Updated: October 24, 2026, 7:02 PM IST
| Tokyo
سیمی عبید کا کہنا ہے کہ جاپانی امیگریشن حکام نے انہیں تقریباً ۲۴؍ گھنٹے ایک کمرے میں تنہا رکھنے کے بعد امریکہ واپس بھیج دیا۔ وہ ٹوکیو میں اسٹینڈ اَپ کامیڈی کے دو پروگرام کرنے پہنچے تھے، لیکن حکام نے بتایا کہ ان کے پاس تفریحی فنکار کے طور پر کام کرنے کا مطلوبہ ویزا نہیں تھا۔ کامیڈین نے ویزا کے معاملے میں اپنی غلطی تسلیم کی، تاہم یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا گیا۔ جاپانی حکام کی جانب سے واقعے پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
فلسطینی نژاد امریکی اسٹینڈ اَپ کامیڈین سیمی عبید۔ تصویر: ایکس
فلسطینی نژاد امریکی اسٹینڈ اَپ کامیڈین سیمی عبید نے دعویٰ کیا ہے کہ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو پہنچنے پر انہیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی اور تقریباً ۲۴؍ گھنٹے تنہا رکھا گیا۔ وہ وہاں دو کامیڈی شوز کرنے والے تھے، لیکن امیگریشن حکام نے انہیں بتایا کہ ان کے پاس تفریحی فنکار کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے ضروری ویزا موجود نہیں ہے۔ عبید نے ۲۳؍ اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے شو کے لیے انہیں تنہا رکھا گیا جس میں تقریباً ۴۰؍ افراد کے شریک ہونے کی توقع تھی۔ عبید کے مطابق، وہ اپنے دو ساتھی کامیڈینز کے ساتھ پروگراموں سے دو دن پہلے ٹوکیو پہنچے تھے۔ ان دونوں کو جاپان میں داخلے کی اجازت مل گئی، لیکن انہیں امیگریشن حکام نے روک لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکام نے انہیں ’’سیکوریٹی وجوہات‘‘ کا حوالہ دے کر ایک کمرے میں رکھا اور ایک مترجم کے ذریعے ان سے ان کے پیشے، جاپان میں قیام کے منصوبے اور آئندہ سفر کے بارے میں سوالات کیے۔ ان سے چار روزہ قیام کا گھنٹہ بہ گھنٹہ پروگرام بھی طلب کیا گیا۔ عبید نے بتایا کہ ان کے پاسپورٹ اور سامان کی بھی جانچ کی گئی۔
معاملے کا بنیادی سبب ویزا قرار دیا گیا۔ جاپانی حکام نے عبید کو بتایا کہ ان کے پاس اسٹیج پر پرفارم کرنے کے لیے مطلوبہ اجازت نہیں ہے۔ جاپان میں غیر ملکی فنکاروں کے لیے ’’انٹرٹینر‘‘ کیٹیگری کے تحت مخصوص رہائشی اجازت نامے اور متعلقہ دستاویزات درکار ہوسکتی ہیں۔ جاپانی وزارتِ خارجہ کے قواعد کے مطابق، سیاحت یا کاروباری ملاقاتوں کے لیے مختصر قیام کی اجازت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص معاوضے کے عوض پرفارم بھی کرسکتا ہے۔ فنکارانہ سرگرمیوں کے لیے ویزا اور اسپانسرشپ کی شرائط شو کے انتظامات اور ادائیگی کے طریقے کے مطابق لاگو ہوتی ہیں۔ عبید نے بھی تسلیم کیا کہ وہ مطلوبہ اسپانسرشپ حاصل نہیں کرسکے تھے۔ ان کے مطابق، جاپان میں کوئی ادارہ انہیں براہِ راست ادائیگی نہیں کررہا تھا اور ٹکٹ ایک امریکی پلیٹ فارم کے ذریعے فروخت کیے جارہے تھے۔ چھوٹے مقامات پر ہونے والے پروگراموں کے لیے مناسب اسپانسر تلاش کرنا مشکل تھا، جبکہ جن لوگوں سے انہوں نے مشورہ کیا تھا، ان کا خیال تھا کہ انہیں داخلے میں مسئلہ نہیں ہوگا۔ ماضی میں جاپان کے سفر کے تجربے نے بھی انہیں یہی توقع دلائی تھی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’اور ہاں، اس کا اندازہ نہ لگا پانا میری غلطی ہے۔‘‘ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ محدود تعداد میں مداحوں کے لیے شو منعقد کرنے کا یہی عملی طریقہ انہیں دستیاب دکھائی دے رہا تھا۔
