Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی ویزا کے ’’انتظار کے اوقات‘‘ میں ریکارڈ اضافہ

Updated: May 29, 2026, 7:03 PM IST | Mumbai

امریکی ویزا حاصل کرنے یا تجدید کرانے کے خواہش مند ہزاروں افراد ۲۰۲۶ء میں غیر معمولی تاخیر، محدود اپائنٹ منٹس اور سخت جانچ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ امیگریشن ماہرین کے مطابق یہ بحران کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران متعارف کرائی گئی متعدد پالیسی تبدیلیوں کا مجموعی اثر ہے۔ انٹرویو ویور پروگرام میں کمی، تیسرے ملک سے ویزا پروسیسنگ کے خاتمے، سوشل میڈیا جانچ کے دائرے میں توسیع اور گرین کارڈ سے متعلق نئی پالیسیوں نے امریکی قونصل خانوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ویزا کا ویٹنگ ٹائم کئی برس ہوگیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ جانے، وہاں ملازمت جاری رکھنے یا اپنے ویزوں کی تجدید کرانے کے خواہش مند افراد کے لیے ۲۰۲۶ء ایک غیر معمولی طور پر مشکل سال بن گیا ہے۔ امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا نظام اس وقت گزشتہ کئی برسوں کی بدترین تاخیر کا شکار ہے اور اس صورتحال نے ہزاروں طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور ان کے خاندانوں کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہیوسٹن میں قائم امیگریشن لا فرم Ready Neumann Brown PC کے مطابق موجودہ بحران کسی ایک حکومتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ متعدد پالیسی تبدیلیوں کے یکجا اثرات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی محکمہ خارجہ، امریکی شہریت و امیگریشن سروسیز (USCIS) اور قونصل خانوں کی جانب سے نافذ کی گئی نئی شرائط نے ویزا پروسیسنگ کے پورے نظام پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : اسرائیلی ہوائی اڈے پرامریکی طیاروں کی موجودگی سے محکمہ کو۲۴۸؍ ملین ڈالر کا نقصان

قانونی ماہرین کے مطابق سب سے پہلی بڑی تبدیلی فروری ۲۰۲۵ء میں سامنے آئی جب امریکی محکمہ خارجہ نے انٹرویو ویور پروگرام، جسے عام طور پر ’’ڈراپ باکس‘‘ سسٹم کہا جاتا ہے، کی اہلیت میں نمایاں کمی کر دی۔ اس سے قبل ایسے افراد جن کے ویزا کی مدت ختم ہوئے ۴۸؍ ماہ تک کا عرصہ گزر چکا ہوتا تھا، بغیر انٹرویو ویزا تجدید کرا سکتے تھے۔ تاہم نئی پالیسی کے تحت یہ مدت کم کرکے صرف ۱۲؍ ماہ کر دی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ہزاروں ایچ ون ویزا اور دیگر ویزا ہولڈرز، جو پہلے انٹرویو کے بغیر ویزا تجدید کرا سکتے تھے، دوبارہ ذاتی انٹرویو کی قطار میں شامل ہو گئے۔ اس اقدام نے دنیا بھر کے امریکی قونصل خانوں خصوصاً ہندوستان جیسے ممالک میں اپائنٹمنٹ کے نظام پر فوری دباؤ بڑھا دیا۔

یہ بھی پڑھئے : امریکی قانون کے برخلاف صدر ٹرمپ کی تصویر ڈالر پر چھاپنے کی تیاریاں

اس کے بعد جولائی ۲۰۲۵ء میں ایک اور اہم اعلان کیا گیا اور ۲؍ ستمبر ۲۰۲۵ء سے تقریباً تمام نان امیگرنٹ ویزا زمروں کے لیے ذاتی انٹرویو لازمی قرار دے دیا گیا۔ اس فیصلے کے تحت ۱۴؍ سال سے کم عمر بچوں اور ۷۹؍ سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے بھی پہلے سے موجود چھوٹ ختم کر دی گئی۔ صرف چند محدود زمروں، جیسے سفارت کاروں، بعض بی ون، بی ٹو ویزا تجدید کنندگان اور ایچ ٹو اے زرعی کارکنوں کو ڈراپ باکس سہولت برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔ ماہرین کے مطابق صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ۶؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایک اور پالیسی نافذ کی جس کے تحت درخواست دہندگان کو صرف اپنے آبائی ملک یا مستقل رہائش والے ملک میں ہی ویزا انٹرویو کی اجازت دی گئی۔ اس اقدام نے برسوں سے استعمال ہونے والی ’’تیسرے ملک کی قومی پروسیسنگ‘‘ (Third Country National Processing) کو تقریباً ختم کر دیا۔
اس پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہندوستانی شہری ہوئے، جو ماضی میں امریکہ کے ویزا انٹرویو کے لیے کنیڈا، میکسیکو یا دیگر ممالک کا رخ کرتے تھے تاکہ طویل انتظار سے بچ سکیں۔ نئی پابندی کے بعد یہ متبادل راستہ بند ہو گیا اور تمام درخواست دہندگان کو دوبارہ اپنے ملک کے پہلے سے دباؤ کا شکار قونصل خانوں پر انحصار کرنا پڑا۔ اسی دوران امریکی حکام نے ویزا درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی جانچ بھی مزید سخت کر دی۔ جون ۲۰۲۵ء میں طلبہ اور تبادلہ پروگراموں کے لیے ایف، ایم اور جے ویزا درخواست دہندگان کی سوشل میڈیا اسکریننگ شروع کی گئی، جبکہ دسمبر ۲۰۲۵ء میں اس کا دائرہ کار ایچ ون بی اور ایچ ۴؍ ویزا درخواست دہندگان تک بھی وسیع کر دیا گیا۔ امیگریشن ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا جانچ کے اضافی مراحل نے قونصلر افسران کے کام کا بوجھ نمایاں طور پر بڑھا دیا۔ خاص طور پر ممبئی اور حیدرآباد میں امریکی قونصل خانوں کو روزانہ کم تعداد میں انٹرویوز لینے پڑے، جس سے اپائنٹمنٹ کی دستیابی مزید محدود ہو گئی۔

