Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟

Updated: June 03, 2026, 2:54 PM IST | New York

فٹبال کے عالمی ادارے فیفا نے ورلڈکپ۲۰۲۶ء میں کئی نئے قوانین متعارف کروانے کی تصدیق کردی ہے۔

Fifa World Cup.Photo:INN
فیفا ورلڈ کپ ۔تصویر:آئی این این

 فٹبال کے عالمی ادارے فیفا نے ورلڈکپ۲۰۲۶ء میں کئی نئے قوانین متعارف کروانے کی تصدیق کردی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ، میکسیکو اور کنیڈا میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے چند روز قبل فیفا اور انٹرنیشنل فٹبال اسوسی ایشن بورڈ (آئی ایف اے بی) نے کھیل کے قوانین میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ نئے قواعد ورلڈ کپ کے دوران ہی نافذ العمل ہوں گے اور بعد ازاں ۲۷۔۲۰۲۶ء سیزن کا بھی حصہ بنیں گے۔ نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی جان بوجھ کر تھرو اِن یا گول کِک لینے میں پانچ سیکنڈ سے زیادہ تاخیر کرے گا تو مخالف ٹیم کو فائدہ دیا جائے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے:رِچا اور میں اچھے کرداروں کے لیے جیتے ہیں، امیج سے زیادہ کہانی اہم ہے: علی فضل


اسی طرح میچ کے دوران فزیو سے علاج کروانے والے کھلاڑی کو ایک منٹ تک میدان سے باہر رہنا ہوگا، البتہ گول کیپرز اور بعض مخصوص صورتوں میں استثنیٰ دیا گیا ہے۔ فیفا کے چیف ریفری آفیسر پیئرلویجی کولینا کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد وقت ضائع کرنے کی حوصلہ شکنی، کھیل کی رفتار میں اضافہ اور شائقین کے تجربے کو بہتر بنانا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت جھگڑے یا تنازع کے دوران منہ ڈھانپ کر جملے کسنے والے کھلاڑی کو ریڈ کارڈ بھی دکھایا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:خان سر کے کیمپس کے قریب فائرنگ، پولیس کی تحقیقات شروع


وی اے آر کے اختیارات میں بھی توسیع کی گئی ہے جس کے تحت کارنر کک کے فیصلے اور دوسرے یلو کارڈ کے نتیجے میں ہونے والی برطرفی پر ری ویو لیا جاسکے گا۔ متبادل کے لیے واپس بلائے جانے والے کھلاڑی کے پاس قریب ترین مقام پر میدان چھوڑنے کے لیے ۱۰؍ سیکنڈز کا وقت ہوگا۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو متبادل کھلاڑی کم از کم ایک منٹ کے لیے کھیل کے اگلے اسٹاپیج تک میدان میں داخل نہیں ہو سکتا، یعنی ان کی ٹیم کو۱۰؍کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل جاری رکھنا ہوگا۔ علاوہ ازیں ہر ہاف میں تقریباً ۲۲؍ ویں منٹ پر تین منٹ کا ہائیڈریشن بریک بھی دیا جائے گا تاکہ کھلاڑی شدید گرمی میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK