Updated: October 24, 2026, 9:12 PM IST
| Tel Aviv
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے لیے امریکی فوجی حمایت کا خاتمہ کچھ وقت کی بات ہے، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کی امریکی فوجی حمایت کے خاتمے کی عادت ڈالنی چاہیے اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل معیشت تیار کرنی چاہیے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ملک کو اربوں ڈالر کی امریکی فوجی امداد کے خاتمے کے لیے تیار رہنا چاہیے، اس امکان کو ’’کچھ وقت کی بات‘‘ قرار دیتے ہوئے، مزید کہا کہ اسرائیل کو بڑھتی ہوئی بین الاقوامی پابندیوں سے بچنے کے لیے ایک متبادل ڈیجیٹل معیشت تیار کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔سخت مقابلہ والے انتخابات سے چند دن قبل بات کرتے ہوئے، نیتن یاہو، جنہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ اور جاری بدعنوانی کی کارروائیوں کا سامنا ہے، نے اسرائیل کے بزنس براڈکاسٹر چینل ۱۰؍ کو بتایا کہ انہوں نے بشمول متبادل مالیاتی ٹیکنالوجیز کی تلاش ،ممکنہ معاشی اور بینکنگ پابندیوں کی تیاریوں کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج نے گولی مار کر۲؍ فلسطینیوں کوشہید کر دیا
انہوں نے کہا، بظاہر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی، مغربی کنارے پر وحشیانہ قبضے، اور فلسطینیوں کے تقریباً روزانہ قتل عام کی روشنی میں ایسی حمایت کی امریکہ میں بڑھتی ہوئی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئےاگر آپ سوچتے ہیں کہ ہمیں وہ ملتا رہے گا جو میں نے دو بار حاصل کیا، اور وہ دفاعی بجٹ کے لیے اربوں ڈالر کی امریکی امداد ہے، تو اپنے آپ کو تیار کریں اور اس حقیقت کی عادت ڈالیں کہ ایسا نہیں ہوگا، کیونکہ امریکہ بدل گیا ہے۔یہ ختم ہو گیا ہے، اور یہ ختم ہو جائے گا۔ یہ صرف وقت کی بات ہے۔‘‘حالانکہ نیتن یاہو نے امداد کے خاتمے کی کوئی تاریخ نہیں دی اور نہ ہی کوئی باضابطہ امریکی فیصلے کا اعلان کیا، بلکہ ممکنہ مستقبل میں روک تھام کی تیاریوں کا مطالبہ کیا۔مزید برآں ممکنہ پابندیوں پر، انہوں نے کہا کہ’’ اسرائیل کو متبادل معاشی اور مالیاتی میکانزم تیار کرنا چاہیے۔آپ کو سمجھنا ہوگا کہ پابندیاں لگ سکتی ہیں، بشمول بینکنگ پابندیاں۔ آپ کو ایک ایسی معیشت تیار کرنے کی ضرورت ہے جو ان سے بچ سکے۔‘‘
بعد ازاں جب پوچھا گیا کہ کیا بلاک چین ٹیکنالوجی معاشی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے ایک متبادل پیش کر سکتی ہے، تو نیتن یاہو نے جواب دیا: ہاں، یہ ایک طریقہ ہے۔ اور میں نے پہلے ہی ایک منصوبہ تیار کرنے کو کہا ہے۔جبکہ نیتن یاہو نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس ملک سے پابندیوں کی توقع رکھتے ہیں۔لیکن ان کے تبصرےبرطانیہ اور کئی دیگر ممالک کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے سامان پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں، جو فلسطینیوں پر آباد کاروں کے حملوں کی لہر اور نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت کی طرف سے منظور شدہ بستیوں کی تعمیر کے جواب میں ہیں۔واضح رہے کہ نیتن یاہو کا امریکی انتظامیہ کے ساتھ اب بھی قریبی اتحاد ہے لیکن جب سے غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی ہوئی ہے، امریکہ میں اسرائیل کی مخالفت بڑھ رہی ہے، خاص طور پر نوجوان امریکیوں میں۔
یہ بھی پڑھئے: فلسطین: زیتون کی کٹائی کے موسم میں یہودی آباد کاروں کے حملے بڑھ گئے
وسط پرست سابق وزیر اعظم یائر لاپڈ، جو نیتن یاہو کو چیلنج کرنے والے اپوزیشن بلاک کا حصہ ہیں، نے ان ریمارکس پر تنقید کی۔لاپڈ نے کہا، ’’نیتن یاہو اب اپنے الفاظ میں تسلیم کرتے ہیںکہ اگر ان کی حکومت دوبارہ منتخب ہوئی تو امریکی سیکیورٹی امداد ختم ہو جائے گی اور اسرائیل کو ایسی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو ہماری معیشت کو تباہ کر دیں گی، قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا باعث بنیں گی، اور ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی ۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ نیتن یاہو کے تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب وہ ایران پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، جس نے سخت بین الاقوامی پابندیوں کے تحت کرپٹو کرنسی اور دیگر متبادل معاشی اقدامات کو اپنایا ہے۔اپوزیشن ڈیموکریٹس پارٹی کے لیڈر یائر گولان نے بھی نیتن یاہو کے تبصرے پر تنقید کرتے ہوئے ان پر حقیقت سے لاتعلق ہونے کا الزام لگایا۔انہوں نے دلیل دی کہ معاشی پابندیوں کو روکنے کے لیے ’’یہودی دہشت گردی‘‘ کا مقابلہ کرنا ضروری ہے جو اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے، اسٹریٹجک اتحادوں کو محفوظ رکھنا، اور اگلے ہفتے کے انتخابات میں حکومت کو تبدیل کرنا ضروری ہے۔علاوہ ازیں گولان نے نیتن یاہو، بین گویر اور ڈیری کے بغیر ایک نئی حکومت کا مطالبہ کیا، جس سے انتہا پسند سیاست دانوں ایتامار بین گویر اور شاس پارٹی کے لیڈر آریہ ڈیری کا حوالہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی چھاپے کے دوران ۱۰؍ فلسطینی فنکاروں نے تحفظ دیا: یہودی امریکی اداکار
دریں اثناء یہ تبصرے اسرائیل میں منگل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے چار دن قبل، مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات اور معاشی پابندیوں کے ممکنہ نتائج کے بارے میں بحث کے درمیان سامنے آئے ہیں۔یا د رہے کہ ۲۰۱۶ء میں واشنگٹن کے ساتھ دستخط شدہ معاہدے کے تحت، اسرائیل کو۲۰۲۸ء میں ختم ہونے والی۱۰؍ سالہ مدت میں۳۸؍ ارب ڈالر کی فوجی امداد ملتی ہے۔