بی ایم سی میں برسوں سے ایک وارڈ ایک کارپوریٹر کی طرز پرالیکشن ہو رہا ہے اور اسی اعتبار سے اس الیکشن میں بھی ہر وارڈ میں ووٹروں کو ان کے پسند کے کارپوریٹر کو چننے کیلئے ایک ہی ووٹ دینا ہے۔
ممبئی میں انتخابی عملہ ووٹنگ کی تیاریوںمیں مصروف۔ تصویر:پی ٹی آئی
ان دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ووٹروں کو اس الیکشن میں ۴ ؍ووٹ دینے کی بات بتائی جارہی ہے۔ اس ویڈیو سے ممبئی میں رہنے والے ووٹروں میں یہ تذبذب پایا جارہا ہے اور ان کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا انہیں بھی اس بی ایم سی الیکشن میں ۴؍ووٹ دینا ہے؟ تو اس کا جواب ہے نہیں! الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن(بی ایم سی ) میں برسوں سے ایک وارڈ ایک کارپوریٹر کی طرز پرالیکشن ہو رہا ہے اور اسی اعتبار سے اس الیکشن میں بھی ہر وارڈ میں ووٹروں کو ان کے پسند کے کارپوریٹر کو چننے کیلئے ایک ہی ووٹ دینا ہے۔ جو ویڈیو گشت کر رہا ہے وہ ان میونسپل کارپوریشن کے ووٹروں کیلئے ہیں جہاں پر ایک سے زیادہ وارڈوں پر مشتمل پینل سسٹم نافذ کیا گیا ہے اور ممبئی اس سے مستثنیٰ ہے ۔ البتہ دیگر۲۸؍ میونسپل کارپوریشن میں ۳؍ یا ۴؍ وارڈوں کو ملا کر پینل تشکیل دیاگیاہے۔اگر ۴؍ وارڈوں کا پینل ہے تو وہاں کے ہر ووٹر کو ۴۔۴؍ووٹ دینے ہوں گے یعنی پینل کے ہر حصہ : اے ، بی ، سی اور ڈی میں ایک ایک ووٹ اس طرح ۴؍ ووٹ اور اگر ان کے علاقے میں ۳؍ وارڈوں کو ملا کر ایک پینل بنایا گیا ہے تو وہاں پر پینل کے ہر حصے یعنی اے ، بی اور سی کیلئے ایک ایک ووٹ یعنی ۳؍ ووٹ دینا ہے۔
کن میونسپل کارپوریشنوں میں پینل سسٹم ہیں
معتبر ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق درج ذیل ۲۸؍ میونسپل کارپوریشن میں پینل سسٹم نافذ کیا گیا ہے:۱۔تھانے میونسپل کارپوریشن،۲۔نوی ممبئی میونسپل کارپوریشن، ۳۔الہاس نگر میونسپل کارپوریشن، ۴۔ کلیان- ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن، ۵۔بھیونڈی- نظام پور میونسپل کارپوریشن،۶۔میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن، ۔وسئی ویرار میونسپل کارپوریشن، ۸۔پنویل میونسپل کارپوریشن، ۹۔پونے میونسپل کارپوریشن، ۱۰۔پمپری چنچواڑ میونسپل کارپوریشن، ۱۱۔شولاپور میونسپل کارپوریشن، ۱۲۔کولہاپور میونسپل کارپوریشن، ۱۳۔اچل کرنجی میونسپل کارپوریشن، ۱۴۔سانگلی ۔میرج۔ کپواڑ میونسپل کارپوریشن، ۱۵۔ناسک میونسپل کارپوریشن، ۱۶۔مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن، ۱۷۔ اہلیہ نگر (احمد نگر) میونسپل کارپوریشن، ۱۸۔جلگاؤں میونسپل کارپوریشن، ۱۹۔دھولیہ میونسپل کارپوریشن، ۲۰۔ چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد) میونسپل کارپوریشن، ۲۱۔ناندیڑ- واگھالا میونسپل کارپوریشن، ۲۲۔ پربھنی میونسپل کارپوریشن، ۲۳۔ جالنہ میونسپل کارپوریشن،۲۴۔لاتور میونسپل کارپوریشن، ۲۵۔ امراؤتی میونسپل کارپوریشن، ۲۶۔ اکولہ میونسپل کارپوریشن، ۲۷۔ ناگپور میونسپل کارپوریشن، ۲۸۔چندرپور میونسپل کارپوریشن۔
بی ایم سی پینل سسٹم سے مستثنیٰ کیوں؟
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن( بی ایم سی) نے اپنے وارڈوں کی بڑی آبادی اور سائز کی وجہ سے واحد رکنی وارڈ سسٹم کو برقرار رکھا ہے ۔ بی ایم سی کو اس لئے بھی دیگر میونسپل کارپوریشن میں الگ رکھا گیاہے کیونکہ اس کا علاحدہ قانون بی ایم سی ایکٹ ۱۸۸۸ء ہے جس کے تحت یہ کام کرتی ہے۔
پینل سسٹم کا جواز
پینل سسٹم نافذ کرنے کا ایک جوازیہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس سے شہریوں کو ان کے علاقے کی ترقی کیلئے ایک سے زیادہ کارپوریٹر مل جاتے ہیں اور اس طرح کوئی علاقہ ترقی سے محروم نہیں ہو گا۔کیونکہ اگر پینل کا ایک کارپوریٹر کسی علاقوں کی ترقیاتی کام کیلئے فنڈ نہیں دیتا تو دوسرا دے سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ جواز بھی پیش کیاجاتا ہےکہ پینل سسٹم میں ایک الیکشن آفیسر( پی او) ایک سے زیادہ وارڈوں کا الیکشن منعقد کر سکتا ہے جس سے کم الیکشن آفیسرکا تقرر کیاجاتا ہے اور الیکشن پر ہونا والا خرچ کم ہوتا ہے۔