• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی: ڈیلیوری رائیڈر اپنی روزانہ کی کمائی کا نصف حصہ مسکینوں پر خرچ کرتا ہے

Updated: October 24, 2026, 8:32 PM IST | New Delhi

دہلی کا ڈیلیوری رائیڈر، اپنے مرحوم والد سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی روزانہ کی کمائی کا نصف حصہ مسکینوں کی مدد پر خرچ کرتا ہے،یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی جڑیں اس وعدے میں ہیں جو اس نے اپنے مرحوم والد سے کیا تھا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

دن میں۱۲؍ گھنٹے تک، آکاش سروج دہلی کی گلیوں میں اپنی پیٹھ پر ڈیلیوری بیگ لے کر گھومتا ہے۔ ہر شفٹ کے اختتام پر، وہ کچھ ایسا کرتا ہے جو بہت سے دولتمندوں کیلئےبھی کرنا مشکل ہوگا۔ وہ جو کماتا ہے اس کا بڑا حصہ ان لوگوں کی مدد کے لیے الگ رکھ دیتا ہے جو مسکین یا ضرورت مند ہیں۔ دارالحکومت کے کچی آبادی کے علاقےبھلسوا  کا رہائشی، آکاش اپنی روزانہ کی کمائی کا نصف سے زیادہ دوسروں پر خرچ کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی جڑیں اس وعدے میں ہیں جو اس نے اپنے مرحوم والد سے کیا تھا۔
ایک ڈانسر کا خواب، جو ٹوٹ گیا
آکاش تقریباً ڈھائی سال سے فوڈ ڈیلیوری ایگزیکٹو کے طور پر کل وقتی کام کر رہا ہے۔ اس سے پہلے، وہ صرف جز وقتی طور پر کھانا پہنچاتا تھا، جبکہ اپنے حقیقی شوق کو آگے بڑھا رہا تھاڈانس۔ ۲۰۱۴ء سے ایک ڈانسر کے طور پر تربیت یافتہ، اس نے ایک بار کوریوگرافر بننے کا خواب دیکھا تھا۔پھر وجے واڑہ سے ایک فون کال آئی۔ اس کے والد شدید بیمار تھے۔ آکاش نے دوستوں سے پیسے ادھار لیے اور والدکے پاس جانے کے لیے روانہ ہوا،لیکن وہ انہیں بچا نہ سکا۔
باپ کی آخری خواہش
اس نقصان نے اس کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ آکاش کو یاد ہے کہ اس کے والد کے آخری الفاظ نے اسے دوسروں کی مدد کرنے کی تاکید کی تھی، چاہے وہ خود کبھی امیر نہ بن پائے۔ اس نے اس خواہش کا احترام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے پاس اپنے کام کے بارے میں بھی بہت کم نجائش تھی، کیونکہ خاندان میں کمانے والا کوئی اور فرد نہیں تھا اور طبی اخراجات نے اسے تقریباً۳؍ لاکھ روپے کے قرض میں ڈال دیا تھا۔
ضرورت مندوں کے لیے روزانہ۳۰۰؍ روپے
اپنی طویل شفٹ کے بعد، آکاش دن میں تقریباً۶۰۰؍ روپے بچانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، اور اس کا تقریباً نصف حصہ سیدھا دوسروں کی مدد کے لیے خرچ کرتا ہے۔ سردیوں میں، وہ سڑکوں پر سوئے ہوئے لوگوں میں کمبل تقسیم کرتا ہے۔ دوسرے دنوں میں، وہ اپنے ارد گرد جدوجہد کرنے والوں کو کھانا یا چھوٹی ضروری اشیاء پیش کرتا ہے۔
کہانی کا اشتراک، اور اس سے ملنے والی نیک خواہشات
تقریباً ایک سال پہلے، اس نے سوشل میڈیا پر اپنی کوششوں کو شیئر کرنا شروع کیا۔ کچھ لوگوں نے سوال کیا کہ اس نے اپنے نیک اعمال کو دستاویز کرنے کا انتخاب کیوں کیا، لیکن بہت سے دوسرے لوگ متاثر ہوئے۔ گاہکوں نے ڈیلیوری کے دوران اسے پہچانا ، اور کچھ نے خاص طور پر اس کے کام کی حمایت کے لیے اسے ٹپ دی ۔ ایک گاہک نے اسے۵۰۰؍ روپے دیے اور اسے کسی ضرورت مند کو دینے کو کہا۔
رقص اب بھی اس کی پہلی محبت ہے
آکاش کہتا ہے کہ رقص اب بھی اس کی پہلی محبت ہے۔ فی الحال، وہ کھانا پہنچاتا رہتا ہے اور خاموشی سے اپنا وعدہ نبھاتا ہے، یہ یاد دہانی کہ ہمدردی کا انحصار اس بات پر نہیں ہوتا ہے کہ ایک شخص کتنا کماتا ہے بلکہ  وہ کتنا نیک مد میں خرچ کرنے کا انتخاب کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK