آئی پی ایل ۲۰۲۶ءمیں جمعرات کو کولکاتا کے ایڈن گارڈنز میں کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) اور لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے درمیان ایک سنسنی خیز مقابلہ کھیلا گیا۔ کے کے آر کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 4:22 PM IST | Kolkata
آئی پی ایل ۲۰۲۶ءمیں جمعرات کو کولکاتا کے ایڈن گارڈنز میں کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) اور لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے درمیان ایک سنسنی خیز مقابلہ کھیلا گیا۔ کے کے آر کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
آئی پی ایل ۲۰۲۶ءمیں جمعرات کو کولکاتا کے ایڈن گارڈنز میں کولکاتا نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) اور لکھنؤ سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے درمیان ایک سنسنی خیز مقابلہ کھیلا گیا۔ کے کے آر کو اپنے ہوم گراؤنڈ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سابق بلے باز محمد کیف نے کہا ہے کہ کے کے آر کے لیے اس ہار کو برداشت کرنا مشکل ہوگا۔
جیو اسٹار ایکسپرٹ محمد کیف نے اسٹار اسپورٹس کے ’امول کرکٹ لائیو‘پر کہاکہ ’’مجھے اجنکیا رہانے کے لیے افسوس ہو رہا ہے کیونکہ انہوں نے بطور کپتان بہت اچھا کھیلا تھا۔ لکھنؤ کے خلاف یہ ہار کے کے آر کے لیے حوصلہ شکن ثابت ہوگی۔ انہوں نے اس میچ میں بہت سی چیزیں درست کیں۔ کمزور بولنگ اٹیک کے باوجود وہ ایل ایس جی پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب رہے۔ سنیل نرائن اور انکول رائے نے اچھی بولنگ کی۔ ویبھو اروڑا کے پہلے اور دوسرے اسپیل بھی اتنے برے نہیں تھے۔ ان کے لیے بہت سی چیزیں ایک ساتھ بہتر ہوئیں۔ کیمرون گرین نے بھی کچھ اوورز دیے، ایک وکٹ لی اور بلے سے بھی رنز بنائے۔ اجنکیا رہانے اور ان کی ٹیم نے میچ تقریباً اپنے قابو میں کر لیا تھا، لیکن مکول چودھری نے کے کے آر سے میچ چھین لیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:یَش چوپڑہ فاؤنڈیشن نے ہندی فلم انڈسٹری کے ورکرز کے بچوں کیلئے اسکالرشپ کا اعلان کیا
رِشبھ پنت پر محمد کیف نے کہاکہ ’’وہ اپنی ۱۰؍ رنز کی اننگز سے خوش نہیں ہوں گے۔ انہوں نے ایس آر ایچ کے خلاف پچھلے میچ میں میچ جتانے والی اننگز کھیلی تھی، جس سے ایل ایس جی کو جیت ملی تھی۔ کے کے آر کے خلاف انہیں آخر تک ٹکے رہنے کی ضرورت تھی۔ وہ ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں، جو ۲۰۱۶ء سے آئی پی ایل کھیل رہے ہیں۔ جب وہ بیٹنگ کے لیے آئے تو حالات زیادہ مشکل نہیں تھے۔ ایل ایس جی نے پہلے پانچ اوورز میں ۴۱؍ رنز بنا لیے تھے۔ ایک بلے باز کو ذمہ داری لینے اور ہدف کے تعاقب میں آخر تک کریز پر رہنے کی ضرورت تھی، اور یہ کردار پنت کا تھا۔ بطور کپتان اگر آپ ذمہ داری نہیں لیتے، تو آپ اپنی ٹیم کو جیت دلانے میں مدد نہیں کر سکتے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:لوئی ویتون نے۳ء۴؍لاکھ روپے میں ’اسپرنکلنگ کین‘ بیگ متعارف کرایا
کیف نے کہاکہ ’’پنت نے ایس آر ایچ کے خلاف اچھا کھیلا تھا، لیکن انہیں تسلسل کی ضرورت ہے۔ ایک اچھی اننگز کھیلنا اور پھر اگلے چند میچوں میں ناکام ہونا کافی نہیں ہے۔ انہیں میچ کی صورتحال کو بہتر طریقے سے سمجھنا ہوگا اور یہ سیکھنا ہوگا کہ کب رفتار بڑھانی ہے۔ ایک کپتان کا کام تعاقب کے دوران آخر تک کریز پر موجود رہنا ہوتا ہے، اور پنت کو اس پر کام کرنا ہوگا۔‘‘