Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی ہائی کورٹ کا نیوزلانڈری کو ٹی وی ٹوڈے کے خلاف توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم

Updated: March 20, 2026, 7:48 PM IST | New Delhi

دہلی ہائی کورٹ نے نیو سلاؤنڈری کو ٹی وی ٹوڈے گروپ کے خلاف مبینہ توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم دیا، عدالت نے اسے ممکنہ طور پر نقصان دہ قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ مواد برقرار رہا تو اس سے ٹی وی ٹوڈے کو سنگین اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Delhi High Court. Photo: INN
دہلی ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو ڈجیٹل نیوز آؤٹ لیٹ نیو سلاؤنڈری کو ہدایت دی کہ وہ ٹی وی ٹوڈے گروپ اور اس کے چینلز آج تک اور انڈیا ٹوڈے کے بارے میں مبینہ طور پر توہین آمیز ویڈیوز اور پوسٹس ہٹا دے۔ جسٹس سی ہری شنکر اور جسٹس اوم پرکاش شکلا پر مشتمل ڈویژن بینچ نے قرار دیا کہ نیو سلاؤنڈری کے کچھ بیانات توہین آمیز ہیں۔ اگر ان بیانات کو نہ ہٹایا گیا تو یہ ٹی وی ٹوڈے کو سنگین اور ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اکتوبر۲۰۲۱ء میں، ٹی وی ٹوڈے گروپ نے۲؍ کروڑ روپے کا ہتکِ عزت اور کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ دائر کیا تھا جس میں نیو سلاؤنڈری پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ’خلافِ قانون، ہتک آمیز اور تجارتی طور پر نقصان دہ مواد اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر رہا ہے۔ ‘

یہ بھی پڑھئے: رتناگیری میں دائود ابراہیم کی آبائی جائیداد کی نیلامی، ممبئی کے باشندےنے خریدی

جولائی ۲۰۲۲ءمیں، ہائی کورٹ کے ایک سنگل جج بنچ نے ابتدائی طور پر قرار دیا تھا کہ یہ معاملہ بظاہر ٹی وی ٹوڈے گروپ کے حق میں نظر آتا ہے۔ نیو سلاؤنڈری اور ٹی وی ٹوڈے دونوں نے جولائی۲۰۲۲ءکے حکم کے خلاف اپیلیں دائر کی تھیں۔ نیو سلاؤنڈری نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ سنگل جج کا فیصلہ اس بات کو درست طور پر نہیں سمجھ سکا کہ اس کا مواد’جائز تنقید‘ اور’طنز‘ کے دائرے میں آتا ہے اور اس کا مقصد ٹی وی ٹوڈے کی بدنامی نہیں تھا۔ اپنی اصل درخواست میں، ٹی وی ٹوڈے گروپ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ نیو سلاؤنڈری کی ویب سائٹ پر موجود۳۴؍ مضامین اور اس کے یوٹیوب چینل پر موجود۶۵؍ ویڈیوز کو ہٹانے کا حکم دیا جائے۔ میڈیا گروپ نے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ ہائی کورٹ نیو سلاؤنڈری اور اس کے صحافیوں کو اس کے چینلز، اینکرز اور انتظامیہ کے بارے میں کسی بھی ہتک آمیز مواد کو’لکھنے، ٹویٹ کرنے یا شائع کرنے‘ سے روکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK