Updated: January 12, 2026, 10:59 AM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کو سخت انتباہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب وینزویلا سے کیوبا کو کوئی تیل یا مالی مدد نہیں ملے گی، اور ہوانا کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر معاہدہ کرے۔ کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینل نے ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی اخلاق جواز نہیں ہے کہ کیوبا کو معاہدےکیلئے مجبور کرے۔
ٹرمپ اور کیوبا کے صدرمیگوئیل ڈیاز کینل۔ تصویر: آئی این این
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو کیوبا کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب اسے وینزویلا سے ’’صفر‘‘ تیل یا پیسہ ملے گا، اور کیوبا کی قیادت پر زور دیا کہ وہ’’بہت دیر ہونے سے پہلے کوئی معاہدہ کر لے۔ ‘‘ یہ بیان ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے سامنے آیا، جو جزیرہ نما ملک کے خلاف امریکی لہجے میں نمایاں شدت کی علامت ہے۔ ٹرمپ نے اتوار کی صبح سویرے ٹروتھ سوشل پر لکھا:’’کیوبا کئی برسوں تک وینزویلا سے بڑی مقدار میں تیل اور پیسے پر زندہ رہا۔ اس کے بدلے میں، کیوبا نے وینزویلا کے پچھلے دو آمروں کو ’ سیکوریٹی سروسیز‘ فراہم کیں، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا!‘‘انہوں نے مزید کہا:’’اب کیوبا کو کوئی تیل یا پیسہ نہیں ملے گا صفر! میں پرزور مشورہ دیتا ہوں کہ وہ بہت دیر ہونے سے پہلے کوئی معاہدہ کر لیں۔ ‘‘ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کو یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس طرح کا معاہدہ چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیوں پر ایران کا انتباہ، اسرائیل ہائی الرٹ
کیوبا کا رد عمل
دوسری جانب کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینل نے ڈونالڈ ٹرمپ کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی اخلاق جواز نہیں ہے کہ کیوبا کو معاہدےکیلئے مجبور کرے۔ ’ ایکس ‘پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ کیوبا ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے، کوئی ہمیں ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا نے حملہ نہیں کیا، بلکہ اس پر۶۶؍ برسوں سے امریکہ کی جانب سے حملہ کیا جا رہا ہے اور یہ دھمکی نہیں دیتا بلکہ تیاری کرتا ہے، خون کے آخری قطرے تک مادر وطن کے دفاع کیلئے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ گرین لینڈ پر حملے کیلئے سنجیدہ، ٹرمپ کا فوجی سربراہوں کو منصوبے کا حکم
یہ کیوں اہم ہے
یہ انتباہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی امریکی کارروائی میں گرفتاری کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، اور اسی کے ساتھ واشنگٹن میں ہوانا میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ واقعات مغربی نصف کرے (ویسٹرن ہیماسفیئر) میں امریکی خارجہ پالیسی میں ایک وسیع تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں، جو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت گیر حکمتِ عملی، پرانے اتحادوں کو توڑنے اور ممکنہ طور پر خطے کے سفارتی اور معاشی منظرنامے کو نئی شکل دینے کی آمادگی کو ظاہر کرتی ہے۔ چونکہ کیوبا کی معیشت بڑی حد تک وینزویلا کے سبسڈی شدہ تیل پر انحصار کرتی ہے، اس لئے ٹرمپ کی جانب سے اچانک کٹوتی کی دھمکی عام کیوبن شہریوں اور واشنگٹن-ہوانا تعلقات پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