Updated: October 24, 2026, 9:12 PM IST
| New Delhi
جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں طلبہ گزشتہ ۱۳؍ دنوں اسٹوڈنٹس یونین کے مطالبے کو لے کر بھوک ہڑتال پر ہیں۔ طلبہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں لیکن جامعہ انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر عمل درآمد کرنے کے بجائے طلبہ کے خلاف جارحیت کی جارہی ہے۔ حالانکہ طلبہ کا کہناہے کہ انتظامیہ ان کے مطالبات کو منظور کر لے اور یونین کو پھر سے بحال کرد ےتو وہ احتجاج ختم کردیں گے، حتیٰ کہ طلبہ انتظامیہ سے بات چیت کرنے کو بھی تیار ہیں۔
جامیہ احتجاج کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ، جو اسٹوڈنٹس یونین (جے ایم آئی ایس یو ) کی بحالی کے مطالبے کو لے کر گزشتہ ۱۳؍ دنوں سے دھرنے اور بھوک ہڑتال پر بیٹھیں ہیں، نے واضح کیا ہے کہ ان کا احتجاج تمام مطالبات کی مکمل منظوری تک جاری رہے گا۔ سنیچر کو جاری کردہ ایک پریس بیان میں، موومنٹ فار ریسٹوریشن آف جے ایم آئی اسٹوڈنٹس یونین نے کہا کہ یونیورسٹی میں گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کوئی اسٹوڈنٹس یونین نہیں ہے۔ طلبہ نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کا رویہ، اپنی ہائی لیول کمیٹی (ایچ ایل سی) کے ذریعے، ’’جزوی، تاخیر کا شکار اور کئی جگہوں پر گمراہ کن‘ ‘ رہا ہے۔احتجاجی طلبہ نے مطالبہ کیا کہ یونین کے آئین کا خاکہ تیار کرنے کی ایک طے شدہ مدت اور الیکشن کی حتمی تاریخ کے ساتھ فوری طور پر الیکشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ، احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف کی گئی تمام ڈسپلنری (تادیبی) کارروائیوں کو منسوخ کیا جائے اور تحریری ضمانت دی جائے کہ احتجاج میں حصہ لینے والے کسی بھی طالب علم کے خلاف آئندہ کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ان کا تیسرا مطالبہ چیف پروکٹر اور سیکیورٹی ایڈوائزر کی برطرفی یا ان کا استعفیٰ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی میں مرکزی دستوں کی تعیناتی میں توسیع
دریں اثناءطلبہ نے انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ’’ جے ایم آئی-ایس یو کانسٹی ٹیوشن ڈرافٹ کمیٹی‘‘ کے نوٹیفکیشن کو مسترد کر دیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اسے یوں پیش کیا جا رہا ہے جیسے ان کا مطالبہ پورا کر دیا گیا ہو، بیان میں کہا گیا، ’’ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ڈرافٹنگ کمیٹی کی تشکیل ہمارے مطالبات کا صرف ایک حصہ تھی۔‘‘ انہوں نے نشاندہی کی کہ خود ہائی لیول کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جے ایم آئی ایکٹ کی دفعہ ۲۳؍ (جے) اور (کے) گزشتہ بیس سالوں سے التوا (معطلی) کا شکار ہے۔ طلبہ نے کہا، ’’یہ بیس سالہ خاموشی خود انتظامیہ کی اپنی ناکامی ہےاور اسے اب الیکشن میں مزید تاخیر کیلئے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بغیر کسی حتمی مدت کی کمیٹی کوئی ٹھوس وعدہ نہیں ہوتی۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ جامعہ میں اس طرح کے عمل میں کتنا وقت لگتا ہے۔‘‘
