شہری انتظامیہ نے اہل قرار دیئے جانے والے ہاکروں کو وقار کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت دے دی ، انہیں کیو آر کوڈ سے مزین آئی کارڈ بھی فراہم کیا جائے گا
ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی ،سنجے نروپم اوردیگر ،میونسپل کمشنر اشوینی بھڈے کو میمورنڈم دیتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر ہاکروں کے غیر قانونی قبضہ جات کیخلاف بامبے ہائی کورٹ کے سخت احکامات پر گزشتہ کئی مہینوں سے کی جانے والی انہدامی کارروائیوں کے درمیان بی ایم سی نے شہر اور مضافات کے تقریباً ایک لاکھ ہاکروں کو نہ صرف خوش آئند خبر سنائی ہے بلکہ شہری انتظامیہ نے اہل قرار دیئے جانے والے ہاکروں کو وقار کے ساتھ تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔ ساتھ ہی جگہ کا تعین بھی کرے گا اور کیو آر کوڈ سے مزین آئی کارڈ بھی فراہم کرے گاتاکہ وہ بنا کسی روک ٹوک کے قانونی طو رپر کاروبار کرسکیں ۔
اس ضمن میں ہونے والی ایک خصوصی میٹنگ کے بعد بی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے نے ہی ہاکروں کو قانونی حیثیت دینے اور آئی کارڈ فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔ برسوں سے کاروبار کیلئے لائسنس نہ ملنے کے علاوہ شہر کی سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر کاروبار کرنے پر پولیس اور شہری انتظامیہ کی کارروائیوں سے ہاکرس مسلسل پریشان تھے اورانہیں مالی نقصانات بھی برداشت کرنا پڑ رہا تھا۔ اب شہری انتظامیہ کے اس فیصلے سے ہاکروں کو یقیناً راحت ملے گی۔
ہاکروں کو قانونی حیثیت دینے کے تعلق سے ہونے والی میٹنگ میں کمشنر کے ہمراہ ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی اور شندے سینا کے لیڈر سنجے نروپم بھی شامل تھے۔ اس ضمن میں ڈپٹی میئر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’’ہونے والی میٹنگ کے دوران ہاکروں کی حمایت میں جو فیصلہ کیا گیا ہے اور اہل ہاکروں کو شہر کے طے شدہ مقامات پر تجارت کرنے کی ضمن میںجو لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے، اس کے مطابق نہ صرف انہیں شہر میں طے شدہ مقام پر تجارت کی اجازت دی جائے گی بلکہ کیو آر کوڈ سے مزین آئی کارڈ بھی دیا جائے گا جس کی قانونی حیثیت ہوگی ۔‘‘
ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ’’ اسٹریٹ وینڈرز ایکٹ۲۰۱۴ ء کے تحت کئے گئے سروے کے بعد شہر اور مضافات کے ۹۹؍ہزار۴۳۵؍ہاکرز کو اہل قرار دیا گیا ہے ۔ان ہاکروں کو شہر اور مضافات کے الگ الگ بی ایم سی وارڈ کے توسط سےکیو آر کوڈ والا آئی کارڈ فراہم کیا جائے گا۔‘‘ ڈپٹی میئر کے مطابق’’ اس بات کا قوی امکان ہے کہ۱۰؍ جون کو ہاکروں کو کارڈ تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہوجائےگا۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی کوشش کی جائے گی کہ ہاکروں کوانہیں علاقوں میں جگہ فراہم کی جائے جہاں وہ برسوں سے کاروبار کررہے تھے۔‘‘موصولہ اطلاع کے مطابق اب نو ہاکنگ زون میں تجارت کرنا سخت ممنوع قرار دے دیا گیا ہے ۔ جن علاقوں کو نو ہاکنگ زون قرار دیا گیا ہے ان میں چھتر پتی شیواجی ٹرمنس ریلوے اسٹیشن، چرچ گیٹ، دادر اور باندرہ جیسے بڑے ریلوے اسٹیشن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے ہاکروں کے شہر کی سڑکوںپرغیرقانونی قبضہجات کوہٹانے اور سخت کارروائی کا حکم دیا تھا۔وہیں کورٹ نے ایک لاکھ سے زائد ہاکروں کو قانونی حیثیت دینے اور متبادل جگہ دینے کی ہدایت بھی دی تھی۔
بعد ازیں ہاکروں کو ملنے والی راحت پر شندے سینا کے لیڈر سنجے نروپم کا کہنا تھا کہ ’’بنگلہ دیشی ہاکروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو ناجائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن جو ہاکرز ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں اور اس شہر میں برسوں سے آباد ہیں انہیں نہ تو شہر سے بے دخل کیا جاسکتا ہے اور نہ تجارت سے ۔ جن ہاکروں کو اہل قرار دیا گیا ہے ، وہ اسی شہر کے باشندے ہیں اس لئے شہری انتظامیہ نے کورٹ کے احکامات پر جو قدم اٹھایا ہے وہ قابل ستائش ہے ۔‘‘