• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: ۱۹؍ بچوں کی زندگیاں بچائی، تمام نے سرجن کو خراجِ تحسین پیش کیا

Updated: October 24, 2026, 8:04 PM IST | London

برطانیہ میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بچوں کے پیچیدہ امراضِ قلب کا علاج کرنے والے ڈاکٹر آصف حسن کو ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا۔ تقریب کا سب سے جذباتی لمحہ اس وقت آیا جب ان کے علاج سے زندگی پانے والے ۱۹؍ سابق مریض اچانک اسٹیج پر پہنچ گئے۔ ڈاکٹر حسن نے اپنے کریئر میں ۴؍ ہزار سے زیادہ اوپن ہارٹ آپریشن کیے اور تقریباً ۴۰۰؍ بچوں کے ہارٹ ٹرانسپلانٹ میں حصہ لیا۔

Dr. Asif Hasan was honored with the Pride of Britain Award. Photo: X
ڈاکٹر آصف حسن کو پرائیڈ آف برٹین ایوارڈ سے نوازا گیا۔ تصیور: ایکس

برطانیہ کے نیوکاسل شہر کے فری مین اسپتال میں بچوں کے دلوں کی پیچیدہ سرجری کرنے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصف حسن کو ’’پرائیڈ آف برٹین‘‘ ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ اعزاز سے نوازا گیا۔ ۱۹؍ اکتوبر کو نیوکاسل ہاسپٹلز این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے ان کے اعزاز کا اعلان کیا تھا، جبکہ ۲۲؍ اکتوبر کو منعقدہ تقریب میں انہیں یہ ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر ان کے سابق مریضوں کی اچانک آمد نے تقریب کو جذباتی لمحے میں بدل دیا۔ جن بچوں کی زندگی کبھی ان کے ہاتھوں میں تھی، وہی اب بڑے ہوکر اپنے معالج کی خدمات کا اعتراف کرنے اسٹیج پر موجود تھے۔ ڈیلی مرر کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر حسن کو ایوارڈ دیے جانے کے بعد ۱۹؍ سابق مریض اسٹیج پر پہنچے۔ ان میں بچے بھی شامل تھے اور ایسے نوجوان و بالغ افراد بھی، جن کا علاج انہوں نے بچپن میں کیا تھا۔ ڈاکٹر حسن اس غیر متوقع خراجِ عقیدت پر جذباتی ہوگئے اور رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا، ’’اب میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آپ نے حقیقی لوگوں کی اتنی کہانیاں سنیں، اور میں تو صرف اپنا کام کررہا تھا۔‘‘ ان کے اس جملے میں اس طویل طبی سفر کی جھلک تھی جس میں انہوں نے ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کا راستہ کھولا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by ITV News Tyne Tees (@itvtynetees)

۷۰؍ سالہ ڈاکٹر آصف حسن نے رواں سال ریٹائرمنٹ لی۔ وہ ۱۹۹۵ء میں نیوکاسل کے فری مین اسپتال میں کنسلٹنٹ کارڈیو تھوراسک سرجن مقرر ہوئے تھے اور بعد میں بچوں کے دل کی پیوندکاری کے پروگرام کی قیادت کی۔ نیوکاسل ہاسپٹلز این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے مطابق، انہوں نے اپنے کریئر میں ۴؍ ہزار سے زیادہ اوپن ہارٹ آپریشن کیے، جن میں تقریباً ۳؍ ہزار آپریشن ایسے تھے جن میں وہ مرکزی سرجن تھے۔ ان اعداد میں متعدد ہنگامی مداخلتیں اور معمول کے اوقات سے باہر کیے گئے آپریشن شامل نہیں ہیں۔ پرائیڈ آف برٹین کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، ڈاکٹر حسن کا اندازہ ہے کہ انہوں نے تقریباً ۴۰۰؍ ہارٹ ٹرانسپلانٹ بھی کیے۔ ان کی خدمات کا ایک اہم پہلو ان بچوں کا علاج تھا جن کے دل کی حالت انتہائی پیچیدہ ہوتی تھی اور جنہیں بعض دوسرے مراکز میں آپریشن کے لیے بہت زیادہ خطرے کا حامل سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر حسن اور ان کی ٹیم نے ایسے مریضوں کے علاج کی ذمہ داری بھی قبول کی جن کے لیے فری مین اسپتال آخری امید بن گیا تھا۔ ان کی کوششوں سے نیوکاسل بچوں کے دل کی سرجری اور ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے والے مراکز میں شامل ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹوکیو: فلسطینی نژاد امریکی کامیڈین سیمی عبید کو جاپان میں ۲۴؍ گھنٹے تنہا رکھا گیا