مزید برآں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کو جمہوری حق قرار دیتے ہوئے طلبہ نےتبصرہ کیا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے برقرار رکھی گئی لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات یونیورسٹیوں سے باقاعدگی سے الیکشن کروانے کی توقع رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم ایک واضح ٹائم لائن اور الیکشن کی تاریخ کا مطالبہ کر رہے ہیں، نہ کہ کسی غیر حتمی اور زبانی یقین دہانی کا۔‘‘علاوہ ازیں تادیبی کارروائی کے معاملے پر طلبہ نے کہا کہ ان کا مطالبہ کارروائی کی ’’منسوخی‘‘ تھا، نہ کہ اس کا ’’جائزہ۔‘‘ ہائی لیول کمیٹی کا نوٹیفکیشن صرف حکام سے کارروائی کا ’’جائزہ ‘‘ لینے کی درخواست کرتا ہے اور طلبہ سے کہتا ہے کہ وہ ’’ راحت حاصل کرنے کیلئے آزاد ہیں۔‘‘ طلبہ کے مطابق، یہ طریقہ کار بوجھ دوبارہ انہی طلبہ پر ڈالتا ہے جنہیں اپنی آواز اٹھانے کی سزا دی گئی تھی۔ انہوں نے بلا مشروط منسوخی کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: اروناچل میں چین کی دراندازی، سرکار خاموش، کانگریس حملہ آور
بعد ازاں طلبہ نے ہائی لیول کمیٹی کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا کہ کسی بھی طالب علم کے ساتھ جان بوجھ کر یا منصوبہ بند طریقے سے غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا گیااور ان کی شکایتوں کو ’’جذبات کی رو میں پیدا ہونے والی مزاحمت‘‘قرار دے کر خوار کرنے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے یاد دلایا کہ ۱۷؍ اکتوبر کو صبح ساڑھے ۵؍ بجے کے قریب، جب مظاہرین سو رہے تھے، انتظامیہ نے بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کو احتجاجی جگہ سے زبردستی ہٹانے کی کوشش کی تھی۔بیان میں کہا گیا، ’’ پُرامن اور بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے خلاف اس وقت کی جانے والی کارروائی کوئی جذباتی ردِعمل نہیں تھا، بلکہ ایک منصوبہ بند آپریشن تھا۔‘‘ اس کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے طلبہ نے چیف پروکٹر اور سیکیورٹی ایڈوائزر کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا، ’’کوڈ آف کنڈکٹ اور سیکیورٹی عملے کی تربیت اعلیٰ عہدیداروں کی جوابدہی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔‘‘
کیمپس میں کی گئی وال پینٹنگز اور نعرے بازی سے متعلق تنازع کا جواب دیتے ہوئے طلبہ نے کہا کہ کچھ نعروں کا حوالہ دے کر جاری احتجاج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ میڈیا اور انتظامیہ کی جانب سے یونین کی بحالی کے اصل مطالبے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہماری جنگ کیمپس میں جمہوریت کی بحالی کیلئے ہےاور اس پُرامن احتجاج کو بدنام کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کیا جائے گا۔ یہ احتجاج طلبہ کے جمہوری حقوق کیلئے ہے اور یہ تمام شہریوں کے جمہوری حقوق کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سماجی تنظیموں کا شدید احتجاج، عوامی پارلیمنٹ کا انعقاد
واضح رہے کہ ہائی لیول کمیٹی نے طلبہ، اساتذہ، عملے اور سابق طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے کیلئے منائیں۔ اس کے جواب میں، طلبہ نے بھی جامعہ برادری سے اپنے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی ہے۔بیان میں کہا گیا، ’’جو یونیورسٹی آزادی کی جدوجہد کی اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہے، وہ اپنے ہی طلبہ کو جمہوری آواز سے محروم نہیں رکھ سکتی۔ ہم بات چیت کیلئے تیار ہیں، لیکن بات چیت کا نتیجہ ٹھوس، تحریری اور وقت کے پابند وعدوں کی شکل میں نکلنا چاہئے۔ تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔‘‘اس کے ساتھ ہی جامعہ اسٹوڈنٹس فار اسٹوڈنٹس یونین کی طرف سے جاری کردہ اس بیان کا اختتام ’’جامعہ زندہ باد‘‘ اور ’’ریسٹور جے ایم آئی ایس یو‘‘ (جے ایم آئی ایس یو بحال کرو)کے نعروں پر ہوا۔