کامیڈین کے مطابق، حکام نے انہیں فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اختیار بھی دیا، لیکن بتایا کہ اس عمل میں ۷۲؍ گھنٹے لگ سکتے ہیں اور اس دوران انہیں وہیں رہنا ہوگا۔ عبید نے اپیل کے بجائے جاپان چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس کے بعد بھی انہیں تقریباً ۲۲؍ گھنٹے تنہا رکھا گیا، جہاں ان کے پاس کھانا، نہانے کی سہولت، موبائل فون، لیپ ٹاپ، کتابیں یا لکھنے پڑھنے کا سامان نہیں تھا۔ ان کے مطابق، حکام نے ان کے سامان کی اسلحے اور منشیات کی تلاش میں تلاشی بھی لی۔ ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور جاپانی حکام نے ان کے بیان پر عوامی ردعمل نہیں دیا تھا۔عبید نے یہ بھی کہا کہ وہ جاپان سے ہانگ کانگ یا تائیوان جانے کے خواہش مند تھے، لیکن حکام نے انہیں اسی ایئرلائن سے امریکہ واپس بھیجنے پر اصرار کیا جس سے وہ جاپان پہنچے تھے۔ ان کا خیال ہے کہ انہیں غیر معمولی طور پر نشانہ بنایا گیا، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا کہ ان کے ساتھ کارروائی کی وجہ ان کے سیاسی خیالات یا فلسطین سے متعلق ان کا مؤقف تھا۔ ان کی اس تشویش اور ویزا کی خلاف ورزی کے معاملے کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے: عبید نے خود بھی ویزا حاصل نہ کرپانے کی ذمہ داری قبول کی، جبکہ ان کے ساتھ حراست کے دوران ہونے والے سلوک سے متعلق دعووں کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔
اس واقعے کے باعث ٹوکیو میں ان کے ۲۳؍ اور ۲۴؍ اکتوبر کو ہونے والے پروگرام منسوخ ہوگئے۔ عبید نے جاپان میں اپنے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے ٹکٹ کی رقم واپس لینے، دنیا کے کسی دوسرے شہر میں ان کے شو میں شرکت یا مستقبل میں جاپانی مداحوں کے لیے آن لائن پروگرام دیکھنے کے متبادل پیش کیے۔ وہ اس سے پہلے بھی جاپان میں پرفارم کرچکے ہیں اور ۲۰۲۵ء میں ٹوکیو انٹرنیشنل کامیڈی فیسٹیول کے چاروں شوز کے ٹکٹ فروخت ہونے کی اطلاعات تھیں۔ سیمی عبید امریکی ٹیلی ویژن پروگرام ’’کونن‘‘، ’’امریکاز گاٹ ٹیلنٹ‘‘ اور نیٹ فلکس کی سیریز ’’ ۱۰۰؍ ہیومنز‘‘ میں بھی نظر آچکے ہیں۔ وہ اپنے کامیڈی پروگراموں میں فلسطین، اسرائیل اور غزہ کی جنگ جیسے سیاسی موضوعات کو بھی شامل کرتے ہیں۔ گزشتہ سال سنگاپور میں ان کے پروگراموں کی اجازت کا معاملہ بھی تنازع کا سبب بنا تھا؛ عبید نے دعویٰ کیا تھا کہ حکام نے ان سے فلسطین اور اسرائیل سے متعلق مواد میں تبدیلی کا مطالبہ کیا، جبکہ سنگاپور کے متعلقہ ادارے نے ان کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست مقررہ وقت سے دیر سے جمع کرائی گئی تھی۔ جاپان کے حالیہ واقعے میں بھی اصل سوال یہی ہے کہ ویزا سے متعلق ضوابط کے اطلاق اور حراست کے دوران سلوک کو الگ الگ شواہد کی بنیاد پر جانچا جائے۔