یہ بھی پڑھئے : امریکہ کے مقابلے میں چین کی خفیہ طاقت،سستی بجلی نے اے آئی جنگ کا رخ بدل دیا

جنوری ۲۰۲۶ء تک صورتحال اس حد تک پہنچ گئی کہ ہندوستان کے پانچوں امریکی قونصل خانوں میں ایچ کیٹگری ویزا اسٹیمپنگ کے لیے ۲۰۲۶ء کے اختتام تک کوئی اپائنٹمنٹ دستیاب نہیں تھی۔ بعض درخواست دہندگان کو ابتدائی دستیاب تاریخیں مئی ۲۰۲۷ء تک دکھائی دینے لگیں، جس نے ملازمت، تعلیم اور سفری منصوبوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ۳۰؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو سوشل میڈیا جانچ کے قواعد مزید سخت کر دیے گئے اور مزید ویزا زمروں کو اس دائرے میں شامل کر لیا گیا، جس سے پراسیسنگ کا وقت مزید بڑھ گیا۔ ماہرین کے مطابق سب سے اہم اور دور رس اثرات رکھنے والی تبدیلی ۲۱؍ مئی ۲۰۲۶ء کو سامنے آئی، جب USCIS نے پالیسی میمورنڈم PM-602-0199 جاری کیا۔ اس میمورنڈم میں ’’ایڈجسٹمنٹ آف اسٹیٹس‘‘ یعنی امریکہ کے اندر رہتے ہوئے گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل کو صرف ’’غیر معمولی حالات‘‘ تک محدود قرار دیا گیا۔
ماضی میں فارم آئی ۴۸۵؍ کے ذریعے ہزاروں افراد امریکہ چھوڑے بغیر مستقل رہائش کے لیے درخواست دیتے تھے، لیکن نئی پالیسی کے بعد بیرون ملک قونصلر پروسیسنگ کو بنیادی راستہ قرار دیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس تبدیلی نے ہزاروں مزید افراد کو بیرون ملک امریکی قونصل خانوں کے ذریعے پراسیسنگ کے نظام میں دھکیلنے کا خطرہ پیدا کر دیا ہے، جو پہلے ہی شدید تاخیر کا شکار ہے۔ Ready Neumann Brown PC نے خبردار کیا ہے کہ اگر بڑی تعداد میں درخواست دہندگان کو قونصلر پروسیسنگ کی طرف منتقل کیا گیا تو موجودہ بیک لاگ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ فرم کے مطابق مختلف ویزا زمروں کے وہ گروپ جو پہلے الگ الگ پراسیس ہوتے تھے، اب ایک ہی اپائنٹمنٹ سسٹم کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں، جس سے انتظار کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : ۲۰۲۶ء سے ۲۰۳۰ء کے دوران درجۂ حرارت ریکارڈ سطح پر رہنے کا امکان: اقوامِ متحدہ

امیگریشن وکلاء کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی فوری یا یقینی حل موجود نہیں۔ اگرچہ بعض درخواست دہندگان ہنگامی یا تیز رفتار اپائنٹمنٹ کی درخواست دے سکتے ہیں، لیکن ان منظوریوں کا انحصار مکمل طور پر حکام کی صوابدید پر ہے اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ان کا حصول بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف ویزا درخواست دہندگان بلکہ امریکی کمپنیوں، جامعات اور عالمی کاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، کیونکہ ہنر مند کارکنوں، طلبہ اور بین الاقوامی پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور غیر یقینی ہو چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK