Inquilab Logo Happiest Places to Work

منگلور میں نیا ہنگامی تیل ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ

Updated: June 22, 2026, 11:30 AM IST | Agency | New Delhi

ایندھن کے بحران کے دور میںمرکزکا اہم اقدام، اس منصوبہ کی ذمہ داری اواین جی سی کو سونپی گئی ہے ،منصوبہ پر ۱۵؍ ہزار کروڑ خرچ ہونے کا اندازہ ۔

Gas Bass.Photo:INN
گیس سپلائی۔ تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران پیدا ہونے والے عالمی تیل بحران کے بعد مرکزی حکومت نے ملک کی توانائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ایک نیا اسٹرٹیجک پیٹرولیم ریزرو(ایس پی آر) قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کی ذمہ داری  آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (ا واین جی سی) کو سونپی گئی ہے جو پہلی بار اس نوعیت کے بڑے اسٹرٹیجک ذخیرے میں براہ راست سرمایہ کاری کرے گا۔
۱ء۲۸؍ کروڑ بیرل ذخیرےکی گنجائش ہوگی 
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس منصوبے پر تقریباً۱۵؍ہزار کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ یہ زیر زمین ہنگامی تیل ذخیرہ کرناٹک کےشہر منگلور میں تعمیر کیا جائے گا جہاں تقریباً۱ء۲۸؍ کروڑ(۱۲ء۸؍ملین) بیرل خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی۔اس وقت بھارت کی مجموعی اسٹرٹیجک خام تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً۳ء۹؍ کروڑ بیرل ہے، جسے ہنگامی حالات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چونکہ ملک میں روزانہ تقریباً۵۰؍ لاکھ بیرل تیل کی کھپت ہوتی ہے، اس لئے موجودہ ذخائر ملک کی ضروریات کو تقریباً ۸؍سے ۹؍ دن تک پورا کر سکتے ہیں۔نئے ذخیرے کے مکمل ہونے کے بعد اسٹرٹیجک ذخیرہ کی صلاحیت میں تقریباً ۳۳؍ فیصد اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ہندوستان کے پاس جنگ، عالمی بحران یا تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں تقریباً۱۱؍ دن تک کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ذخیرہ موجود ہوگا۔
 
 
 پیٹرولیم ریزرو کیا ہوتا ہے؟
پیٹرولیم ریزرو سے مراد خام تیل یا پیٹرولیم مصنوعات کا وہ ذخیرہ ہے جسے مستقبل میں ضرورت پڑنے پر استعمال کرنے کیلئے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ دو اقسام کا ہوتا ہے:
۱) اسٹر ٹیجک  پیٹرولیم ریزرو:اسے ملک کی توانائی کی ’’تجوری‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ یہ ذخیرہ حکومت کی جانب سے ہنگامی حالات کیلئے محفوظ رکھا جاتا ہے اور معمول کے دنوں میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ جنگ، عالمی تیل بحران یا سپلائی چین متاثر ہونے کی صورت میں اس ذخیرے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ملک میں اس وقت منگلور، پادور اور وشاکھا پٹنم میں اسٹر ٹیجک  ذخائر موجود ہیں، جہاں زیر زمین غار نما بڑے ٹینکوں میں خام تیل محفوظ رکھا جاتا ہے۔
۲) کمرشیل پیٹرولیم ریزرو :یہ ذخائر تیل کمپنیاں اپنی کاروباری ضروریات کیلئے رکھتی ہیں تاکہ پیٹرول پمپوں اور صنعتوں کو مسلسل سپلائی فراہم کی جا سکے۔ یہ ذخائر عام طور پر زمین کے اوپر بڑے ٹینکوں میں محفوظ کیے جاتے ہیں اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کی لاگت دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ او این جی سی زیر زمین غار کی تعمیر پر تقریباً۵؍ہزار کروڑ روپے خرچ کرے گی جبکہ موجودہ عالمی قیمتوں اور زرِ مبادلہ کی شرح کے مطابق اس ذخیرے کو خام تیل سے بھرنے کیلئے مزید تقریباً۱۰؍ ہزار کروڑ روپے درکار ہوں گے۔فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ او این جی سی اس بھاری سرمایہ کاری کی وصولی کس طرح کرے گی۔ یہ بھی طے ہونا باقی ہے کہ یہ سہولت صرف ہنگامی ذخیرے کے طور پر استعمال ہوگی یا پھر آمدنی بڑھانے کیلئے اس میں تجارتی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
 
 
قابلِ ذکر ہے کہ اب تک ملک کے تمام اسٹرٹیجک پیٹرولیم ریزرو منصوبے مکمل طور پر حکومتی فنڈنگ سے قائم کیے گئے تھے اور ان کا انتظام انڈین اسٹرٹیجک پیٹرولیم ریزرو لمیٹڈ (آئی ایس پی آر ایل) کے پاس ہے۔ تاہم پہلی بار او این جی سی اس شعبے میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے جسے  ملک کی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK