ان کے مطالبہ پر توجہ نہیں دی تو انہوں نے حقوق انسانی کمیشن میں پٹیشن داخل کرکے مطالبہ کیا کہ بی ایم سی کو نالوں پر جالیاں لگانے کی ہدایت دی جائے۔ اس تعلق سے جب انقلاب نے فیاض شیخ سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ’’میں نے ۲۰۲۵ء میں حقوق انسانی کمیشن میں پٹیشن داخل کی تھی اور اب تک یہ معاملہ التواء میں ہے۔ اس کی اگلی سماعت ۲۱؍ اپریل کو ہے لیکن کمیشن کی ہدایت کے باوجود بی ایم سی نے اب تک اس پر کوئی جواب داخل نہیں کیا ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: نالوں سے کچرا نکالنے کی مقدار کا ہدف کم کردیا گیا ہے
ایڈیشنل میونسپل کمشنر ابھیجیت بانگر کے مطابق شہری انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ بڑے نالوں کے اطراف تقریباً ۸؍ فٹ اونچی جالیوں کی دیوار کھڑی کی جائے گی جو اوپر کے حصہ میں ایک فٹ مڑی ہوئی ہوگی تاکہ لوگ ان میں کچرا نہ پھینک سکیں۔
بی ایم سی کا منصوبہ ہے کہ ’وائر میشنگ‘ کہلانے والی جالیاں لگائی جائیں جنہیں نصب کرنے کا کام ۲؍ مہینوں میں، یعنی مانسون سے قبل مکمل کیا جاسکتا ہے۔
یہ فیصلہ حال ہی میں اس وقت کیا گیا ہے جب بی ایم سی کی نو منتخب شدہ کمشنر اشونی بھڈے دادر-دھاراوی میں نالوں کا جائزہ لینے پہنچی تھیں۔ ان علاقوں میں نالوں میں کچرے کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
جالیاں نصب کرنے کے علاوہ نالوں کی حفاظتی دیوار کئی مقامات پر ٹوٹ گئی ہے یا ان میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جن کی وجہ سے ان سے متصل یا قریب واقع جھوپڑوں کے حادثہ کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اس لئے ان مقامات پر دیواروں کی مرمت کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم ماحولیات کیلئے کام کرنے والے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ جالیاں نصب کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
وَن شکتی‘ نامی تنظیم سے وابستہ اسٹیلن ڈی نے کہا کہ جھوپڑ پٹیوں میں گھر گھر کچرا جمع کرنے کا نظم نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ نالوں میں کچرا پھینکنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ سب نالوں میں کچرا پھینکنے میں اتنے ماہر ہوگئے ہیں کہ اونچی جالیاں بھی انہیں نالوں میں کچرا ڈالنے سے روکنے میں ناکام رہتی ہیں جس کی مثال ایم آئی ڈی سی روڈ پر دیکھنے کو ملتی ہے جہاں عوام کو نالوں میں کچرا پھینکنے سے روکنے کیلئے اونچی جالیاں لگائی گئی ہیں ، پھر بھی لوگ ان میں کچرا ڈالتے ہیں۔