ڈاکٹر حسن نے بچوں کو عطیہ دہندہ کا دل ملنے تک زندہ رکھنے کے لیے مکینیکل ہارٹ سپورٹ کے استعمال اور ٹرانسپلانٹ سے پہلے زندگی برقرار رکھنے کے پروگرام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس نظام میں ’’برلن ہارٹ‘‘ نامی مکینیکل پمپ بچوں کے دل کے کام میں مدد دیتا ہے، تاکہ موزوں عطیہ دہندہ ملنے تک ان کی زندگی برقرار رکھی جاسکے۔ انہوں نے آپریشن کے بعد سینے کی ہڈی بند کرنے کی ایک تکنیک، جسے ’’بوٹ لیس کلوزر‘‘ کہا جاتا ہے، کو بھی آگے بڑھایا۔ اس سے بعض بچوں کو ایسے عطیہ شدہ دل کی پیوندکاری ممکن ہوسکی جو ان کے جسم کے لیے معمول کے مقابلے میں بڑا ہوتا۔ اس طویل سفر کی انسانی کہانیوں میں سیب ہولنگزورتھ کا معاملہ بھی شامل ہے۔ ۲۰۰۹ء میں پیدائش کے کچھ عرصے بعد سیب میں دل کا پیدائشی نقص تشخیص ہوا۔ صرف ۴؍ ماہ کی عمر میں ڈاکٹر حسن کی نگرانی میں اس کا اوپن ہارٹ آپریشن کیا گیا۔ تقریباً ۶؍ ہفتے اسپتال میں رہنے کے بعد اس کی حالت بہتر ہوئی اور وہ معمول کی زندگی گزارنے لگا۔ ۱۳؍ سال کی عمر میں اسے دوبارہ اوپن ہارٹ سرجری کی ضرورت پڑی تو ڈاکٹر حسن نے ایک بار پھر اس کے علاج میں رہنمائی کی۔ سیب کی والدہ نادین نے ڈاکٹر حسن کے پرسکون رویے اور والدین کو واضح انداز میں معلومات دینے کی صلاحیت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو ان پر مکمل اعتماد تھا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج نے گولی مار کر۲؍ فلسطینیوں کوشہید کر دیا

ڈاکٹر حسن کے سابق مریضوں میں میکس جانسن اور سیسیلیا آدامو بھی شامل ہیں، جو خود پرائیڈ آف برٹین ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔ دونوں کی زندگیوں میں دل کی پیوندکاری اور متعلقہ علاج نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ میکس اور اس کے عطیہ دہندہ کیرا بال کی کہانی سے متعلق مہم نے انگلینڈ اور ویلز میں اعضا عطیہ کرنے کے قانون میں تبدیلی کی کوششوں کو بھی تقویت دی، جس کے نتیجے میں ۲۰۲۰ء میں اعضا عطیہ کرنے سے متعلق نیا قانون متعارف ہوا۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ بچوں کے دل کا علاج صرف آپریشن تک محدود نہیں رہتا؛ بعض مریضوں کی کہانیاں آگے چل کر صحت عامہ اور اعضا عطیہ کرنے کے بارے میں وسیع تر آگاہی کا سبب بھی بنتی ہیں۔ ڈاکٹر حسن کی خدمات کا دائرہ برطانیہ تک محدود نہیں رہا۔ وہ اپنی تعطیلات کے دوران پاکستان بھی جاتے رہے، جہاں بچوں کے دل کے آپریشن کرنے کے ساتھ مقامی ڈاکٹروں اور سرجیکل ٹیموں کی تربیت میں مدد دیتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے خاندانوں اور طبی عملے نے انہیں ایک ایسے سرجن کے طور پر یاد کیا جو مشکل ترین کیس قبول کرنے کے لیے تیار رہتا اور مریض کے اہل خانہ کو مشکل حالات میں بھی اطمینان دینے کی کوشش کرتا تھا۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے باوجود ان کے تربیت یافتہ سرجن دنیا کے مختلف حصوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا میں دو سال بعد ملک گیر مظاہرے

ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن نے اپنی کامیابی کا سہرا صرف اپنے سر نہیں باندھا بلکہ فری مین اسپتال کی ٹیم، نرسوں اور ساتھی ڈاکٹروں کو بھی اس کا حصہ قرار دیا۔ پرائیڈ آف برٹین کی سرکاری ویب سائٹ پر ان کا یہ خیال درج ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ایسے سرجن تیار کیے جو اپنے کام میں ان کے برابر ہی نہیں بلکہ ان سے بہتر بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا انعام ان بچوں کو دیکھنا ہے جو علاج کے بعد صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔ تقریب میں ۱۹؍ سابق مریضوں کا ان کے ساتھ اسٹیج پر کھڑا ہونا اسی سفر کی ایک زندہ تصویر بن گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK