Inquilab Logo Happiest Places to Work

کوئی قانون گنگا ندی پر چکن بریانی کھانے سے نہیں روکتا: جسٹس اُجّل بھویان

Updated: July 26, 2026, 7:03 PM IST | New Delhi

سپریم کورٹ کے جسٹس اُجّل بھویان نے ایک بیان میں کہا کہ کوئی قانون گنگا ندی پر چکن بریانی کھانے سے نہیں روکتا، ساتھ ہی انہوں نے اس معاملے پر گرفتاری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چکن بریانی کھانا کوئی جرم نہیں ہے، یہ جرم نہیں ہو سکتا، لوگوں کو اسی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور انہیں تین ماہ جیل میں رہنا پڑا۔

Supreme Court Justice Ujjal Bhuyan. Photo: X
سپریم کورٹ کے جسٹس اُجّل بھویان۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ کے جسٹس اُجّل بھویان نے سنیچر کو گنگا ندی پر چکن کھانے پر پابندی کی کسی قانون کے نہ ہونےکا حوالہ دیتے ہوئے، روزہ افطار کے دوران چکن بریانی کھانے پر نوجوانوں کی گرفتاریوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ چکن بریانی کھانا کوئی جرم نہیں ہے، یہ جرم نہیں ہو سکتا، لوگوں کو اسی وجہ سے گرفتار کیا گیا اور انہیں تین ماہ جیل میں رہنا پڑا۔‘‘ جسٹس بھویان بھوپال کے نیشنل لاء انسٹیٹیوٹ یونیورسٹی (NLIU) میں جسٹس جی پی سنگھ کی چوتھی یادگاری لیکچر میں بول رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج جمہوریت کا مرکزی جزو ہے، لیکن معمولی اختلافی اظہار کو تیزی سے مجرمانہ رویہ سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پرامن مظاہرے کا حق شہریوں کی بنیادی آزادی ہے۔ بحث اور اختلاف جمہوریت کا جوہر ہیں۔ بدقسمتی سے، معمولی سرگرمیوں کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔‘‘ بعد ازاں ماحولیاتی احتجاج اور طلبہ مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "جو لوگ ماحولیاتی انحطاط (جو حقیقت ہے) پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے آتے ہیں، انہیں اس طرح بھگایا جاتا ہے جیسے وہ مجرم ہوں۔ کیمپس میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور انہیں۳۰؍ سے ۴۰؍ دنوں تک ضمانت نہیں ملتی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ریپڈ ایکشن فور س نے طلبہ پرضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کا اعتراف کیا

 انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ کو اکثر معطل بھی کر دیا جاتا ہے، جس سے انہیں تعلیم دوبارہ شروع کرنے سے پہلے عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔جسٹس بھویان نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالتیں، پابندی والی ضمانت کی شرائط کے ذریعے، خود بھی اختلاف کی حوصلہ شکنی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ مسائل سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔اگرچہ عدالتیں ذمہ دار ہیں اور ضمانت دیتی ہیں، مگر اکثر دیر سے۔ لیکن سب سے بڑی تشویش وہ پابندی والی شرائط ہیں جو ضمانت دیتے وقت عائد کی جاتی ہیں۔ کیا اس طرح کے پابندی والے احکامات کے ذریعے عدالتیں بالواسطہ طور پر شہریوں کو یہ کہہ رہی ہیں یا ان کی حوصلہ شکنی کر رہی ہیں کہ وہ اپنا اختلاف ظاہر نہ کریں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: دھرمیندر پردھان کے استعفے کواپوزیشن نےطلبہ کی جیت قراردیا

مزید برآںسپریم کورٹ کے۲۰۲۴ء کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں سزا کے طور پر ’’بلڈوزر  انصاف ‘‘ کو مسترد کیا گیا تھا، جسٹس بھویان نے کہا کہ’’ یہ فیصلہ خوش آئند ہے لیکن دو سال دیر سے آیا۔‘‘ انہوں نے ان مقدمات کا بھی ذکر کیا جہاں ضمانت پانے والے ملزمان کو عوامی میٹنگوں میں شرکت یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روک دیا گیا، اور کہا کہ’’ ایسی شرائط ان کی بنیادی آزادیوں اور حریت کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘انہوں نے بمبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر بھی تنقید کی جس نے فلسطین کی حمایت میں مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، اور کہا کہ انہیں عدالت کے مشاہدات ’’بہت دلچسپ‘‘ لگے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ درخواست گزاروں سے پوچھا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کے اندر کے مسائل کی بجائے غزہ کے واقعات پر کیوں احتجاج کرنا چاہتے ہیں، جبکہ ہندوستان روایتی طور پر فلسطین کو تسلیم کرتا ہے اور اس کے سفارت خانہ کی بھی میزبانی کرتا ہے۔ 
اس کے ساتھ ہی انہوں نے سبکدوشی کے بعد سابق ججوں کے سیاسی عہدوں پر جانے کے معاملے پر بھی کہا، ’’جب کوئی سابق چیف جسٹس آف انڈیا کہتا ہے، میں عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان خلیج کو پاٹنے کے لیے راجیہ سبھا جا رہا ہوں، تو یہ بنیادی طور پر غلط ہے، اس میں بنیادی مغالطہ ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ گزشتہ ڈھائی ماہ کی فکر اور پریشانی آج خوشی اور اطمینان میں تبدیل ہو گئی ہے ‘‘

لا ءکے طلبہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہ وہ عدلیہ سمیت اداروں پر سوال اٹھائیں، جسٹس بھویان نے کہا کہ عدالتی فیصلے تنقید کے لیے کھلے رہنے چاہئیں، اور کہا کہ فیصلے، سنائے جانے کے بعد، ان کا تنقیدی جائزہ لیا جانا چاہیے اور اگر ضروری ہو تو تنقید کی جانی چاہیے۔ کسی فیصلے کی تنقید کسی جج کی تنقید نہیں ہے۔‘‘اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ عدلیہ کی قانونی حیثیت بالآخر عوامی اعتماد پر منحصر ہے، خود تشخیص پر نہیں، اور مزید کہا کہ ’’وکلاء اور قانون کے طلبہ کی نئی نسل قانون کی حکمرانی اور آئین کے لیے میری نسل سے کہیں زیادہ پرعزم ہے۔ مجھے ان میں بڑی امید نظر آتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK