’ٹرائی ‘ کے نام سے فون کیاگیا، فریب دہی کی واردات۲۴؍ دسمبر سے ۹؍ جنوری تک جاری رہی، متاثرین کے بچے امریکہ میں مقیم ہیں۔
فراڈ کا شکار ہونےوالی ڈاکٹر اِندرا تنیجا اپنے شوہر کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
دہلی کے گریٹر کیلاش میں مقیم ایک معمر ڈاکٹر جوڑے کو سائبر مجرموں نے ۲؍ ہفتے تک ’’ڈجیٹل اریسٹ‘‘ رکھ کر ۸۵ء۱۴؍ کروڑ روپے لوٹ لئے۔ واضح رہے کہ ’’ڈجیٹل اریسٹ ‘‘ نام کی کوئی گرفتاری نہیں ہوتی بلکہ یہ آن لائن فراڈ کا طریقہ ہے۔اس میں دھوکہ باز خود کو پولیس، سی بی آئی، جج، یا کسی سرکاری ایجنسی کا افسر باور کراتے ہیںاور فون یا ویڈیو کال کے ذریعہ اپنے شکار کو یہ تاثر وہ اُن کی نگرانی میں ’’ڈجیٹل اریسٹ‘‘ہیں۔ اپنے شکار کو عام طورپر وہ یہ کہہ کر ڈراتے ہیں کہ ان کے نام سے کسی جرم کا ارتکاب ہوا ہے،اس کے بعد وہ متاثرہ شخص کو قانونی کارروائی سے رعایت دینے کے نام پر مختلف بینک کھاتوں میں اس سے رقم منتقل کرواتے ہیں۔
گریٹر کیلاش میں رہنےوالے ڈاکٹر جوڑے کے ساتھ دھوکہ دہلی کی واردات ۲۴؍ دسمبر سے ۹؍ جنوری تک جاری رہی۔پولیس کے مطابق اس دوران ملزمین نے خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کے طور پر پیش کیا اور معمر جوڑے کو قانونی کارروائی سے ڈرا کر بینک کھاتوں میں بڑی رقم منتقل کرنے پر مجبور کیا۔ ۹؍ جنوری کو فراڈ کا سلسلہ ختم ہونے کے بعد سنیچر ۱۰؍ جنوری کو ای ایف آئی آر درج کی گئی جس کے بعد دہلی پولیس کی سائبر کرائم یونٹ نے تفتیش شروع کر دی ہے۔اپنے ساتھ کی گئی آن لائن ٹھگی کی تفصیل ڈاکٹر اندرا تنیجا نے فراہم کی۔ انہوں نے بتایا کہ۲۴؍دسمبرکی دوپہر کو مجھے ایک شخص کا فون آیا ۔ اس نے خود کو ٹرائی (ٹیلی کوم ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا)کا اہلکار بتایا اور کہا کہ فحش کالز اور شکایات کی وجہ سے میرا نمبر بند کر دیا جائیگا۔‘‘